معروف صحافی کمال خان کے انتقال پر امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کا اظہارِ تعزیت

پٹنہ:معروف ہندی نیوز چینل این ڈی ٹی وی انڈیا کے لیے کام کرنے والے اتر پردیش کے سینئر صحافی کمال خان کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ ایک بے باک، صاف گو اور ایماندار صحافی تھے۔ ان کا جانا بلا شبہ قومی صحافت کا بڑا نقصان ہے۔ آج کی ڈرامائی صحافت کے دور میں بھی وہ اپنی سنجیدہ اور صاف ستھری صحافت کے ذریعہ امتیازی حیثیت رکھتے تھے اور ملک کے چنندہ صحافیوں میں ان کا شمار ہو تا تھا۔ ایسے نازک دور میں جب صحافیوں پر منفی تبصرے ہی زیادہ ہوتے ہیں ایسے دور میں بھی قارئین اور سامعین کے دلوں میں اپنی غیر جانبدارانہ صحافت سے جن چند صحافیوں نے گھر بنایاان میں مرحوم کمال خان کا نام بھی شامل تھا۔یہ باتیں امیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے صحافی کمال خان کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کی چیخ پکار والی صحافت کے دور میں بغیر سنسنی پھیلائے مسائل کو صاف ستھرے انداز میں پیش کرنے کا سلیقہ کمال خان کے اندر موجود تھا۔ انہیں خوبیوں کی وجہ سے انہیں صحافتی دنیا کے بیش قیمتی رام ناتھ گوئنکا اور گنیش شنکر ودیارتھی ایوارڈز سے نوازا گیا تھا۔ ان کی زبان کی سلاست، چاشنی اور روانی رپورٹنگ کی دنیا میں دیر تک یاد کی جاتی رہے گی۔ان کے اندر کسی بھی تلخ بات یا سخت نکتہ چینی کو ہلکے پھلکے انداز اور محبت آمیز لہجے میں کہنے کا سلیقہ موجود تھا۔وہ غزل پڑھتے پڑھتے خبر سنا دیتے تھے ،جسے ان کے مختلف رپورٹز میں دیکھا جا سکتا ہے۔حضرت مدظلہ نے آج کے صحافیوںکو بھی ان کے جیسی تحقیقی صحافت اور تہذیبی زبان کو اپنانے کا مشورہ دیا۔ خیال رہے کہ روز جمعہ14 جنوری2022 کی صبح لکھنؤ میں اپنی رہائش گاہ پر61برس کی عمرمیں کمال خان نے آخری سانس لی۔ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔ امیر شریعت نے مرحوم کی مغفرت اورپسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا ء فرمائی ہے۔