کرناٹک بی جے پی میں کشیدگی،کانگریس اورجے ڈی ایس کو امکانات کی تلاش

بنگلورو:کرناٹک میں راجیہ سبھا انتخابات کے ذریعے سیاسی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔ کانگریس اور جے ڈی ایس مل کر راجیہ سبھاسیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ، بی جے پی میں بغاوت کے بڑھتے ہوئے آثار کودیکھ کرکانگریس اور جے ڈی ایس باغی رہنماؤں کی واپسی کے لیے سرگرم ہوگئی ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمارنے اس کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ اسی دوران ، کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ اورجے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمارسوامی نے کہاہے کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کی پارٹی کے لوگ بی جے پی میں گئے ہیں اور انہیں وہاں کچھ نہیں ملے گا۔کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمارپارٹی کی کمان سنبھالتے ہی سرگرم ہوگئے ہیں۔ ڈی کے شیوکمارنے مقامی رہنماؤں سے رابطہ کرنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ یہ نئی ٹیم ان لیڈران سے رابطہ کرے گی جوکانگریس چھوڑچکے ہیں۔ تاہم ، اہم سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس چھوڑ کربی جے پی میں شامل ہونے والے لیڈران پارٹی میں واپسی میں دلچسپی ظاہر کریں گے۔اسی کے ساتھ ہی ،سابق وزیراعلیٰ اورجے ڈی ایس لیڈرایچ ڈی کمارسوامی نے باغی لیڈروں پرنظرجماناشروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ جے ڈی ایس چھوڑ کر بی جے پی جانے والے لیڈران کوایک دن پچھتاواہوگا۔ظاہر ہے ، بی جے پی ان لوگوں کو ایم ایل سی ٹکٹ دینے اور انہیں وزیربنانے پرراضی نہیں ہوگی۔