کیسے اللہ والے ہیں یہ اے خدا ـ آصف انظار عبدالرزاق صدیقی

امارت شرعیہ میں انتخاب امیر کامسئلہ تا حال گمبھیر بنا ہوا ہے۔ عہدۂ نیابت پر ایک مشکوک خط کے ذریعے متعین نائب امیر جناب شمشاد رحمانی صاحب پوری طرح چار لوگوں کے دباؤ میں ہیں۔پس پردہ سب سے بھاری دباؤ فہد رحمانی صاحب کا ہے۔جس کا بے خودی میں ہی سہی مگر کئی دفعہ ششماد صاحب سے اظہار ہوگیا۔بقیہ تین بزرگوں میں ابو طالب رحمانی مشہور شخصیت ہیں مدرسے میں انھوں نے عربی اول تک کی تعلیم حاصل فرمائی ہے اور یہی حضرت کا مبلغ علم ہے۔البتہ سیاسی بازیگروں کے ساتھ لمبی یاری رہی ہے ہرطرح کی سیاسی حرکتوں کے ماہر ہیں۔
ڈال ڈال پات پات اچھل کود پیشہ ہے کہ مبلغ علم کے اس قدر سمٹے ہوئے دائرے کے ساتھ ہمارے ممدوح کسی علمی فکری تعلیمی تدریسی مصرف کے نہیں ہیں۔۔اور خیر سے طول سخن کے لیے گز بھر کی زبان لیے پھرتے ہیں۔جس کی جولانی کے لیے مقرری پیشہ فرماتے ہیں۔آج کل چونکہ لاک ڈاؤن نے اسلام اور مسلمانوں کو ہر طرح کے خطرات سے محفوظ کردیا ہے۔لہذا ہم لوگ بنا قومی یک جہتی کے مہنگے پانچ ستارہ جلسوں کے بھی سکون محسوس کرتے ہیں۔تعلیمی ادارے مقفل ہیں تو پیشہ ور مقرروں سے بھی جان چھوٹی ہوئی ہے۔۔مگر انھیں پیشہ ور رٹو مقرروں میں سے ایک امارت شرعیہ کی جان کو چمٹ گیا ہے۔خالی مباش کچھ کیا کر پر عمل کرتے ہوئے۔جناب ابو طالب رحمانی” مد لسانہ المچرب "نے تازہ تازہ وارد بساط شوق محترم احمد فیصل ولی رحمانی امریکی صاحب کو امارت شرعیہ کی امیری کے دو چار لذیذ قتلے کھلا دیے ۔جاہ ومنصب کا نشہ جیسے ہی امریکی دماغ پر چڑھا بہاریوں کی جان سے ایک نئی آفت چمٹ گئی ـ
اپنے طور پر اردو کی چار لائنیں غلط املا سے پڑھے ہوئے ابوطالب رحمانی صاحب اور فکری نابالغ فھد بابو سلمہ نے ہوس امیری کے تانے بانے بننے شروع کئے۔پلاننگ عمدہ تھی بس ناتجربہ کاری سے رنگ تھوڑا ادھر ادھر ہوگیا۔
خود ہی غور کریں۔نائب امیر مقرر کرنے والا ڈرامہ کس خوش اسلوبی سے اسٹیج ہوا۔مگر آخر کو جب نامزد تقرری کا خط سامنے آیا تو بیچ چوراہے ہنڈیا پھوٹ گئی وہ راز جو طشت میں تھا مگر بام پر نہ آیا تھا وہ اپنی غلاظت سمیت بام سے نیچے گر پڑا اب ہر طرف تعفن ہی تعفن ہے۔کرونا سے متاثر ناک بھی سونگھ سکتی ہے کہ یہ خط حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ علیہ کی طرف بے حد مشکوک نسبت رکھتا ہے۔جس پر بہت سے ناقدین فن نے بحث کی ہے۔
ڈرامے کا پلاٹ اور اداکاروں کا انتخاب قابل داد ہے۔۔مگر چوک یہاں ہوگئی کہ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کا وہ لیٹر پیڈ ہدایت کار نکال لائے جسے نہ جانے کب محکمۂ آثار قدیمہ کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔حضرت کے نئے لیٹر پیڈ اور اس کے متن و مواد پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ حضرت انتقال سے قبل جو لیٹر پیڈ استعمال فرماتے تھے وہ حضرت کی کج کلاہی کا بین ثبوت تھا۔جہاں حضرت کا نام بڑے البیلے ترچھے انداز میں سرنامے کی بائیں اُور بڑے دلکش انداز میں چھپا ہوا تھا اور وہیں حضرت کی قدیم شناخت یعنی سجادگی خانقاہ رحمانی درج تھا۔
پھر بالکل زیریں حاشیے پر کل ملا کر تیرہ بڑے چھوٹے منجھلے عہدوں کی تفصیل مندرج تھی جس میں سب سے اہم امارت شرعیہ کی أمیری بعدازاں پرسنل لا بورڈ کی وزیری تھی۔
لیکن نائب امیر کی تقرری کے لیے محترم ششماد رحمانی سلمہ کو جو خط پکڑایا گیا وہ نہایت قدیم لیٹر پیڈ تھا۔جب مولانا ولی رحمانی صاحب ہر طرح کے عہدوں کی آلائش سے پاک قدیم طرز کے خانقاہی بزرگ ہوا کرتے تھے اور آپ کی پہچان خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشین کی تھی اور بس ۔جو لوگ مولانا کی زندگی سے واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے تھے کہ مولانا صرف سجادہ نشین دہائیوں پہلے ہوا کرتے تھے۔گزشتہ کم از کم تین دہائیوں سے تو وہ ملت کے لیے ہر محاذ پر کھڑے تھے اور مع عہدہ کھڑے تھے۔
دوسری بڑی غلطی پرچہ نویس کاتب سے ہوئی اور ہونی بھی چاہے کہ عربی اول پڑھ کر عالم بنے ابوطالب رحمانی اور جنریٹر آپریٹر سےآفس سکریٹری گھوشت کئے گئے جناب ارشد رحمانی المعروف روشن حیات صاحبان سے آپ زبان واسلوب کے کس معیار کی توقع کر سکتے ہیں۔
اب اس تقرری نامے میں زبان وبیان کی جو فحش غلطیاں ہیں وہ تو ہیں ہی۔ساتھ ہی مضمون ایسا واہی ہے کہ حاشا مولانا ولی رحمانی صاحب سے ایسے لچر خط کی توقع نہیں کی جاسکتی۔پھر وہ تقرری نامہ تھا کوئی قصیدہ خوانی کا مقالہ نہ تھا کہ وہ عزیزی شمشاد سلمہ کی احسان وسلوک کے راستوں پر پڑے ان کے نقش ہائے قدم کی تفصیل بتاتے۔ وہ امیر تھے لکھ دیتے کہ شمشاد کو نائب مقرر کیا جاتا ہے۔
یہ تقرری فقہی نقطۂ نظر سے بھی مشکوک ہے۔خیر ہمیں کیا جانیں ڈرے سہمے مفتی۔ ہم تو صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ امارت میں جو کچھ چل رہا ہے اسے دیکھ کر آپ پر فرض ہے کہ آپ دین کا لبادہ اوڑھے دینی شخصیات سے جی بھر کر یقینی بدگمانی میں مبتلا ہوں اور دل میں اٹھے غم وغصے کی لہروں کو زبان وقلم کے راستے شہرمیں داخل ہونے دیں۔آپ کے قلم سے اٹھی طغیانی کا فرض ہے کہ وہ ان دینی خاشاک کو اڑانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
دینی شخصیات دھوکہ دہی فریب اور دسیسہ کاری کے ایسے مقامات پر مقیم ہیں کہ تزکیہ واحسان اور راہ سلوک کی ساری صوفیانہ مشقیں اکارت ہوں گی۔
آپ کو یاد ہی ہے۔امیر امارت شرعیہ کے انتخاب کے لیے جو طریقہ عزیزم شمشاد رحمانی سلمہ نے فھد رحمانی، ابو طالب رحمانی وغیرہم کی رہنمائی میں وضع کیا وہ کیسا غیر دستوری غیر شرعی تھا۔ہر طرف الامان و الحفیظ کا شور اٹھا غیرت مند نوجوان علماء نے اپنے دور وکرب کا اظہار کیا۔تو اکابر علماء کی طرف سے بھی ان کی غیرت کو سند ملی۔
ہم جیسے فقیروں کی ایک جماعت ہفتوں ارباب امارت سے گفت شنید کرتی رہی۔شوری کے قریب ترپن ممبران نے اس طرز انتخاب کو رد کرنے کی سفارش کی۔احقر خود تین الگ الگ وفود میں یہ گزارشات لے کر گیا۔کارکنان امارت نے ہماری بات سنی مشورہ ہوا اور انتخاب کو رد کرنے کا فیصلہ ہوا۔
اب پھر سے رسہ کشی شروع ہوئی۔۔ابوطالب رحمانی ظفر عبد الرؤف اور عارف رحمانی سہ پہر سے ٹائپ شدہ پریس ریلیز کو دس بجے رات تک روکے رہے تاآنکہ شہری ممبران کا ایک وفد پھر سے علماء اور دانشوروں کے ساتھ امارت پہنچا۔
جب ہم امارت پہنچے تو” مِنٰی کے یہ تینوں باشندے” نائب صاحب کو نرغے میں لیے ہوئے تھے۔۔فقیر جلال میں تھا۔۔صورتحال یہ تھی ماسوی اللہ ہر چیز جذبۂ دروں سے بھسم ہوا چاہتی تھی کہ” باشندگان مِنٰی” کو احساس ہوا۔نائب امیر نرغے سے چھوٹے پریس ریلیز امارت سے چھوٹا۔مگر متن چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں کی اعلی مثال۔انتخاب علماء مفتیان اور عوامی دباؤ میں منسوخ ہوا تھا مگر بہانہ یہ کیا کہ اڑیسہ و جھارکھنڈ میں لاک ڈاؤن سے انتخاب ملتوی ہوا ہے۔دور کے تماشائی اسی کو حقیقت سمجھیں گے ۔
خیر انتخاب ملتوی کیا گیا کارکنان امارت مبارک باد اور شکریے کے مستحق ہیں۔مگر بات انتخاب کے التوا کی نہیں طریقہ انتخاب کے بدلنے کی ہے۔اور ہم اس کے لیے ابھی میدان میں ہیں۔
محترم شمشاد صاحب اس بات کو سمجھیں نوشتہ دیوار پڑھیں اور اگر پڑھنے میں دقت ہو تو ہم فقیروں کی مدد لیں ہم تو دامے درمے قدمے سخنے مدد کے لیے ہمہ دم حاضر ہیں۔رہے نام اللہ کا!

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*