کالا دھن واپس لانے کا وعدہ محض فریب ثابت ہوا،مودی حکومت کے دوران سوئز بینک میں ہندوستانیوں کی جمع رقم میں 286 فیصد اضافہ

نئی دہلی: سوئز بینک میں جمع ہندوستانیوں کی رقم میں ریکارڈ اضافہ کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اس تعلق سے وزیر اعظم نریندر کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جس سوئز بینک میں جمع کالے دھن کو واپس لانے کے وعدے کے ساتھ 7 سال قبل اقتدار میں آئے تھے، انہی مودی کے دور حکومت میں 2020 کے دوران ہندوستانیوں نے اس بینک میں 20 ہزار کروڑ روپے جمع کرائے ہیں۔
کانگریس ترجمان گورو ولبھ نے جمعہ کے روز پریس کانفرنس کر کے مرکزی حکومت سے کئی معاملوں میں سوال پوچھے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانیوں نے 2020 میں جو رقم سوئس بینک میں جمع کی ہے وہ 2019 کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے، اور ساتھ ہی یہ گزشتہ 13 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2020 میں سوئس بینک میں کل جمع رقم سال 2019 کے مقابلے میں 286 فیصد ہوگئی ہے۔ اس طرح سے کل جمع رقم 2007 کے بعد سب سے بلند سطح پر ہے۔
گورو ولبھ کا کہنا ہے کہ سوئس بینک نے جمعہ کو جو ڈاٹا جاری کیا ہے اس میں ہوئے انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کے ذریعہ سوئس بینک میں جمع کی گئی رقم 2019 کے مقابلے میں 2020 میں 39 فیصد زیادہ ہے۔ کانگریس ترجمان نے یہ بھی کہا کہ سال 2014 میں اقتدار میں آنے سے قبل بی جے پی نے دعوی کیا تھا کہ کالی کمائی کرنے والے ہندوستانیوں کے 17.5 لاکھ کروڑ روپے صرف سوئس بینکوں میں جمع ہیں۔ بی جے پی نے یہ کالا دھن واپس لانے اور ہر ہندوستانی کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے ڈالنے کی بات کہی تھی، لیکن اب ان وعدوں کا کیا ہوا اور کالا دھن پر نقیل کسنے کے عزم کا کیا ہوا!۔پروفیسر گورو ولبھ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں مودی حکومت نے محض کھوکھلے دعوے کیے ہیں، اور ہر بار کی طرح وہ اپنی بات پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے ان لوگوں کے ناموں کا انکشاف کرنے کے لیے کہا جنہوں نے گزشتہ برس سوئس بینکوں میں اپنا پیسہ جمع کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں 97 فیصد ہندوستانی مزید غریب ہوگئے ہیں تو یہ وہ کون لوگ ہیں جو آفت میں موقع تلاش رہے ہیں۔کانگریس ترجمان نے مودی حکومت کو اس سوال کا جواب دینے کے لیے بھی کہا کہ سال 2014 میں بڑے بڑے وعدوں کے ساتھ حکومت بنانے کے بعد مودی حکومت نے کالا دھن واپس لانے کے لیے کیا کوششیں کی ہیں اور کالا دھن غیر ملکی بینکوں میں نہ چھپانے کے لئے کیا کیا قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی نے حکومت سے گزشتہ برس سوئس بینکوں میں جمع کرائی گئی پوری رقم کا نیچر، رقم جمع کرانے والے لوگوں کا نام اور تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری طرف کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے بھی سوئس بینک میں گزشتہ سال ہندوستانیوں کے ذریعہ ریکارڈ جمع رقم پر پی ایم مودی سے سوال کیا ہے۔ انھوں نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’سوئس بینک میں جمع پیسہ اب ہوا 20700 کروڑ روپے۔ سال 20-2019 کے درمیان 286 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ 13 سالوں میں سوئس بینک میں سب سے زیادہ پیسہ! مودی جی جواب دیں- 1.تین سال میں کالا دھن واپس لانے کے وعدہ کا کیا ہوا؟ اب تو 7 سال ہو گئے۔2.کیا خواہش نہیں، یا پیسہ دوستوں کا ہے؟۔