Home نقدوتبصرہ کامیابی کے لیے ’ سفر ہے شرط ‘ -شکیل رشید

کامیابی کے لیے ’ سفر ہے شرط ‘ -شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر ، ممبئی اردو نیوز )

کبھی کبھی کسی کتاب کا نام دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ ڈاکٹر شکیل احمد خان کی کتاب ’’ سفر ہے شرط ‘‘ میرے لیے ایک ایسی ہی کتاب ثابت ہوئی ہے ۔ یہ سوچ کر ، کہ یہ ’ سفر نامہ ‘ ہے ، کسی سفرمیں پڑھوں گا ، اسے رکھ کر بھول گیا تھا ۔ ایک دن کتابیں الٹ پلٹ رہا تھا کہ یہ کتاب نظر آ گئی ، اور ایک صفحہ کھول کر یہ جاننے کی کوشش کی ، کہ کہاں یا کِن جگہوں کا یہ’ سفرنامہ‘ ہے ، اور پھر پڑھتا چلا گیا ۔ کتاب ایک لحاظ سے ’ سفر نامہ ‘ ہی ہے ، کہ یہ زندگی میں آگے بڑھنے کی راہ سجھاتی ، اور راہ میں آنے والی روکاؤٹوں سے بچنے میں ، مدد دیتی ہے ، یا یہ کہہ لیں کہ زندگی کے سفر کو آسان بنانے میں رہنمائی کرتی ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ یہ کوئی ’ سیلف ہیلپ ‘ کے طرز پر لکھی ہوئی کتاب ہے ، نہیں ، یہ مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر لکھے گیے ایسے مضامین پر مشتمل کتاب ہے ، جسے ’ خواب دکھانے والی کتابوں ‘ کے زمرہ میں نہیں رکھا جا سکتا ۔ یہ زندگی میں درپیش آنے والی دشواریوں سے ، جو خود انسان کی پیدا کردہ ہوتی ہیں ، کبھی کاہلی کے سبب ، کبھی کام چوری کے سبب اور کبھی اس احساس کے سبب کہ زندگی تو بڑی مختصر ہے ، عملاً نبرد آزما ہونے کے لیے بیدار کرنے والی کتاب ہے ۔ کتاب کے مصنف سے میں ناواقف ہوں ، حالانکہ ڈاکٹر شکیل خان مہاراشٹر کے ہی رہنے والے ہیں ۔ وہ جالنہ کے انکوش راؤ ٹوپے کالج میں صدر شعبۂ انگریزی ہیں ، یعنی کہ پروفیسر ہیں ۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ انگریزی ادب پر ان کی گہری نظر ہے ۔ اس سے پہلے کہ کتاب میں شامل مضامین پر بات کی جائے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ مضامین کیوں لکھے گیے ، اور اب انہیں کتابی شکل میں لانے کی وجہ کیا بنی؟ اِن دونوں سوالوں کے جواب ، کتاب میں شامل مصنف کی مختصر تحریر سے ، جس کا عنوان ہے ’’ اپنی بات ‘‘ ، مل جاتا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ، ’’ گزشتہ دس پندرہ برسوں میں ملک و ملت کی سیاسی ، مذہبی اور معاشرتی زندگی میں واقع ہوئی اچانک تیز رفتار ترقی معکوس کے ادراک نے نئی نسلوں کی راست کاونسلنگ پر مجبور کیا ۔ اور اس کام کے لیے ’ مضمون ‘ Essay کی صنف سب سے بہتر محسوس ہوئی ۔ نتیجتاً یہ مضامین وجود میں آئے جو ملک کے مختلف اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ ‘‘ ان کے پیش نظر یہ بات بھی رہی ہے کہ ’’ جہاں نئی نسلوں اور عوام النّاس کو مثبت جدوجہد پر ابھارا جائے ، ماضی سے سبق حاصل کرنے کی ترغیب دلائی جائے اور کامیاب افراد کے احوال سے روشناس کرایا جائے ، وہیں جہاں تک ممکن ہو ، ان کی معلومات و علم میں بھی بالراست طور پر اضافہ کی سبیل نکالی جائے ۔ ‘‘ کتاب میں کُل ۳۱ مضامین شامل ہیں ، اِن میں ،جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے ، زندگی کو دشوار بنانے والی چیزوں کی نشاندہی کی گئی اور ان سے کیسے بچا جائے ، اس کی راہ سجھائی گئی ہے ۔ تمام ۳۱ مضامین پر روشنی ڈالنا ممکن نہیں ہے ، لیکن چند مضامین ( انہیں انشایئے بھی کہا جا سکتا ہے ) سے ہی مصنف کی منشاء کا اندازہ ہوجائے گا ۔ پہلا مضمون ، ’’ بہت ہوتے ہیں یارو چار دن بھی …‘‘ کے عنوان سے ہے ، اس میں اُن انسانوں کا ذکر کیا گیا ہے ، جنہیں ، ’’ ابتدائے آفرینش سے ہی یہ شکایت رہی ہے کہ اُنھیں دیا گیا وقت نہایت کم ہوتا ہے اور اتنی تیزی سے گزر جاتا ہے کہ جب وہ بامعنی زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں تو وہ ( وقت ) ختم ہو جاتا ہے ۔ اور یہ شکوہ عوام و خواص سبھی کو رہا ہے ۔‘‘ ڈاکٹر شکیل خان حقیقی زندگی کے ایک ایسے مفلوک الحال کردار ، ولیم بڈ پوسٹ ( ۱۹۳۹ء – ۲۰۰۶ء)کی مثال دیتے ہیں ، جس کی جیب میں گزر بسر کے لیے جب دو ڈالر بچے تھے ، تو اُسے ۱۶ ملین ڈالر کی لاٹری نکل آتی ہے ، لیکن وہ صرف دو ہفتوں میں ۳ ملین کی رقم پھونک ڈالتا ہے ، اور تین مہینے بعد اُس پر ۵ لاکھ ڈالر کا قرض ہو جاتا ہے ، پھر دو سال بعد وہ دیوالیہ ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی کے آخری دن کسمپرسی میں کٹتے ہیں ، وہ۴۵۰ ڈالر ماہانہ وظیفہ لیتے لیتے مرجاتا ہے ۔ ڈاکٹر شکیل خان لکھتے ہیں کہ ، ’’ ولیم پوسٹ مانتا تھا کہ وہ اِس لیے کنگال ہوگیا کہ ۱۶ ملین نہایت مختصر رقم تھی ! یہی مثال ڈالرس سے بھی کئی زیادہ اہم چیز انسانی ’’ عمر یا زندگی ‘‘ پر صادق آتی ہے ۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ، ’’ اہم بات وسائل یا عمر کے کم یا زیادہ ہونے کی نہیں بلکہ اُسے سلیقے سے استعمال کرنے کی ہے ۔ جس طرح معمولی رقم کی بھی بہتر سرمایہ کاری کی جائے تو وہ بڑھ جاتی ہے ، اسی طرح اپنی عمر کا منظم استعمال کیا جائے تو وہ طویل ہو سکتی ہے ۔ یعنی زندگی مختصر نہیں ، بلکہ ہم اُس کا بیشتر حصہ لایعنی و لاحٓاصل مصروفیات میں ضائع کر دیتے ہیں ۔‘‘ اس مضمون میں مصنف نے آگے اُن افراد کے نام مثال کے طور پر پیش کیے ہیں جو مختصر عمر کے باوجود بڑے کام کر گیے ہیں ، جیسے کہ امام غزالیؒ ( عمر ۵۳ سال ) ، ابن باجہ ( عمر ۴۲ سال ) ، بروس لی ( عمر ۳۲ سال ) ، موسیقار موزارٹ ( عمر ۳۵ سال ) سائنس داں سری نواس رامانوجن ( عمر ۳۲ سال ) وغیرہ ۔ اس مضمون کا عنوان فراق گورکھپوری کے جس مصرعہ کو بنایا گیا ہے ، مضمون کا اختتام اسی کے مکمل شعر پر کیا گیا ہے ؎

یہ مانا زندگی چار دن کی ہے

بہت ہوتے ہیں یارو چار دن بھی

مصنف نے اپنے تمام ۳۱ مضامین کے عنوان مصرعوں پر رکھے ، اور اختتام پر مکمل شعر دیے ہیں ۔

آگے کے مضامین میں بھی ، مصنف نے حقیقی زندگی کے کسی واقعہ سے یا پھر کسی حکایت سے بات شروع کی ہے ، اور زندگی کی دشواریوں سے ، پریشانیوں سے ، جن میں نفسیاتی پریشانیاں بھی شامل ہیں ، اُبھارنے کی کوشش کی ہے ۔ ایک مضمون میں وہ اس کتابی جملے کو کہ ’’ دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ‘‘ ہینگری کے کیارولی ٹیاکس کی مثال دے کر سچ ثابت کرتے ہیں ۔ کیارولی کا ایک ہی سپنا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے اچھا نشانہ باز بنے ، اور اولمپک مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کرے ۔ وہ فوجی تھا ، اس لیے اسے اولمپک میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملی ، جب یہ امتناع ختم کیا گیا اور کیارولی اولمپک میں جانے کی تیاری کرنے لگا کہ فوج کی ایک تربیتی مشق کے دوران اُس کے ہاتھ میں ایک ہتھ گولہ پھٹ گیا اور اس کے سیدھے ہاتھ کے چیتھڑے اڑ گیے ۔ اس نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری ، بائیں ہاتھ سے مشق کرتا رہا ، اور بایں ہاتھ کو دائیں ہاتھ جیسا کارآمد بنا لیا ۔ لیکن ۱۹۴۰ء میں دوسری جنگ عظیم کے سبب اولمپک مقابلے منسوخ ہو گیے ، ۱۹۴۴ ء کے اولمپک مقابلے بھی نہیں ہو سکے ، لیکن ا۹۴۸ء میں ، جب اس کی عمر کافی ہو چکی تھی ، اُس نے اولمپک میں حصہ لیا اور گولڈ میڈل جیت کر ساری دنیا کو حیران کر دیا ۔ پھر اس نے۱۹۵۲ء کے اولمپک میں بھی گولڈ میڈل حاصل کیا ، اورمزید کئی میڈل جیتے ۔ مصنف لکھتے ہیں ، ’’ سیدھا ہاتھ کھو دینے کے بعد کیارولی کے سامنے دو راستے تھے ۔ ایک تو مایوس و ناامید ہوکر گوشہ نشین ہوجائیں اور میدان چھوڑ دیں ۔ یا دوسرا راستہ یہ تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں نیا حل تلاش کریں ۔ انھوں نے دوسرا راستہ چنا اور یہی کامیاب لوگوں کا راستہ ہوتا ہے ۔‘‘ وہ لکھتے ہیں کہ ،’’ ہمیں یہ جان لینا اور تسلیم کر لینا چاہیے کہ کامیابی کا ایک مخصوص راستہ ہے اور یہ راستہ آسان نہیں ہے ۔ آسانیاں اور کامیابیاں دو متضاد چیزیں ہیں ۔‘‘ کتاب میں اسی طرح کے واقعات سے ڈاکٹر شکیل خان اپنے پڑھنے والوں کو افراط تفریط سے ، تنقید اور اعتماد شکنی سے اثرلینے سے ، کوششیں ترک کرنے سے ، امید ہارنے سے ، اور غلط راستہ اختیا رکرنے سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم بچے کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ ’’ کیسے چلنا ہے ‘‘ لیکن یہ نہیں سکھاتے کہ ’’ کس راستے پر چلنا ہے ۔‘‘ وہ بتاتے ہیں کہ چاہے جس قدر بادِ مخالف ہو ، گھبرانا نہیں چاہیے ، رکنا نہیں چاہیے ، فوری ردعمل سے بچنا چاہیے ، جینے کے لیے کام کرتے رہنا چاہیے ۔

ڈاکٹر شکیل خان ہیں تو انگریزی کے پروفیسر لیکن اردو زبان اور ادب پر ان کی پکڑ مضبوط ہے ۔ زبان رواں دواں ہے ، محاروں اور کہاوتوں اور اشعار کا استعمال برمحل ہے ۔ ان کے جملے چست ہیں بلکہ ’ قول ‘ میں تبدیل ہو گیے ہیں ، مثلاً ’’ حوصلہ شکنی سے اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور اعتماد کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے ۔‘‘ ، ’’ صحیح شان ، عظمت ، وقار کام کرنے میں ہے پھر چاہے وہ کوئی کام ہو ۔ ‘‘ ،’’ ہر دشواری ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہے ۔ ‘‘ اس کتاب پر ، پروفیسر آفتاب حمید کا ، جو بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کے سابق پروفیسر ، اور صاحبِ کتاب کے استاد ہیں ، ایک وقیع مضمون ’’ گزرا ہے زمانہ ہماری نگاہ سے ‘‘ شامل ہے ، جس میں انھوں نے بڑی ہی تفصیل کے ساتھ ، کتاب کی خوبیوں اور چند کمیوں ( کہیں کہیں نصیحتوں کی فراوانی اور تکرار اور غیر ضروری تفصیلات ) پر ، روشنی ڈالی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ یہ مضامین انہماک اور کمٹمینٹ کے ساتھ لکھے گیے ہیں ….(اور ) حوصلہ افزائی ، استحکام کی ترغیب ، نظم وضبط کی نصیحت ان مضامین کا خاصہ ہے ۔‘‘ ایک مضمون ’’ اچھوتی اور دل کو چھوتی انشائیہ نگاری ‘‘ کے عنوان سے انگریزی کی سابق پروفیسر ڈاکٹر ارتکاز افضل کا بھی اس کتاب میں شامل ہے ،جس میں وہ لکھتی ہیں کہ ’’ ڈاکٹر شکیل احمد کے انشایئے گو کہ اپنے سیاق کے اعتبار سے مختلف الجہت ہیں لیکن معنویت کے اعتبار سے تہہ دار اور لطیف ہیں ۔ ‘‘ کتاب کا انتساب مصنف نے ’’ والدہ محترمہ نسیمہ بیگم اور والد محترم بشیر احمد خان کی یاد میں ‘‘ کیا ہے ۔ کتاب ممبئی سے ’’ کتاب دار ‘‘ کے زیر اہتمام بہت خوبصورت انداز میں شائع ہوئی ہے ، کاغذ اور طباعت معیاری ہیں ۔ سرورق جو ممبئی کے روف صادق کا بنایا ہوا ہے ، لاجواب ہے ، کتاب میں ان کے چند اسکیچ بھی شامل ہیں ۔ کتاب ۱۷۶ صفحات کی ہے ، قیمت ۳۰۰ روپیے ہے ۔ اسے ’’ کتاب دار ‘‘سے ( موبائل نمبر 9869321477) یا پھر مصنف سے ( موبائل نمبر 8308219804) دیے گیے نمروں پر رابطہ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

You may also like

Leave a Comment