کلیم عاجز (مونوگراف )

مصنف : جاوید عبدالعزیز
صفحات : 124،قیمت :80روپے ،سن اشاعت : 2020
ناشر : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی
مبصر : عبدالباری قاسمی
بیسویں صدی میں اردو غزل کو منفرد اسلوب اور آہنگ عطا کرنے والوں میں ایک اہم نام ڈاکٹر کلیم عاجز کا بھی ہے ،کلیم عاجز بنیادی طورپر غزل کے شاعر ہیں اور غزل کی وجہ سے ہی انہوںنے برصغیر میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کی اور یورپی ممالک کا بھی سفر کیا ،مگر انہوں نے اردو شاعری کے اکثر اصناف میں طبع آزمائی کی ہے ،خاص طور پر ان کی نظمیںبہت عمدہ ہیں ،بیسویں صدی میں میرکے لب ولہجہ اور انداز بیان کو زندہ کیا اس وجہ سے ان کو میر ثانی بھی کہا جاتا ہے ،کلام میں سوز و گداز اور رنج و غم ایسا ہے کہ کہیں کہیں عاجز کے غم کے سامنے میر کا غم پھیکا معلوم ہوتا ہے ،عاجز لفظیات کے انتخاب اور تشبیہات و استعارات کے استعمال میں ایسی مہارت رکھتے ہیں کہ ان کا اسلوب اور طرز بیان ایسا مختلف ہو جاتا ہے کہ اپنے تمام معاصرین میں سب سے ممتاز نظر آتے ہیں ۔
اسی طر ح نثر میں بھی ان کاجواب نہیں ہے سوانح نگاری ،خاکہ نگاری ،سفرنامہ نگاری اور مکتوب نگاری میں بھی انہوں نے الگ شناخت قائم کی اور ایسااسلوب اختیار کیا ہے کہ اگر وہ شاعری نہیں بھی کرتے تو ادبی دنیامیں ان کا تعارف کرانے اور انہیں زندہ و تابندہ رکھنے کے لیے ان کی نثر ہی کافی ہوتی ۔
زیر تبصرہ مونوگراف کلیم عاجز جاوید عبدالعزیز نے تحریر کیا ہے ،اس کی فہرست کی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف کی نگاہ عاجز کی شخصیت اور فن کے ہر پہلو پر ہے اور بہت گہرائی سے کلیم عاجز کا مطالعہ کیا ہے ،اس لیے اس مونوگراف میں کلیم عاجز کے فکرو فن کے تمام گوشوں کا مختصر انداز میں تعارف کرانے کی کوشش کی ہے اور اس انداز سے مواد کو سمیٹا ہے کہ بلا جھجک ہم کہ سکتے ہیں کہ جاوید عبدالعزیز دریا کو کوزے میں سمونے
میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔
مذکورہ مونوگراف تین حصوں پر مشتمل ہے ،پہلے حصہ کا عنوان شخصیت اور سوانح ہے ،اس میں خاندانی ماحول،پس منظر ،تعلیم و تربیت اور حالات زندگی کو بیان کیا گیا ہے ،دوسرا حصہ ادبی و تخلیقی سفر کے نام سے معنون ہے ،اس میں ابتدا میں ان کا شعری اور تخلیقی پس منظر اور اسباب کو بیان کیا ہے اس کے بعد ان کی تصانیف اور شعری مجموعوں کا تعارف کرایا گیا ہے جن میں بطور خاص ’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا ‘‘،’’جب فصل بہاراں آئی تھی‘‘ ،’’یہاں سے کعبہ اور کعبہ سے مدینہ (سفرنامہ حج‘‘،’’ ایک دیس اک بدیسی ‘‘،’’جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی ‘‘،’’ابھی سن لو مجھ سے ‘‘ ،’’دیوانے دو ‘‘ ،’’دفتر گم گشتہ ‘‘ ،’’کوچہ ٔ جاناں جاناں‘‘۔’’پہلو نہ دکھے گا ‘‘،’’میری زبان اور میرا قلم (جلد اول اور جلد دوم )‘‘ ،’’ پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا ‘‘ ،’’مجلس ادب ‘‘ اور ’’ ہاں چھیڑو غزل عاجز‘‘ شامل ہیں ۔
اس کے بعد اس حصہ کو دو زمروں میں تقسیم کیا ہے کلیم عاجز بحیثیت شاعر اور کلیم عاجز بحیثیت نثر نگار ،پہلے زمرے میںعاجز کی شاعری کا تعارف ،امتیازات ، خصوصیات اور موضوعات کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کلام کے متعلق ان کے کیا خیالات ہیںاور دیگر ناقدین نے ان کے کلام پر کیا کیا تبصرے کیے ہیں مختصر انداز میں پیش کیا ہے جبکہ دوسرے میں نثرنگاری کا تعارف کراتے ہوئے سفرنامہ ،خاکہ، مکتوب نگاری اور تنقید نگاری وغیرہ کو بیان کیا ہے اور نثری اسلوب کا تعارف کرایا ہے اور بطور مثال متعدد کتابوں سے چند اقتباسات پیش کیے ہیں جس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کس کتاب میں کلیم عاجز نے کس طرح کا اسلوب اختیار کیا ہے اور ان کے موضوعات کیا ہیں ۔مونوگراف کے تیسرے حصہ میں کلیم عاجز کے منتخب کلام کو پیش کیا گیا ہے ،اس میں کلیم عاجز کی منتخب غزلیں ،نظمیں ،نعت اور مرثیہ وغیرہ شامل ہیں ۔
یہ مونو گراف کلیم عاجز کی شخصیت اور فن کو سمجھنے کے لیے بہت ہی اہم ہے ،طباعت بھی بہت عمدہ ہے اور اس لحاظ سے قیمت بھی مناسب ،امید ہے کہ قارئین پسند کریں گے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*