کٹی پوروں سے بہتی سلیم شہزاد کی بھید بھری نظمیں ـ شکیل رشید

سلیم شہزاد کی شعری کائنات میں جھانکنے اور سفر کرنے کے بعد بھی ،اس کےتمام دروازے مجھ پر وا نہیں ہوئےہیں ۔
اس کائنات میں سیکڑوں دنیائیں بستی ہیں ،کٹی پھٹی ،خون آلودہ ،زخم خوردہ اور سنسان و اجاڑ دنیائیں ۔مسافروں کو لہولہان کرنے والی دنیائیں ۔ میرے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا ۔ کسی کے لیے بھی یہ سفر آسان نہیں ہوگا ۔لیکن اگر ان دنیاؤں کا سفرایک بار کر لیا جائےتو ، بار بار ان کے سفر کے لیے دل تڑپتا ہے ،اور جتنی بار ان کا سفر کیا جائے ،کچھ دروازےاور کچھ پرتیں کھلتی جاتی ہیں ،لیکن ان کا بھید پھر بھی ہاتھ آتانہیں ہے ۔ اور یہ بھید کاہاتھ میں نہ آنا ہی ،سلیم شہزاد کی شاعری کی وہ خوبی یا وصف ہے ،جوان کی شاعری کو آج کی شاعری بھی بناتا ہے ،اور آج کی شاعری سے منفرد بھی ۔ سلیم شہزاد کی نظموں کےنئے مجموعہ کا عنوان ہے ’’ کٹی پوروں سے بہتی نظمیں‘‘۔ یہ عنوان اس لیے نہیں رکھا گیا ہے کہ لوگ چونکیں ،جیسا کہ آج کل بہت سے شعراء اپنے مجموعوں کے نام لوگوں کوچونکانے کے لیے رکھتے ہیں ،بھلےہی نام اور مواد میں کوئی ربط نہ ہو ،مگرسلیم شہزادکے شعری مواداور ان کے اس مجموعے کے نام میں ایک ربط ہے ۔ یہ جو کٹی ہوئی پوروں سے نظمیں بہہ رہی ہیں ،یہ کٹے پھٹے اجسام سے بہنے والا لہو ہے ۔ پور چونکہ کٹے ہوئے ہیں ،اس لیے ان سے لہو جاری ہے ،اور یہ پور کوئی خود سے نہیں کٹے ہیں ،یہ کاٹے گئے ہیں ،جنہوں نے انہیں کاٹا ہے ،نہ انہیں دیکھا جا سکتا ہے ،اور نہ ہی جن کے پور کٹے ہیں وہ نظر آ رہے ہیں ،لیکن ان کی چیخیں ان نظموں کے باطن سے پھوٹ رہی ہیں ،اوراگر ہم کان لگائیں توان پھوٹتی ہوئی چیخوں کو ان نظموں میں سن سکتے ہیں ،عتیق اللہ نےکتاب پر اپنے مضمون ’’ سلیم شہزاد کی نظم جو کہیں گم ہو گئی ہے‘‘ میں اسے ’ ان سُنی چیخ‘ کہا ہے ۔ کتاب کے عنوان اور نظموں کی قرأت سے کچھ سوال اٹھتے ہیں ،یہ کس کے پور ہیں ؟ کیوں یہ پور کٹے ہوئے ہیں؟لیکن ان کے جواب نہیں ملتے ،بس اشارے ہی ملتے ہیں ،یہ اشارے سلیم شہزاد کی نظموں کے بھید کو مزیدگہرا کرتے ہیں ،اتنا گہرا کہ کسی تفہیم اور کسی طرح کی تشریح میں بھی حل نہیں ملتا ۔ کتاب کے تعارفی مضمون ’’سلیم شہزاد کی نظمیں پڑھتے ہوئے‘‘ میں شین کاف نظام لکھتے ہیں:’’ اظہار کی سطح پر چھپانا ہی بتانا ہے ۔ شاعری اسی لیے اشارے کا آرٹ ہےجس میں لفظ گنجینۂ معنی نہیں گنجینہ کا طلسم پیدا کرتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ شاعری کی کوئی تشریح یا تعبیر آخری نہیں ہوتی۔۔۔‘‘سلیم شہزاد کی نظموں کی بھی ہر تشریح اور تعبیر ،آخری نہیں ہوگی ،ان کےہر بار نئے معنیٰ نکالے جائیں گے ،اورہر معنیٰ پہلے والے معنیٰ سے منفرد ہوگا ۔مجموعہ کی پہلی نظم کا عنوان ہے ’’ رکابی‘‘،اس کے ایک اقتباس پر نظر ڈالتے چلیں :
اس عہد کو جھریاں کیا پڑیں
کہ فکر کی لاشیں
کبڑی ہوکر اپنےہی
اجداد کے گھن میں
پس گئیں
اس نظم کو پڑھتے ہوئے ’ عہد کی جھریاں‘ ،’فکر کی لاشیں ‘،’اجدا دکے گھن‘، ’کبڑی‘ اور’پس گئیں ‘ جیسے الفاظ آنکھوں کے سامنے ایک تصویر لاتےہیں ،’ زوال‘ کی تصویر ،اسے ’ فکری زوال‘ اور ’اقداری زوال‘ بھی کہا جا سکتا ہے ،اور جب یہ نظم آگے بڑھتی ہے تو یہ تصویر کچھ اور واضح ہو جاتی ہے :
اس عہد کو جھریاں کیا پڑیں
کہ ہم نے افلاس کے چکر میں
اپنے ہی پاؤں جکڑ لیے
ان تین مصرعوں کے بعدآخری پانچ مصرعے ہیں :
اس عہد کی جھریوں کے جھرمٹ میں
ہم تکذیب کی پھنکار سن کر
علالت کے حلق سے یوں گرے
کہ ذلالت کی رکابی
بھر گئی
کتاب کے دائیں جانب کے فلیپ میں دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر شعبۂ اردو صادق نے ،عنوان ’رکابی‘اور نظم کے مصرعوں میں ربط کی تلاش کے واسطے ،پڑھنے والوں کو اکسانے کے لیے ،یہ سوال اٹھایا ہے :’’ بھلا عہد کی جھریوں ،فکر کی لاشوں ،اجداد کے گھن ،افلاس کے چکر اور جکڑے ہوئے پاؤں سے رکابی کا کیا تعلق؟ ‘‘سوال بالکل درست ہے ،بظاہر عنوان اور مصرعوں میں کوئی ربط نظر نہیں آتا ہے ۔ اس سوال کا ایک جواب میری نظر میں ،استعمال کیے گئے تین لفظوں ،’تکذیب‘، ’علالت‘اور’ذلالت‘ میں پوشیدہ ہے ۔ فریب ہی زوال کا سبب ہے ،یہی علالت ہے اور اسی کے نتیجے میں رکابی بھر ذلالت ہے ۔ لیکن یہ نہ آخری تفہیم ہے نہ تعبیر ،اس کی ایک تعبیر یہ بھی ممکن ہے کہ رکابی ابتدا سے تھی ، لیکن ہم نہ جانتے تھے کہ یہ کیسی اور کاہے کی رکابی ہے ، اور نہ ہی اس پر کوئی دھیان دیتے تھے ، لیکن جب یہ پوری بھر گئی ہے تو ہم اس کے وجود سے بھی واقف ہوئے اور یہ بھی جانا کہ ذلالت کی رکابی کیا ہوتی ہے ، اور کیوں بھرتی ہے ۔ یہ ، ایک تباہی کی طرف بڑھتی ہوئی اور پھر تباہی کا شکار ہوتی ہوئی دنیا کی تصویر ہے ، ایسی دنیا جس میں قدریں بھی معدوم ہوگئی ہیں اور عزت بھی کھو گئی ہے ۔ صادق کہتے ہیں ’عنوان چہرہ ہوتا ہے اور تخلیق بدن‘ ،سلیم شہزاد کی نظمیں اپنے عنوانات سے کٹی ہوئی بالکل نہیں ہیں ،جس طرح کتاب کا مواد کتاب کے عنوان میں پیوست ہے اسی طرح نظمیں اپنے عنوانات سے منسلک ہیں ، اور یہ انسلاک ان نظموں کو ایک اسرار میں ڈھالتا ہے ۔ میرے لیے ان نظموں کی قرأت ایک نیا تجربہ تھا ۔ یہ نظمیں نثری ہیں ،بصری ہیں ، ہیٔتی ہیں ،ان کی اپنی ایک شکل ہے یا ان کی الگ الگ شکلیں ہیں ،ان شکلوں یا ہیئتوں کی تفہیم کو میں ایک نیا تجربہ کہہ رہا ہوں ۔ ایک مثال لیں ،نظم کا عنوان ہے ’’ سبز آنسوؤں کی فصل‘‘ ،اس نظم کے ایک اقتباس کی مثال شین کاف نظام نے بھی دی ہے ،اسی اقتباس پر نظر ڈالتے ہیں:
ا
ش
کو
ں
کی
پھوار کو
شاعر نے حروف اور لفظوں کی بنت اس طرح کی ہے کہ سامنے ایک تصویر آ جاتی ہے ،قطرہ قطرہ ڈھلکتے اور پھر پھوار میں ڈھلتے آنسوؤں کی تصویر ۔ یہ جو ہیئت بنی ہے اس کا کیا مقصد ہے ؟ کیوں شاعر نے سیدھے سیدھے ایک سطر میں اس مصرعے کو نہیں لکھ دیا ؟ یہ اہم سوال ضرور ہیں مگر شاعر ان کے جواب دینے پر مجبور نہیں ہے ۔ حروف اور لفظوں نے مل کر جو ہیئت مرتب کی ہے اسے دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ شاعر ایک وجدانی کیفیت سے گزر رہا ہے ،اور حرف و لفظ اس کے باطن سے پھوٹ رہے ہیں ،یعنی جس طرح مصرعے کی ہیئت ہے اسی طرح شاعر کے باطن سے یہ مصرعہ پھوٹا ہے ۔ آسان لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ے کہ شاعر جس کیفیت میں تھا اسی کیفیت میں اس کے مصرعے نے ہیئت بنا لی ۔ اسے تخلیقی وفور بھی کہا جا سکتا ہے اور یہ تخلیقی وفور ان کی تمام نظموں پر محیط ہے ،یہ وفور ان کی نظموں کو پیچیدہ بھی بناتا ہے اور اپنے پڑھنے والوں کو یہ سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے کہ نظمیں مہمل ہیں ،معنی سے بہت دور ۔ اس کتاب کے اپنے مضمون میں عتیق اللہ نے سلیم شہزاد کی نظموں میں لفظ اور معنی کے درمیان فاصلے پر قدرے تفصیلی بات کی ہے ،وہ کہتے ہیں:’’سلیم شہزاد کی نظم اور ہمارے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ بنا رہے گا کیونکہ اس کا اصل فن معنی کی حرکت میں مضمر ہے ۔ ایک معنی کی جھلک ایک محدود تر مہلتِ زماں میں رونما ہے اور پھر معدوم ہو جاتی ہے ۔‘‘ وہ سلیم شہزاد کی نْطموں میں ’’ لفظ و معنی کے درمیان بڑے فاصلے ‘‘ کی بات کرتے ہیں ،اور فاصلے ہیں بھی ،لیکن ان فاصلوں کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ جیسے ’عنوان چہرہ ہوتا ہے اور تخلیق بدن‘ ویسے ہی ’نہ جاننا بھی ایک طرح کا جاننا ہے‘ ، اگر ہم اس بات کو سمجھ لیں تو لفظ اور معنیٰ کے درمیان کے فاصلے کم ہو سکتے ہیں ۔ سلیم شہزادکی ان نظموں میں جو دنیائیں ہیں ،اور ان دنیاؤں کے اندر جو دوسری دنیائیں ہیں ان کی سیر ضروری ہے ،ان میں کوئلہ بھی ملتا ہے ، جھینگر بھی اور سانپ ،بچھو ،چیونٹی ،فاختہ اور دوسری چڑیاں بھی ۔ انہیں علامت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے اور انفرادی طور پر بھی ،ان کی اپنی حقیقی ہیئت میں ،دونوں طرح سے یہ معنی دیتے ہیں ۔ کچھ نظمیں ، نظموں کے لکھنے اور نہ لکھنے پر بھی ہیں ۔ ان نظموں نے اپنی پہلی قرأت میں مجھے چونکایا ،کچھ ڈرایا ، کچھ امید بندھائی ،لیکن ایک ایسی کیفیت بھی پیدا کی جس نے ان نظموں کے تعاقب پر مجھے مجبور کیا ،یہ مجبوری میرے لیے مایوس کن قطعی نہیں رہی ،میں نے ان نظموں میں بھی ،جو بظاہر مہمل لگتی ہیں ،اپنے لیے کچھ نہ کچھ ڈھونڈ ہی لیا ۔ اور یقین ہے کہ جو بھی ان نظموں کو دل کی آنکھ سے پڑھے گا اُسے ان میں بہت کچھ مل جائے گا ۔ یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ سلیم شہزادکا تعلق پاکستان سے ہے ،وہ اردو کے علاوہ پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شاعری کرتے ہیں ،اس سے قبل ان کی نظموں کے دو مجموعے ’ ماسوا‘ اور ’ قسم کفارے کی‘ شائع ہو چکے ہیں ۔وہ ناول بھی لکھتے ہیں ،ان کے ایک ناول ’پلوتا ‘ کا سرائیکی زبان سے معروف مترجم نجم الدین احمد نے اردو زبان میں بہترین ترجمہ کیا ہے ،جسے افسوس ہندوستان میں شاید نہ پڑھا جا سکے کہ کتابوں کی آمد و رفت پر پابندی ہے۔ نظموں کا یہ مجموعہ پاکستان میں ’ بک ہوم ‘ نے شائع کیا ہے ،اسے ہندوستان میں جئے پور کے معیاری ادبی پرچے ’استفسار‘ نے اپنے پبلی کیشنز سے شائع کیا ہے ،بلکہ اس کتاب کی اشاعت سے کتابیں چھاپنے کی شروعات کی ہے ، یقیناً نثری نظموں کا وہ بھی بصری و ہیئتی نظموں کی اشاعت کا فیصلہ ایک طرح سے گھاٹے کا سودا ہے ،لیکن پبلی کیشنز کے ذمہ داران نے ایک معیاری کتاب پیش کرنے کے لیے گھاٹے کے سودے کو منظور کیا ہے ۔ وہ ہم سب کے شکریے کے حقدار ہیں ۔ اگر اس کتاب کے سرورق اور اندر کے اسکیچیز کا ذکر نہ کیا جائے تو ان کے خالق سے حق تلفی ہو گی ،شاعر مصور جینت پرمار نے اعلیٰ پائے کا سرورق اور بہترین اسکیچیز بنائے ہیں ،بالکل ان نظموں کی روح کو کو اجاگر کرتے ہوئے ۔ اس مجموعے کا انتساب ان ہی کے نام ہے ۔ ایک اہم بات یہ کہ ان نظموں کا انتخاب بزرگ شاعر و ادیب اور مترجم محمد سلیم الرحمٰن نے کیا ہے ،اور کیا ہی عمدہ انتخاب کیا ہے! کتاب ۱۱۲ صفحات کی ہے ، قیمت تین سو روپیے ہے۔