کئی دنوں سے مروت نہیں ہوئی مجھ سے ـ جہاں زیب ساحر

کئی دنوں سے مروت نہیں ہوئی مجھ سے
اُسے بھی کوئی شکایت نہیں ہوئی مجھ سے

بہت سے کام دکھاوے کے کر رہا تھا میں
خدا کا شکر عبادت نہیں ہوئی مجھ سے

نئے سرے سے محبت کی آرزو تھی مگر
نئے سرے سے محبت نہیں ہوئی مجھ سے

یہ لوگ اپنے عقیدے سے پیار کرتے ہیں
اسی لیے تو عقیدت نہیں ہوئی مجھ سے

میں ذمے دار ہوں تیری اداس آنکھوں کا
میں مانتا ہوں حفاظت نہیں ہوئی مجھ سے

تمام رات یونہی تِیلیاں جلاتا رہا
دِیا جلانے کی ہمت نہیں ہوئی مجھ سے

یہ اور بات تجھے درگزر کیا ورنہ
کسی کے ساتھ رعایت نہیں ہوئی مجھ سے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*