کانپور اسپتال میں آگ لگی،وزیراعلیٰ نے جانچ کے لیے سہ رکنی کمیٹی بنائی

کانپور:
آج صبح شہر کے سوروپ نگر علاقے میں واقع ایل پی ایس انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایک حصے میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن 150 سے زائد مریضوں کو جلدی میں دوسرے وارڈوں میں منتقل کردیا گیا۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔شکلا نگر پولیس اسٹیشن کے صدر اشوانی پانڈے نے بتایاہے کہ ایل پی ایس انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے گراؤنڈ فلور پر واقع اسٹور میں صبح 8 بجے کے قریب شارٹ سرکٹ سے اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ قریب ایک گھنٹے کی محنت کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔ اس دوران ڈیڑھ سو سے زیادہ مریضوں کو سیف وارڈ میں منتقل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران کانپور کے گھم پورمیں رہنے والے شدید سانس کی بیماری میں مبتلا مریض رسولان بی (80) اور وینٹیلیٹر پر رکھے ہوئے ہمیر پور کے رہائشی ٹیکچند (65) کی موت ہوگئی۔اگرچہ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ونئے کرشنا نے کہا ہے کہ ان دونوں مریضوں کی موت فطری ہے لیکن کسی بھی خدشے کو دور کرنے کے لیے ان کے جسموں کا پوسٹ مارٹم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کانپور کے ایڈیشنل پولیس کمشنر آکاش کلہاری نے بتایاہے کہ اسپتال کی پہلی منزل پر آئی سی یو کے قریب اسٹور روم سے دھواں نکلتا ہوا دیکھ کر کچھ مریضوں اور لکڑی والوں نے اسپتال کے عملے کو اطلاع دی۔انہوں نے بتایاہے کہ گراؤنڈ فلور کے وارڈوں میں داخل تمام مریضوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور ڈیڑھ سو سے زائد مریضوں کو سیف وارڈ میں لے جایا گیا ہے۔ واقعے کے بعد کھڑکیوں کو توڑنے کے لیے دھواں کا بندوبست کیا گیا تھا۔ادھر وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واقعے کا جائزہ لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ریاستی حکومت کے ترجمان نے بتایاہے کہ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام زخمیوں کا مناسب علاج کریں اور اس ضمن میں حقائق پیش کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ڈائریکٹر جنرل فائر سروس ، کمشنر کانپور ڈویژن اورپرنسپل سکریٹری (میڈیکل ایجوکیشن) کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے ، جو فوری حقائق کی جانچ پڑتال کے لیے موقع پرجائے گی۔