کرناٹک حکومت نے اپنا متنازع فیصلہ واپس لیا،نصابی کتابوں میں ٹیپو سلطان کا تذکرہ شامل رہے گا

بنگلورو:کرناٹک حکومت نے سوشل سائنس کی نصابی کتب سے کچھ ابواب کے ہٹانے کی متنازعہ تجویز پر روک لگادی ہے۔حکومت نے اسلام ، عیسائیت ، ٹیپو سلطان اور ان کے والد حیدر علی پر سوشل سائنس کی درسی کتب سے ابواب ہٹانے کی تجویزپیش کی جس کی مخالفت ہوئی اوربالآخر فیصلہ موخر کردیا گیا۔تنقید کے بعد محکمہ پبلک انسٹرکشن نے کرناٹک کے ابتدائی اور ثانوی وزیر تعلیم ایس سریش کمار کی ہدایت پر یک نیانوٹیفکیشن جاری کیاہے۔اس میں کہاگیاہے کہ عالمی مرض کوویڈ۔19 کی وجہ سے تعلیمی سیشن 2020-21 شروع کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ لہٰذاپہلی سے دسویں جماعت تک کے کچھ ابواب ہٹادیئے گئے تھے تاکہ نصاب کو 120 دن کے تعلیمی سیشن میں مکمل کیا جاسکے۔حکم نامے میں کہاگیاہے کہ وزیر برائے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کی ہدایت کے مطابق باب کوہٹانے کا فیصلہ فی الحال ملتوی کردیا گیا ہے۔ اس کا جائزہ لینے کے بعد حذف شدہ باب کو ویب سائٹ پر ڈال دیا جائے گا۔