کرناٹک کے وزیر اعلی کب تک بچتے رہیں گے۔ایم ودود ساجد

کرناٹک ہائی کورٹ نے بنگلور کی سیشن عدالت کے اس فیصلہ کو پلٹ دیا ہے جس کے تحت کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایس یدیو رپا کے خلاف 8 کروڑ سے زائد کی بدعنوانی کے معاملے میں ان پر عاید مقدمہ ختم کردیا گیا تھا۔۔

یہ معاملہ دراصل 2012 کا ہے۔۔ اُس وقت بھی وہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ تھے۔۔ انہوں نے سرکاری تحویل میں لی گئی 24 ایکڑ زمین کو پرائیویٹ افراد کے حق میں بہت کم قیمت لے کر ریلیز کردیا تھا اور اس طرح حکومت کے خزانہ کو 8.50 کروڑ کا نقصان پہنچایا تھا۔۔ ان پر رشوت ستانی کا بھی الزام تھا۔۔

2012 میں سماجی رضاکار عالم پاشا نے وزیر اعلیٰ اور دیگر 12 افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا ۔۔ لوک آیکت پولیس نے ان کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کردی تھی لیکن بعد میں لوک آیکت پولیس نے ہی مقدمہ خارج کرنے کی سفارش کردی تھی۔۔ 2016 میں سیشن عدالت نے یہ مقدمہ خارج کرتے ہوئے یدیورپا کو بری کردیا تھا۔۔

اب کرناٹک ہائی کورٹ کے جسٹس جون میخائل چونا نے مقامی عدالت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملزمین کے خلاف عاید چارج شیٹ کو قبول کرتے ہوئے قانون کے مطابق مقدمہ کی کارروائی کو آگے بڑھائیں ۔۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں سپریم کورٹ بنام پنجاب کے ایک مقدمہ میں اسی طرح کے فیصلہ کو بطور نظیر پیش کرتے ہوئے کہا کہ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد مقدمہ ختم نہیں کیا جاسکتا ۔۔

واضح رہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی بنچ اس سلسلے میں بہت سخت رویہ اختیار کرتی رہی ہے اور حکومت ‘ سرکاری وکیلوں اور سیشن عدالتوں کو سخت ہدایت جاری کر رکھی ہے کہ سیاستدانوں کے خلاف عاید مجرمانہ مقدمات’ ٹرائل کے بغیر ختم نہ کئے جائیں ۔۔ اس کے باوجود بی جے پی حکومت نے اپنے 160 سے زیادہ لیڈروں پر عاید مقدمات واپس لے لیے ہیں ۔۔ چیف جسٹس نے اس پر حکومت سے جواب مانگا ہے۔۔ دیکھنا ہے کہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کب تک قانون کے شکنجہ سے بچتے رہیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*