کراچی طیارہ حادثہ اور نفرت کی آگ میں جھلسنے والے انسان نماشیطان-مسعود جاوید

واقعی مسلمان اپنی تمام خرابیوں کے باوجود ” ایک حد تک آج بھی ” خیر امت” ہے۔ بلا تفریق مذہب جات برادری بھوکوں کو کھانا کھلانا پیاسوں کو پانی پلانا اور محتاجوں کو کپڑے دینا علاج کرانا زخمیوں کے مرہم پٹی کرنا یہ جذبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے صدقے مسلمانوں میں کوٹ کوٹ کر بھراہوا ہے۔ رمضان المبارک میں یہ جذبہ دو آتشہ ہو جاتا ہے۔ لاک ڈاؤن میں اس جذبے کے تحت انسانی خدمت کا بہترین موقع میسر ہوا ہے۔ چنانچہ تقریباً ہر مسلمان اجتماعی اور انفرادی طور پر یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ جزاہم اللہ خیرا کثیرا۔
١- یہ خیر امت کا مظہر ہے کہ اپنے محدود وسائل اور ذرائع آمدنی کے باوجود عالمی وبا کورونا وائرس سے متاثر یومیہ مزدوروں اور ٹھیلی ریہڑی والوں فٹ پاتھ پٹری پر معمولی سامان بیچنے والوں اور دیگر غریبوں کے یہاں لاک ڈاؤن کے یوم اول سے ہی مناسب مقدار میں پندرہ دنوں اور ایک مہینہ کے لئے راشن کٹ پہنچایا۔ نوجوان طبقہ میں انسانی خدمت کا یہ غیر معمولی جوش و خروش دیکھتے ہوئے مخیر حضرات نے حسب استطاعت دل کھول کر تعاون کیا اور یہ بے نام بے چہرہ والی جماعت ان کی محنت سے کمائی ہوئی رقم ضرورت مندوں میں تقسیم کرکے چندہ دہندگان کے لئے آخرت میں ذخیرہ بنا دیا۔
٢- یہ خیر امت کا مظہر ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نے تارکین وطن مزدوروں اور ناقابل برداشت سخت حالات سے مجبور ہو کر چلچلاتی دھوپ میں بیوی بچوں کے ساتھ ٥٠٠, ١٠٠٠,اور ١٥٠٠ کیلومیٹر پیدل اور بعض ٹرکوں میں جانور سے بدتر حالت میں کھانا پانی زاد سفر کے بغیر اپنے اپنے وطن لوٹ رہے پریشان حال لوگوں کو بلا تفریق مذہب اور ذات ، راستے میں کھانا پانی مہیا کرا رہی ہے۔ یہ تو اجتماعی مظہر ہے،انفرادی طور پر جس راہ سے ان کا گزر ہو رہا ہے وہاں کے مکین اپنے گھروں کے پاس ان بے یارومددگار لوگوں کو کھانا پانی پیش کرکے اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے مصیبت کی اس گھڑی میں انہیں انسانوں کی خدمت کی توفیق دی۔ کتنا خوش کن منظر ہے کہ ہمارے بھائی گاڑیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، دوڑ رہے ہیں کہ کسی طرح ان کے ہاتھ کے پیکٹ ان بے کس ضرورت مندوں تک پہنچ جائیں۔
ہم ١٥ فیصد ہیں یا ٢٠ فیصد ، اس طرح کی انسانی خدمات پیش کرنے میں بہر حال اکثریتی طبقہ سے بہت آگے ہیں جس کی گواہی اکثریتی طبقے کے بہت سے غیر متعصب لوگ دے رہے ہیں۔
٣- یہ خیر امت کا مظہر ہے کہ مسلمان اللہ کے حکم کے بموجب کبھی کسی دوسرے مذہب کے دیوی دیوتاؤں کے لئے اہانت آمیز بات نہیں کرتا، ان کے معبودوں کا مذاق نہیں اڑاتا۔ عام دنوں میں ہی نہیں، جنگ کے دوران بھی ان کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی، توڑ پھوڑ نہیں کرتا، ان کے مذہبی پیشواؤں اور پجاریوں پر حملہ نہیں کرتا۔
٤- یہ خیر امت کا مظہر ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اندوہناک حادثہ ہوتا ہے انسانی جانیں جاتی ہیں،تو مسلمانوں کا ہاتھ دعا کے لئے اٹھ جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لئے المیہ المیہ ہوتا ہے،وہ مسلم المیہ یا ہندو المیہ نہیں ہوتا ہے؛لیکن یہ کیا کہ پڑوسی ملک میں اتنا دردناک ہوائی جہاز حادثہ ہوا لاہور سے اڑان بھر کر کراچی میں لینڈ کرنے سے چند منٹ قبل ایک رہائشی علاقہ میں ایک جہاز گر کر تباہ ہوگیا سوائے ایک شخص تمام ٩٨ مسافر و عملہ شہید ہو گئے جہاز جہاں گرا وہاں کا جانی مالی نقصان علیحدہ، اس پر بعض نفرت کی آگ میں جھلستے ہوئے تنگ نظر تنگ دل انسانیت کے نام پر کلنک لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا !
اگر ان کے اندر انسانیت ہوتی تو یہ تصور کر کے ان کا دل لرز جاتا کہ اس طیارے میں کتنے ایسے لوگ ہوں گے جن کے بچے منتظر ہوں گے کہ ان کے باپ ان کے لئے عید کے کپڑے اور کھلونے لے کر آرہے ہیں اور ٹیلیویژن پر وہ بچے اسی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی خبریں دیکھ رہے ہوں گے۔ ان پر کیا گزرا ہوگا اس کا احساس انسانوں کو ہو رہا ہے خواہ وہ کسی مذہب کا اور کسی خطے کا ہو۔ انسانیت سے عاری گوشت پوست کے مجسموں میں بیمار ذہنوں کو نہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)