کپل مشرا کا نفرت کا کاروبار! ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

دہلی کے فسادات کے مبینہ منصوبہ ساز نے نفرت پھیلانے کےلیے ۲۰؍ہزار سے زائد نوجوانوں کی فوج کھڑی کرلی ہے!

’’جو کچھ میں نے 23 فروری (2020ء) کو کیا اس پر مجھے فخر ہے اور اگر ایسا پھر ہواتو ہم ایسا پھر کریں گے ۔‘‘
یہ بیان بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا کا ہے ، وہی کپل مشرا جنہوں نے 22 فروری کے روز سی اے اے مظاہرین کو دھمکیاں دی تھیں کہ ٹرمپ کو چلے جانے دو پھر دیکھو ہم کیا کرتے ہیں۔ اور ٹرمپ کے جانے کے بعد انہوں نے دہلی کو ، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ ٹھیک ہوگا کہ دہلی کی اقلیتی بستیوں کوآگ میں جھونک دیا تھا۔ دہلی کے فسادات میں 53 افراد مارے گئے تھے۔ یہ سرکاری اعدادوشمار ہیں۔ جن میں کوئی 40 مسلمان تھے ۔ یہ وہی کپل مشرا ہیں جنہوں نے درج ذیل نعرے دیے تھے :
دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو
جامعہ کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو
اے ایم یو کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو
جے این یو کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو
دہلی فسادات کی پہلی برسی پر کپل مشرا نے ’ دی وائر‘ کے اجئے آشیرواد اور عصمت آراء سے گفتگو کی ، اس گفتگو میں انہوں نے دہلی تشدد میں اپنے کردار پر اپنے سینے کو تو بڑے فخر سے پھلایا مگر فسادات کے دوران مرنے والوں کے لیے ان کی زبان پر کوئی اظہارِ تاسف نہیں تھا۔ یہ کہنے کے باوجود کہ ’’ ایسا پھر ہوا تو ہم پھر ایسا ہی کریں گے ‘‘ کپل مشرا دہلی فسادات کا قصوروار خود کو نہیں ٹھہراتے ۔ حالانکہ مذکورہ جملہ ایک طرح سے دہلی کے فسادات میں ملوث ہونے کا ’اعترافِ جرم ‘ ہے ! کپل مشرا کے یہ کہنے کا ’ ’ایسا پھر ہوا تو۔۔۔‘ ‘ مطلب بھی بڑا صاف ہے کہ اگر سی اے اے کے خلاف پھر مظاہرہ کیاگیا ، دھرنا اور احتجاج ہوا یا پھر کوئی شاہین باغ بنانے کی کوشش کی گئی تو’’ ہم پھر ایسا ہی کریں گے ‘‘۔ یعنی دہلی کو پھر سے دنگوں میں ڈھکیل دیں گے ۔ یہ صاف صاف لفظوں میں سی اے اے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ، جن میں بلاشبہ مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ، دھمکانا ہی ہے۔۔۔ یعنی کپل مشرا نے دہلی کے فسادات میں اپنے ہاتھ کا’’اعتراف‘‘ بھی کرلیا اور لوگوں کو نئے سرے سے ’’دھمکی‘‘ بھی دے دی لیکن نہ ایک سال قبل کے دہلی فسادات کے لئے ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔ اور نہ ہی اس تازہ ترین ’’دھمکی‘‘ پر ان کے خلاف کوئی رپورٹ ہی لکھی گئی!! خیر، اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو اس پر کوئی حیرت بھی نہیں ہے ، اور یہ بھی یقین کرلیں کہ آئندہ بھی کپل مشرا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔
کپل مشرا نے جو یہ کہا کہ ’’ ہم پھر ایسا ہی کریں گے‘‘ یہ کوئی ایسی دھمکی نہیں ہے جسے نظرانداز کردیا جائے ۔اس دھمکی پر عمل کرنے والوں کی وہ پوری ایک فوج کھڑی کررہے ہیں۔حال ہی میں ’’نیوز لانڈری‘‘ نے ایک ایسے ٹیلی گرام گروپ کے قیام کا انکشاف کیا ہے جس میں کوئی 20 ہزار نوجوان شامل ہوئے ہیں ،یہ تعداد اب مزید بڑھ گئی ہوگی ۔ ان نوجوانوں کے ذہنوں کو مسموم کیا گیا ہے ، انہیں’لوجہاد‘ ’ گئو ماتا‘ اور ’ حلال‘ وغیرہ کے نام پر تیار کیا گیا ہے ۔ اس تیاری کا مقصد بے حد واضح ہے۔اس پر بات کرنے سے پہلے دہلی کے فسادات کے طریقۂ کار پر ایک نظر ڈال لیں تو بات زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ میں آجائے گی ۔
نارتھ ایسٹ دہلی میں فسادات کے موقع پر ’’واٹس ایپ‘‘ پر ’’ کٹّر ہندو ایکتا‘‘ کے نام سے ایک گروپ بنایا گیا تھا ،اس گروپ پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کا الزام ہے ۔مذکورہ گروپ کے خلاف دہلی کی ایک مقامی عدالت میں چارج شیٹ داخل ہے جس کے مطابق گروپ کا قیام 25 فروری 2020ء کو کیاگیا تھا۔ سب ہی جانتے ہیں کہ دہلی کے فسادات 22 فروری کی شب میں کپل مشرا کے نفرت بھرے بھاشن کے بعد شروع ہوئے تھے اور اس میں 23 فروری کو شدت آگئی تھی۔ مذکورہ گروپ کے جو’’چیٹ‘‘ سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ گروپ کی پیٹھ پر آر ایس ایس اور بجرنگ دل کا ہاتھ تھا۔ گروپ کے ممبران کے چیٹ مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے تھے ، ان میں مدرسوں اور مسجدوں کو تہس نہس کرنے کی باتو ں کے ساتھ مسلمانوں کو قتل کرنے کی باتیں بھی کی گئی تھیں۔گوکل پوری کے علاقے میں ہاشم علی نام کے ایک فرد کے قتل میں اس گروپ کا نام لیا جاتا ہے ۔چارج شیٹ کا ایک اقتباس دیکھیں اس سے خوب اندازہ ہوجائے گا کہ گروپ کے ممبران کس قدر متشدد تھے ۔
’’گروپ کے ممبران نے اپنی انفرادیت کھودی اور فسادیوں کی ذہنیت سے کام کرنا شروع کردیا ۔ ’جئے شری رام‘ اور ’ہرہرمہادیو‘ جیسے دھارمک نعروں نے ، جو فتح حاصل کرنے پر لگائے جاتے ہیں ، ان ممبران کے ذہنوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔۔۔ انہوں نے ہندوؤں پر حملہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو سبق سکھانے کی منصوبہ بندی کی اور خود کو لاٹھیوں ، ڈنڈوں ،چھڑیوں ،تلواروں اور پستولوں وغیرہ سے لیس کرلیا اور حملہ کرکے ۹ مسلمانوں کو قتل کرڈالا ، مرنے والوں میں ہاشم علی اور اس کا بھائی عامرعلی بھی شامل تھے ۔ ملزمین نے منظم انداز میں سازش رچی تھی۔‘‘
مذکورہ واٹس ایپ گروپ کے علاوہ سوشل میڈیا پر دیگر گروپ بھی دہلی فسادات کے دوران نفرت کی کھیتی کررہے تھے۔ منصوبہ بندی کے مطابق 14 مسجدیں منہدم کی گئیں ، ایک درگاہ کو تباہ وبرباد کیا گیا اور بے شمار دوکانوں اور مکانوں کو لوٹ پاٹ کرکے جلادیاگیا۔۔۔ یہ سب پھر ہوسکتا ہے ۔
اپنی ایک رپورٹ میں ’’نیوز لانڈری‘‘ نے کپل مشرا کے ’’ٹول کِٹ‘‘ کا ذکر کیا ہے جو واقعی میں ملک اور ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ، اور یہ حکومت ہے کہ دشاروی کے اس ’’ٹول کِٹ‘‘ کو ملک کے لیے خطرہ قرار دے کر اس پر مقدمہ چلارہی ہے ، جو اپنی نوعیت میں بے ضرر ہے۔ ’’نیوز لانڈری‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 16 نومبر 2020ء کو کپل مشرا نے ایک ’’ٹوئیٹ‘‘ کیا کہ جو’’ہندو ایکوسسٹم‘‘ کے رکن بننا چاہتے ہیں وہ ایک فارم بھردیں۔ ممبر شپ یعنی رکنیت کے فارم میں ای میل ایڈریس، مکمل نام ، موبائل نمبر، ای میل آئی ڈی، صوبہ ، ملک ، مکمل پتہ اور پیشہ وغیرہ کے خانے بھرنے تھے ، اس کے بعد ایک سوال تھا جس کا جواب دینا تھا کہ کسی مخصوص شعبہ میں دلچسپی ہے ؟ اس سوال کے ساتھ قوسین میں دلچسپی کے شعبوں کی وضاحت کی گئی تھی، گئو سیوا، لوجہاد سے مقابلہ ، گھر واپسی ، حلال ، مندر تعمیر ، ہندوایکتا، عام سیوا وغیرہ ۔۔۔ دلچسپی کے مذکورہ شعبوں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ نوعیت کے تھے۔۔۔ فارم میں یہ بھی درج تھا کہ کوئی آن لائن رکنیت لینا چاہتا ہے یا گراؤنڈ پر ۔ ’’نیوز لانڈری‘ نے اس کی چھان بین کے لئے فارم کو بھردیا ، اس طرح اس کی ایک ’’ٹیلی گرام گروپ‘‘ میں شمولیت ہوگئی ، اس کے بعد اسے دیگر متعلقہ گروپوں سے جوڑ دیا گیا ۔۔۔ یعنی ہر رکن کسی ایک گروپ سے نہیں کئی کئی گروپوں سے جڑا نکلا ۔ چھان بین کے بعد حیرت انگیز باتیں سامنے آئیں۔ گروپ کا کام نفرت پرمبنی مواد کی تشہیر ہے، اس کا اپنا ایک ’’ٹول کِٹ‘‘ بھی ہے ۔ اس ساری سرگرمی کے پس پشت کپل مشرا ہیں ، ان کے تحت 20 ہزار نوجوان متحرک ہیں۔ 27 نومبر کو اس گروپ نے اپنی پہلی مہم JoinHinduEcoSystem کے ہیش ٹیگ سے شروع کی ۔ ویڈیو کے ذریعے کپل مشرا نے یہ دعویٰ کیا کہ 27 ہزار لوگوں نے فارم بھرے ہیں ،یعنی گروپ کے اراکین کی تعداد 27 ہزار جاپہنچی ہے ۔ ساتھ ہی 5ہزارافراد نے علیحدہ سے مذکورہ گروپ کی ’’ٹوئٹر ٹیم‘‘ میں شمولیت حاصل کی ہے ۔ گروپ کے زیادہ تر اراکین اعلیٰ ذات کے ہندو تھے ، ترویدی ، پانڈے ، کمار، تیواری، ٹھاکر اور مشرا وغیرہ ۔ گروپ نے جن موضوعات کے تحت مہم چلانے کا اعلان کیا ان میں ہندوتوا کا سارا ایجنڈا شامل ہے ، مثلاً مندروں کی تعمیر ، ہندوؤں کا قتل عام ، ہندوؤں کی آبادی کا کم ہونا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ ان موضوعات کے تحت نفرت پھیلانے کا کام کیا جاتا ہے ۔۔۔ گروپ میں اسلام ، عیسائیت اور جین کو خاص طور پر نشانے پر رکھا گیا ہے ۔۔۔ مقصد نفرت پھیلانا ہے ۔ اور نفرت سے تشدد پھیلتا ہے ۔۔۔ یہ کھلے عام ہورہا ہے مگر حکومت اور پولس کی آنکھیں بند ہیں ۔ اورآنکھیں بند ہی رہیں گی کیونکہ یہ سب سنگھی ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ تودہلی کے فسادات کو چاہے ایک برس بیت جائیں چاہے دس بیس برس کوئی بھی قصوروار ۔۔۔ بات حقیقی قصورواروں کی ہے، سزا نہیں پائے گا ، سزائیں تو صفورازرگر اور شرجیل امام ، عمر خالد، جیسوں کو ہی ملیں گی ۔۔۔ یا پھر ورورا راؤ ، سوامی اسٹین جیسے لوگ ، جو اقلیتوں اور پچھڑوں کے لیے آوازیں اٹھاتے ہیں ، قید کیے جائیں گے ۔۔۔ بہرحال کپل مشرا کی دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا انہوں نے سوشل میڈیا پر 20 ہزار سے زائد نوجوانوں کی فوج تیار کرلی ہے جو نفرت پروس رہے ہیں ، اس نفرت کا جواب احتیاط سے دینا ہوگا ۔ بس کرنا یہ ہوگا کہ ان کے اکسانے پر بھی لوگ اپنا آپا نہ کھوئیں-نفرت کے سوداگروں کا کاروبار ہمیشہ نہ چلا ہے اور نہ چلے گا ۔