کنہیا کمار سے ملاقات سیاسی نہیں ،بلکہ علاقے کے مسائل پر تھی:نتیش کمار

پٹنہ:وزیر اعلیٰ نتیش کمارنے مشہور سی پی آئی اسٹوڈنٹ یونین لیڈر کنہیا کماراور ایل جے پی ایم پی چندن کمار سنگھ سے ملاقات کے سلسلے میں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ اہم لیڈران ہم سے اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے آئے تھے اور ان لوگوں نے جو مسائل پیش کیے ہم لوگوں نے فی الفور اس پر کارروائی کی۔ وزیراعلیٰ نے کہاہے کہ تمام پارٹی کے لوگوں کے لیے میرے دروازے کھلے ہوئے ہیں جو عوامی مسائل ہوںگے ان کا حل فی الفور نکالاجائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان لیڈروں سے سیاسی موضوعات پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ خواہ مخواہ میڈیا ان لوگوں کے ملاقات کے سلسلے میںغلط فہمیاں پھیلا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کورونا عہدمیں اسمبلی سیشن شروع ہو نے کے بارے میں میڈیا اہلکاروں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاہے کہ بجٹ کا پورا سیشن پہلے ہی شائع ہو چکا ہے۔ بجٹ سیشن پہلے کی طرح ہی رکھا گیا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ بہار میں کورونا کی زیادہ سے زیادہ جانچ ہوئی ہے اور علاج بھی بہتر طریقہ سے ہو نے سے حالات میں بہتری آئی ہے۔ لوگوں کو آئندہ کے لیے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ٹیکہ کاری کا کام دو حصوں میں چل رہا ہے ، جس میں اب پچاس سال سے زیادہ عمر کے لوگوں اور 50 سال سے کم عمر کے سنگین بیماری سے متاثر لوگوںکو ٹیکا لگا یا جائے گا۔ٹیکہ کار ی پورے ملک میں کی جارہی ہے۔ اپنے ملک کی ویکسن کئی بیرون ممالک میں بھی جارہی ہے ،جس کا فائدہ لوگوں کومل رہا ہے۔ کورونا سے بچائو کو لے کر کام کیا جارہا ہے۔ اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں تمام لوگوں کو ماسک لگانے کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری احتیاط برتنے کو کہا گیا ہے۔ ہم لوگوں کو پوری امید ہے کہ تمام لوگ محتاط رہیں گے تو کسی طرح کی دشواری نہیں آئے گی۔ریزر ویشن کے ایشو پر چھڑی بحث کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں نہیں پتہ ہے کہ ایسی کوئی بات چھڑی ہوئی ہے کہ جنہیں ریزر ویشن کا فائدہ مل رہا ہے ان کو ریزر ویشن کافائدہ نہیں ملنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بہار میں اپنے یہاں کے ریزر ویشن کا ضابطہ نافذ ہے اور مرکز کا بھی جو ریزر ویشن ضابطہ ہے وہ بھی لاگو ہے۔ اقتصادی بنیاد پر بھی ریزرویشن کا التزام نافذ کر دیا گیا ہے۔ میرے حساب سے ایسا نہیں لگتا ہے کہ ریزرویشن کا جو التزام ہے وہ التزام نہیں چلے گا۔ ہم لوگوں کے یہاں پسماندہ طبقہ ، انتہائی پسماندہ طبقہ دو الگ الگ طبقے نشان زد ہیں ، جو جن نائک کرپوری ٹھاکر جی کی حکومت نے نافذ کیا تھا ، وہ آج بھی چل رہا ہے۔ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ یہ مرکز میں بھی نافذ ہو جائے۔ مرکز میں یہ ایک ہی طرح سے نشانزد ہے۔ اگر لوگوں کو مختلف طریقہ سے اس میں بھی ریزر ویشن کا فائدہ ملے گا تو اچھی بات ہو گی۔