کملا ہیرس:اٹارنی جنرل سے پہلی خاتون نائب صدربننے تک کا سفر

امریکی صدارتی انتخابات پرہندوستانیوں کی بھی نظر ہے۔ اس کی وجہ ڈیموکریٹک پارٹی سے نائب صدر امیدوار کملا ہیرس کی والدہ کاہندوستانی نژاد ہونا ہے۔ اگرچہ ہیرس ایک امریکی کہلانے کو ترجیح دیتی ہیں ، لیکن انہوں نے بھارتی کمیونٹی کو خوش کرنے کے لئے انتخابی مہم کے دوران اپنی ہندوستانی جڑوں کا بھی ذکر کیاتھا۔
ہفتے کے روز سب سے زیادہ آبادی والی امریکی ریاست کیلیفورنیا کی پہلی خاتون اٹارنی جنرل نے ملک کی پہلی سیاہ فام نائب صدر بن کر تاریخ رقم کی۔ اسی کے ساتھ کملا اس مقام تک پہنچنے والی پہلی منتخب خاتون اور پہلی ایشین امریکی بھی بن گئیں۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کملا ہیریس 2003 میں سان فرانسسکو کی پہلی خاتون ڈسٹرکٹ اٹارنی منتخب ہوئی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل کی حیثیت سے دو بار کامیابی حاصل کی۔ اس وقت کملا ہیرس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی ایک ابھرتی ہوئی اسٹار کے طورپر اپنی شناخت بنائی اور اس کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے کیلیفورنیا کے امریکی سینیٹر کا الیکشن 2017 میں لڑا۔
وہ امریکی سینیٹ میں منتخب ہونے والی دوسری سیاہ فام عورت بن گئیں۔ بحیثیت امریکی سینیٹر ہیرس سینیٹ کی جوڈیشل کمیٹی کی اہم سماعتوں میں اس وقت کے سپریم کورٹ کے نامزد امیدوار بریٹ کاوانوف اور اٹارنی جنرل ولیم بار کے خلاف اپنے سوالات کی وجہ سے کافی مشہور رہی ہیں۔ عدالتی کمیٹی کے علاوہ کملا سینیٹ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی اور گورنمنٹ افیئرز کمیٹی ، انٹلیجنس کی سلیکٹ کمیٹی اور بجٹ کمیٹی میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
کملا جمیکا میں پیدا ہونے والے والد ڈونلڈ ہیرس اور ہندوستانی نژاد والدہ شیاما گوپالن کی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ کینسر کی محققہ تھیں ، جن کا 2009 میں انتقال ہوگیا تھا۔ کملا نے جو بائیڈن کے خلاف 2020 میں ملک کی پہلی خاتون صدر بننے کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کی داخلی امیدوار کے طورپر نامزدگی داخل کی تھی۔ لیکن دسمبر میں انہیں مقابلہ سے دستبردار ہونا پڑا۔
انتخابی مہم میں زبردست مخالفت کے باوجود ، بائیڈن نے کملا کی اہلیت کے پیش نظر انھیں اپنی نائب صدارتی امیدوار نامزد کیا۔ ہاورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل کملا نے کیلیفورنیا یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کی ہے۔ کملا کی پیشے سے اٹارنی ڈگلس ایم ہاف سے شادی ہوئی ہے۔ ڈگلس کی پہلی شادی سے دو لڑکےہیں اوردونوں کملا کو بہت پسند کرتے ہیں اور پیار سے انھیں ‘مومالا’ کہتے ہیں۔
جیسے جیسے نائب صدر کے عہدے کی امیدوار اور بھارتی نسل سے تعلق رکھنے والی کملا ہیرس فتح کے قریب پہنچ رہی ہیں ، تامل ناڈو کے ان کے نانھیالی گاؤں تھلاسینتھیرا پورم اور پینگاناڈو میں جشن کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو یقین ہے کہ وہ جیت جائیں گی۔ سب باضابطہ اعلان کے منتظر ہیں۔ گاؤں والے رنگولی سے کملا کی تصویر بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ گاؤں کی سڑکوں پر کملا کے پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ تمل ناڈو میں امریکی انتخابات کے نتائج پر چائے کافی کی دکانوں پر تبادلۂ خیال کیا جارہا ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ کی نومنتخب نائب صدر کملا ہیریس اب بھی ہندوستان میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان کے ماموں گوپالن بالاچندرن نے کہا کہ میں نے ایک دن قبل کملا کو بتایا تھا کہ وہ الیکشن جیتنے والی ہیں۔ دہلی کے رہائشی بالاچرن نے کہا کہ یہ ہم سب کے لئے خوشی اور فخر کا دن ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*