کیسا ہندوستان بنایا ہے-دانش حماد جاذب

اک موقع دو پھول سا کھلتاہندوستان بنائیں گے
خوب ترقی ہوگی چمکتا ہندوستان بنائیں گے
دیش میں لائیں گے کالا دھن
مہکے گا ہر گاوں ہر آنگن
کھل جائے گا سونا ہر من
بچوں کو تعلیم ملے گی
آدی واسی ہو یا ہریجن
ہرسو چھائے گی خوشحالی
سب گائیں گے! کھیلتا ہنستا ہندوستان بنائیں گے

پر صاحب یہ کیسا تم نے ہندوستان بنایا ہے
نفرت کے جو گیت ہیں گاتے وہ انسان بنایا ہے
اس مٹی کے جنمے کو تو نے مہمان بنایا ہے
پھر کیسے کہتے ہو مل کر ہم وہ نشان مٹائیں گے
امن و اخوت قائم ہوگی اک پہچان بنائیں گے
دیکھنا اک دن خوب نکھرتا ہندوستان بنائیں گے

حکم کیا ہے تونے جاری
بند ہوں گی یہ صنعت ساری
پھر مزدور کہاں جائیں گے
کہاں کمائیں کیا کھائیں گے
تیرا دعوی ہیکہ تو نے
ہر گھر میں راشن پہونچایا
پھر یہ دھوپ میں کیوں جلتے ہیں
پھر یہ بھوک سے کیوں مرتے ہیں

بچے بوڑھے گورے کالے
گھر کو جو نکلے یہ متوالے
شب تاریک ہو یا ہوں اجالے
پھر یہ نا دیکھیں پاؤں کے چھالے
بس خواہش ہے گھر جائیں گے
یا رستے میں مر جائیں گے

کیا جیتے جی ان کے مرنے کا سامان بنایا ہے
کیسا حکم دیا ہے کیسا ہندوستان بنایا ہے

تھالی بجایا دیا جلایاـ مزدوروں پر رویا ہے؟
ان کے جیسا تو بھی کبھی رستے پر بھوکا سویا ہے
تو کیا جانے درد ہمارا تو نے کبھی کچھ کھویا ہے؟
ڈوب رہی ہے دیش کی نیا اس پہ کبھی کچھ سوچا ہے

کھیون ہارے کیا اس ناؤ کو تو زندان بنائے گا؟
تیرا یہ وعدہ تھا؟ ایسا ہندوستان بنائے گا؟

دیکھ لیا ہے ہم نے تجھ کو تو کیا دیش چلائے گا
اٹھے گی آواز جہاں سے بس اس کو ہی دبائے گا
تیرے اشارے پر کٹھ پتلی ٹیوی پر ناچ دکھاتے ہیں
تیری منشا کی وہ خبریں دن اور رات دکھاتے ہیں
گرتی جاتی ہے جی ڈی پی اس پہ ڈیبیٹ نہیں کرتے
مرتے ہوئے مزدور کی خبریں کبھی وہ ریپیٹ نہیں کرتے

گرتی ہوئی مزدور کی لاشوں کا میدان بنایا ہے
دھوپ میں جلتا بھوک سے مرتا ہندوستان بنایا ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*