کلامِ جوہر : یہ گل و بلبل ، گیسو و کاکل اور عارض و رخسار کی شاعری نہیں ہے ۔ شکیل رشید

مولانا محمد افضال الحق جوہر قاسمی ، ایک باکمال عالمِ دین ، بہترین مدرس ، اور اعلیٰ ادبی ذوق رکھنے والی شخصیت کا نام تھا ۔
وہ تقریباً ۸۹ سال تک ، مذہبی ، جماعتی ، سیاسی اور ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ، اور جب ۳۰ ، نومبر ۲۰۱۲ء کو انتقال کیا تو اپنے پیچھے اپنی یادوں اور کاموں کے علاوہ اپنی تحریروں کا ایک بڑا ذخیرہ بھی چھوڑ گیے ۔ اس ذخیرہ میں مرحوم کا کلام بھی شامل تھا ۔ نوجوان محقق ، ادیب اور عالمِ دین مولانا محمد عرفات اعجاز اعظمی نے اسے تلاش کر کے ، محنت سے مرتب کیا ہے اور ’’ کلام جوہر ‘‘ کی شکل میں ، مولانا مرحوم کے شائقین اور ادب نوازوں کی خدمت میں پیش کیا ہے ۔ ’’ کلام جوہر ‘‘ کے تعارف سے پہلے مولانا مرحوم کا کچھ مزید ذکر ہو جائے ۔ مولانا اکثر ممبئی آیا کرتے تھے ، اور بھنڈی بازار سے ڈونگری کی جانب جانے والے راستے امام باڑہ روڈ پر واقع ’ فرحان کائٹ سینٹر ‘ پر ، مغرب کے بعد جمنے والی محفلوں میں شریک رہا کرتے تھے ۔ ان محفلوں میں گلزار اعظمی ، دوکان مالک علاء الدین انصاری ، مولانا محمود الحسن قاسمی مرحوم ، غنی خان مرحوم اور دوسرے با شعور افراد اور علماء کرام شریک رہتے تھے اور مختلف علمی ، دینی و سیاسی موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی ۔ کبھی کبھار جب اس راستے سے میرا گزرنا ہوتا تھا تب کچھ دیر کے لیے میں وہاں بیٹھ جایا کرتا تھا ، وہیں چند بار مولانا افضال الحق جوہر قاسمی سے میری ملاقات ہوئی تھی ، ان کی شخسیت اور اندازِ گفتگو نے مجھے متاثر کیا تھا ۔ اب نہ ایسی محفلیں سجتی ہیں ، اور نہ ہی ایسے لوگ رہ گیے ہیں ،جو علمی ، ادبی اور سیاسی موضوعات پر سنجیدہ گفتگو کر سکیں ۔ اللہ مولانا مرحوم کی مغفرت فرماے ، آمین ۔
’’ کلام جوہر ‘‘ کی تدوین آسان نہیں تھی ۔ مولانا کی حیات میں ان کے دو مجموعۂ کلام شائع ہوئے تھے ’’ نجم سحر ‘‘ اور ’’ دارورسن تک ‘‘ ۔ ان دو مجموعوں کے علاوہ مرتب کلام کے مطابق ’’ جوہر قاسمی کے بہت سے کلام مختلف رسائل و جرائد مثلاً ’ دانشور ‘ گورکھپور ، ’ الریاض / ریاض الجنۃ ‘ گورینی ، ’ ترجمان دارالعلوم ‘ دہلی ، ’ ماہنامہ دارالعلوم ‘ دیوبند ، ’ تذکرہ ‘ دیوبند ، ’ ہفت روزہ الجمعیتہ ‘ دہلی وغیرہ کے صفحات میں بکھرے پڑے ہیں ، ہم نے اپنی بساط اور رسائی کے بقدر انھیں اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے ، مگر اب بھی ان کے قابل لحاظ کلام کی تعداد ایسی ہو گی جن تک ہماری رسائی نہیں ہو سکی ۔ ‘‘ اتنے سارے رسائل کی ورق گردانی کرنےکے لیے مرتب کو کتنی مشکلات سے گزرنا پڑا ہو گا ، اس کا بس اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے ۔ مرتب نے مولانا مرحوم کو ’ جز وقتی ‘ شاعر کہا ہے ، وہ لکھتے ہیں کہ ’’ مولانا جزوقتی شاعر تھے ، طبیعت کی موزونیت انھیں شعر گوئی کی طرف التفات پر مجبور کرتی تھی ۔ ‘‘ کس قدر موزوں رہی ہوگی مولانا کی طبیعت کہ ’ جزوقتی ‘ شاعر ہوتے ہوئے بھی ان کے کلام کی تعداد اتنی ہے کہ ہنوز سب دستیاب نہیں ہو سکا ہے ! مرتب کا مولانا کی شاعری کے بارے میں کہنا ہے کہ ’’ ان کی شاعری روایتی گل و بلبل ، گیسو و کاکل اور رخسار و عارض والی نہیں ہے ، بلکہ ان کی شاعری مقصدی اور بامعنیٰ ہے ۔ وہ اپنے کلام سے زبان و ادب کے ساتھ وطن اور قوم و ملت کی خدمت کرنا چاہتے تھے ۔ اور خدا نے ان کی ذات میں یہ صلاحیت رکھی تھی کہ وہ اِن مقاصد کے حصول کے لیے اپنے کلام موزوں کا استعمال کریں ۔‘‘ مرتب کے مذکورہ تبصرے پر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ روایتی شاعری بھی مقصدی اوربامعنیٰ ہوتی ہے ۔ ایک بات یہ بھی کہنی ہے کہ مولانا افضال الحق جوہر قاسمی کی شاعری کو ’ مقصدی اور بامعنیٰ ‘ کہنا ، اسے محدود کرنے کے مترادف ہے ، مولانا کی شاعری میں بھلے روایتی عناصرنظر نہ آتے ہوں ، مگر سچ یہی ہے کہ گل و بلبل ، گیسو و کاکل ، جام و مینا اور رخسار و عارض کا ذکر نہ ہونے کے باوجود ، ان کی شاعری میں روایت سے صرفِ نظر نہیں کیا گیا ہے ۔ کچھ مثالیں آگے آئیں گی ۔ کتاب میں مولانا کے کلام پر ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی کا ایک وقیع مقالہ ’’ مولانا افضال الحق جوہر قاسمی : مقام و کلام ‘‘ شامل ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ مولانا مرحوم کی شاعری دارالعلوم دیوبند کے پاکیزہ ماحول میں پروان چڑھی ، اور وہاں کے بہت سارے شعرا نے جو ’’ حقیقت پسندی کے ساتھ انسان کے پاکیزہ داخلی جذبات کی ترجمانی کی ہے ‘‘ ، مولانا کی شاعری پر بھی اس کے اثرات پڑے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں ’’ مولانا محمد افضال الحق جو ہر قاسمی کے اشعار شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی ۔ ان کے اشعار میں زندگی کی رمق ہے ، حالات حاضرہ اور سیاسی شکست و ریخت پر گہرا طنز ہے ، ان کی نعت عشق نبوی سے سرشار ہے ، قلب حب نبوی میں ڈوبا ہوا ہے ۔ ان کے اشعار کیا اور کیسے دونوں کا بہترین مجموعہ ہیں ۔ ان کی نظمیں بھی روانی اور برجستگی میں لا جواب ہیں اور غزلیں بھی ایسی ہیں کہ وہ معانی کا بحر بے کراں معلوم ہوتی ہیں ۔ مضامین میں صفائی و سادگی ہے ، مگر ان میں تغزل کی فراوانی بھی ہے ۔ نظریاتی اظہار کے باوجود فنی لوازم سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے ۔ ایک ایک شعر میں معانی کا جہاں چھپا ہوا ہے ۔ آپ غور سے ان کے اشعار کا مطالعہ کریں تو کہیں اقبال کی خودی سانس لیتی نظر آئے گی اور کہیں اقبال کے مردمومن سے ملاقات ہوگی ، کہیں فیض احمد فیض کی شعلہ سنجی کا گماں گزرے گا اور کہیں غالب کے فلسفیانہ طرز اظہار سے ہم آغوش ہوں گے ۔ ہر شاعر کی طرح انھوں نے اساتذہ اردوادب اور کلاسیکی شعرا کے طرزسخن کی بھی پیروی کی ہے ۔ ‘‘
تدوین کرتے ہوئے محمد عرفات اعجاز اعظمی نے ’’ کلام جوہر ‘‘ کو آٹھ ابواب میں تقسیم کیا ہے ، ’ حمد ‘ ، ’ نعتیں‘ ، ’ نغماتِ حرم ‘ ، ’ نظمیں ‘ ، ’ غزلیں ‘ ، ’ قطعات ‘ اور ’ کلیاں ‘ ۔ حالانکہ ’ حمد ‘ کا ایک باب ہے ، لیکن شامل صرف ایک ہی ’ حمد ‘ ہے ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ مولانا نے ایک ہی ’ حمد ‘ کہی ہو ، شاید مزید حمدیہ کلام ، باوجود تلاش کے ،نہیں مل سکا ۔ یہ ’ حمد ‘ ۱۴ اشعار پر مشتمل ہے ، اور ہر شعر سے، اللہ رب العالمین کے شکر اور احسان ، اس کی کبریائی اور اس کے پالنہار ہونے کا عاجزانہ اظہار عیاں ہوتاہے ۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں؎
تیرے فرمان کی تعمیل ہے سجدہ تیرا
ہر اشارے پہ جو مٹ جائے وہ بندہ تیرا
جیسی راہوں سے بھی لایا مجھے جذبہ تیرا
میرے لب پہ کبھی آیا نہیں شکوہ تیرا
بن تو جاتے ہیں تراشے ہوئے اصنام خدا
مجھ سے ہوگا نہ کسی اور کو سجدہ تیرا
نعتوں سے عشقِ نبیﷺ جیسےپھوٹی پڑتی ہے ۔ نعتوں کا تقریباً ہر شعریہ ظاہر کرتا ہے کہ شاعر کا دل حبِ نبویﷺ میں ڈوبا ہوا ہے ۔ صلوۃ و سلام سمیت کُل ۱۳، نعتیں ہیں ۔ چند اشعار دیکھیں ؎
نام لیا اور درد ہوا کم
دیکھ لیا اور بھول گئے غم
نادم ہوکر پاپی آتے شاطر قاتل موذی آتے
ڈالتے رہتے رحم کی چلمن صلی اللہ علیہ وسلم
رہِ الفت میں پتھر کھا کے آنسو پی لیے تم نے
تو آنسو بن گئے موتی وہ پتھر ہو گئے پانی
حرم ایک آستانہ تھا ہزاروں آستانوں میں
بتوں نے بھی کیے سجدے جو رکھ دی تم نے پیشانی
باب ’ نغماتِ حرم ‘ میں کلام کی تعداد ۱۹ ہے ۔ یہ کلام حج اور حرم شریف کی زیارت کے موقع پر کہے گئے ہیں ۔ اس باب میں ’ روزہ ‘ ، ’ رمضان المبارک‘اور ’ شب ِ قدر ‘ پر بھی نظمیں ہیں اور زیارت کے مواقع پر کی جانے والی دعاوں کو بھی نظموں کے قالب میں ڈھالا گیا ہے ، دو اشعار ملاحظہ کریں ؎
ہند میں امتِ مرحومہ کو عظمت دے دے
دل کی دھڑکن نہ بڑھا فکر کو جرات دے دے
اپنے آقاؤں کے گن گاتے ہیں گانے والے
ایسے بے چارے مسلمانوں کو غیرت دے دے
باب ’ ترانے اور نعرے ‘ میں دارالعلوم ، جمعیتہ علما، اور مدارس کے ترانوں کے ساتھ ملت ، وطن ، جوانوں اور نوجوانوں کے ترانے اور دو نعرے ’ ہمارا نعرہ ‘ اور ’ آسامی نوجوانوں کا نعرہ ‘ شامل ہیں ۔ یہ بلند آہنگ کے ترانے اور نعرے ہیں ، جرات اور ہمت بڑھانے والے ۔ باب ’ نظمیں ‘ کو چارحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، ’ یادِ ایام ‘، ’ آئینۂ افکار ‘، ’ گردشِ روزگار ‘ اور ’ دارورسن تک ‘۔ ایک نظم ’’ بابری مسجد اور ۶، دسمبر ۹۲ء ‘‘ کے عنوان سے ہے ، پیر مغاں ، ابلیس ، مالک الملک اور سلیمان کی زبانی ۔ اس نظم میں علامہ اقبال کا رنگ دیکھا جاسکتا ہے ۔ ایک نظم ’’ بابری مسجد ‘‘ کے عنوان سے ہے ، لگتا ہے آج کے حالات پر لکھی گئی ہے ، اس میں تسلی بھی ہے ، دلاسہ بھی اور سر کٹانے کا جذبہ بھی ؎
حق کی طاقت ظلم کی کثرت سے دب سکتی نہیں
حق تو ابھرے گا اگرچہ نرغۂ باطل میں ہے
کعبہ ویراں کر دیا ہے ایک مقدس نام پر
پھول جھڑتے ہیں زباں سے آگ ان کے دل میں ہے
’ سر کٹا سکتا ہوں لیکن سر جھکا سکتا نہیں ‘
زندگی کا لطف جوہر ؔ کوچۂ قاتل میں ہے
نظموں کے باب میں مختلف شخصیات ، مقامات ، سیاسی تحریکیوں ، سیاسی واقعات ، عالی منظر نامے ، آر ایس ایس ، مہاتما گاندھی ، فسادات ، اردو زبان وغیرہ پر بھی اظہار خیال کیا گیاہے ، اور بڑےہی سنجیدہ انداز میں ۔ باب ’ غزلیں ‘ میں ۷۲ غزلیں شامل ہیں ۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے مولانا مرحوم نے ساغر و مینا اور گل و بلبل کی شاعری نہیں کی ہے ، لیکن روایت سے انحراف بھی نہیں کیا ہے ۔ مثلاً ان اشعار کو دیکھیں ؎
کنج چمن ہے ، دار و رسن ہے ، قفس بھی ہے
ملیے جہاں بھی ملنے کا امکاں ہے آج کل
زندگی بیت گئی پاسِ وفا میں لیکن
ان سے کچھ بھی نہ ملا وعدۂ پیہم کے سوا
نغمات کا موسم تھا بلبل کی قضا آئی
اب کام نہیں آتی پھولوں کی شناسائی
آب دیدہ ہیں گل و گلزار بھی
ہو گیا صیاد شاید کامیاب
ایسے اشعار جگہ جگہ مل جاتے ہیں ، جن سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا مرحوم نے روایت کو نظر انداز نہیں کیا ، ہاں مگر اسے برتا ہے اپنے انداز میں ۔ ایک اور بات ، مولانا مرحوم کے کلام میں ملکی اور عالمی سیاست کے جبر و طلم کو عیاں کرنے والے اشعار خوب ہیں ۔ مولانا ایک ڈھڑکتا ہوا ، حساس دل رکھتے تھے اور حالات کے رخ کو خوب سمجھتے تھے ، لہٰذا ان موضوعات پر ان کے کلام میں طنز کی ایک گہری کاٹ محسوس کی جا سکتی ہے ۔ دو اشعار مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں ؎
بجھتی ہے جس کی پیاس مرے خون سے وہی
بدقسمتی سے میرا نگہبان ہے آج کل
چلیے گا سر اٹھا کے تو الزام آئے گا
جو بندگی کرے گا وہ نمایاں ہے آج کل
اس کتاب پر بات مولانا ڈاکٹر محمد عمار قاسمی کے ذکر کے بغہر مکمل نہیں ہو سکتی ۔ آپ مولانا مرحوم کے پوتے ہیں ۔ یہ کتاب آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ اس سے قل مولانا کے تحریر کردہ خاکوں کی کتاب ’’ بزمِ کہن ‘‘ شائع کر چکے ہیں ۔ مولانا کے کام ’ ’جوہر قاسمی لائبریری ‘‘کے پلیٹ فارم سے سامنے لا رہے ہیں ، اللہ اس کام میں مزید ترقی دے ۔ کتاب کا انتساب ڈاکٹر محمد عمار قاسمی نے اپنے والد مرحوم یعنی مولانا مرحوم کے صاحب زادے مولانا ڈاکٹر محمد رشاد قاسمی صاحب کے نام کیا ہے ۔ محمد عرفات اعجاز اعظمی کو اس کتاب کی تدوین کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش ہے ، اللہ انہیں سلامت رکھے اور ان سے مزید ایسے ہی کام لے ، آمین ۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے موبائل نمبر( 9936029463) پر رابطہ کیا جا سکتاہے ۔