کل صبح کا سورج ـ مالک اشتر

ہم بھی کیسے رونگٹے کھڑے کر دینے والے وقت کے گواہ بن رہے ہیں۔ جو کبھی کہانیوں میں سن کر حیران ہوتے تھے اس سے زیادہ سنگین اپنی آنکھوں کے سامنے گزرتا دیکھ رہے ہیں اور قیامت یہ ہے کہ اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ اب اور برا نہیں ہوگا۔ وبا کی آندھی اپنی ٹکر سے زندگی کے کواڑوں کو توڑے دینا چاہتی ہے۔ ہر جھکڑ پر کونے میں دبکی زندگیاں ڈر کر کچھ اور سمٹی جا رہی ہیں۔ بزرگوں کے خوفزدہ چہروں کو موت نے اس جھجک سے بے نیاز کر دیا ہے کہ ہمارے ماتھے پر ڈر کی لکیریں دیکھ کر بچے کیا سوچیں گے؟۔ سینہ تو بیٹھے بٹھائے پہلے بھی گھٹا کرتا تھا لیکن تب اس کی مٹی سے اندیشوں کے ایسے پودھے کہاں اگتے تھے؟۔ اب جب رات کو سانس کی ایک لڑی بھی ادھر سے ادھر ہوتی محسوس ہوتی ہے تو دل اندیشوں میں پہلے ڈوبنے لگتا ہے۔ کہیں مجھے بھی تو وبا نے نہیں آ لیا؟ فلاں بھی تو ایسے ہی رات کو سویا تھا اور صبح کو۔۔۔۔۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔ لیکن یہ سانس کیوں گھٹ رہی ہے؟ پتہ نہیں صبح دیکھنی نصیب ہوگی یا نہیں۔
یہ سارا رونا ہی اس کا ہے کہ ہم اگلی صبح دیکھنا چاہتے ہیں اور ادھر ایک-سوا برس سے کوئی ہے جو ہمارے یہاں آ بیٹھا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم سوتے رہ جائیں۔ بچپن میں سریا مار گروہ کی بھی ایسی ہی دہشت سنی تھی۔ لوگ بتاتے تھے کہ وہ آتے ہیں اور سوتے ہوؤں کا سر لوہے کا سریا مار کر پاش پاش کر دیتے ہیں۔ انسان مرا پڑا رہ جاتا ہے اور وہ سامان سمیٹ کر چلے جاتے ہیں۔ یہ جو ہمیں اگلی صبح نہ دیکھنے دینے کے لئے آیا ہے یہ بھی ہے تو سریا مار ہی جیسا، بس فرق یہ ہے کہ یہ ہمارا سامان چرا کر نہیں لے جا رہا۔
سریا ماروں کی دہشت سے نہائی راتوں میں دیہات کی عورتیں اپنے آنگن سے دوسرے آنگن کی عورتوں کو مخاطب کرکے زور زور سے باتیں کیا کرتی تھیں۔ اس وقت سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن اب پتہ چلتا ہے کہ وہ بے مقصد گفتگو دہشت کو پرے دھکیلنے کی کوشش تھی۔ مرد ٹولیاں بنا کر پہرہ دیتے تھے۔ آج جب پھر اگلی صبح کا سورج دیکھنے کی ضمانت لینے والا کوئی نہیں تو لوگ دوبارہ پہرا دینے نکلے ہوئے ہیں۔ اس بار یہ پہرے دار جانباز نرسوں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹروں کی شکل میں ہیں۔ان میں مرد اور عورتوں کا امتیاز نہیں۔ اس بار ان کی گردش اندھیری گلیوں کے بجائے اسپتالوں کی راہ داریوں میں ہے۔
ویسے زندگی کی اس بے سرو سامانی میں اگلی صبح دیکھنے کے لئے کئے جا رہے یہ جتن کبھی کبھی بے مقصد معلوم ہوتے ہیں۔ مایوسی سوال کرتی ہے کہ اگلی صبح ایسا کیا دیکھنا ہے جس کے اشتیاق میں ہر حال میں جاگ جانے کی دعائیں کی جا رہی ہیں؟۔ کیا یہ دیکھنا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹے میں کتنے لوگ وبا کی بھینٹ چڑھے؟۔ یہی تو کیا ہے اس نے کہ انسانوں کو بس ایک گنتی بنا دیا ہے۔ اب جیسے نمبر ہی سب کچھ ہوں۔اتنے مرے، اتنے ٹھیک ہوئے اور اتنے نئے بیمار پڑ گئے۔ سب انہیں نمبروں میں کھوئے ہوئے ہیں اور دل ہی دل میں گڑگڑاتے جاتے ہیں کہ بس ہمارا نمبر نہ آئے۔
میدان حشر کے تلاطم کا ذکر کرتے ہوئے واعظ کہتے ہیں کہ اس کو کسی مثال سے نہیں سمجھا جا سکتا لیکن وبا کی وجہ سے اسپتالوں کی ڈیوڑھی پر جو ہنگام بپا ہے وہ بھی کسی محشر سے کم نہیں لگتا۔ بلاشبہ یہ اس زمین پر انسانی تاریخ میں کسی کی بھی طرف سے انسان کو ملا سب سے سنگین چیلنج ہے۔ قبرستان چھوٹے پڑ گئے ہیں اور شمشان کے وہ تختے پگھلنے لگے ہیں جن پر رکھ کر مردوں کی آخری رسومات ادا ہوتی ہیں۔ سورج روز صبح سر نکال کر زمین کو دیکھ لیتا ہے کہ آج کتنے انسان ‘گنتی’ ہو گئے۔ اس سانسیں اکھاڑ دینے والے ماحول میں بھی انسان کا حوصلہ ہے کہ ہتھیار نہیں ڈال رہا۔ دربانوں کو دشمن کا حلیہ بتا دیا گیا تھا کہ اسے قلعہ میں گھسنے نہ دیں تو دشمن نے چولا ہی بدل لیا ہے کہ چوکیدار دھوکہ کھا جائیں۔ اتنے چالاک اور مہلک دشمن کے سامنے یہ چھوئی موئی سا انسان پہاڑ سا ڈٹا ہوا ہے۔ جانتا ہے کہ بہت نقصان ہوا ہے لیکن یہ بھی معلوم ہے کہ اگر دشمن کے ابھی زنجیر نہیں ڈالی تو سب کچھ خاک ہو جائے گا۔ یہی زنجیر ڈالنے کی خاطر، کتنے ہی لوگوں نے اپنے سروں کو انسانی قلعہ کی فصیل بنانے کے لئے آگے کر دیا ہے۔ وہ لوگ جو ویکسین لگا رہے ہیں، وہ جو ٹیسٹ کر رہے ہیں، وہ جو علاج کر رہے ہیں، وہ جو اسپتال میں پرچیاں بنا رہا ہے، وہ جو اپنی ایمبولینس میں ابھی ایک مریض لایا ہے اور دوسرے کو لانے دوڑ رہا ہے، وہ جو وارڈ سنیٹائز کر رہا ہے، وہ جو کورونا وارڈ کی نگرانی کر رہا ہے، وہ پی پی ای کٹ میں لپٹا شخص جو کسی کووڈ سے مرنے والے کو دفنانے یا جلانے لے جا رہا ہے۔ یہ سب اس لڑائی میں ہماری سپر ہیں۔ یہ جنگ مشکل ہے مگر لکھ لیجیے کہ اسے انسان ہی جیتے گا۔