کہیں ہمیں ’’اخباریہ‘‘ تو نہیں ہوگیا؟-سفینہ عرفات فاطمہ

safeenaarfatfatima@gmail.com

ہمیں’ سیاست‘ اور سیاست دانوں سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں تھی ‘ کیوں کہ ہم سمجھتے تھے کہ ایسی ویسی ‘ آڑی ٹیڑھی شخصیتوں کو ’سیاست‘ سے دلچسپی ہوتی ہے اور ہم خود کو ایسی ویسی ‘آڑی ٹیڑھی شخصیت نہیں گردانتے تھے۔اسکول اور کالج کی لائبریری میں ‘ہم یوں تو روزانہ اخبار کا مطالعہ کرتے‘لیکن ‘ صفحہ اول اور صفحہ آخر پر ترش نگاہ ڈال کر ادب کاضمیمہ ڈھونڈنے لگ جاتے ۔ اگر اول و آخر صفحے کی موٹی موٹی سرخیاں ہماری آنکھوں میں چبھنے لگتیں تو یوں ہی ناگواری سے ایک نظر ڈال لیتے اور خود کو ملامت کرنے لگتے ‘کیوں کہ وہی حسب ِمعمول سرخیاں اور خبریں ہوتیں : ٹرین پٹری سے اترگئی ‘چالیس افراد ہلاک‘ بتیس زخمی‘چار کی حالت تشویش ناک‘مہلوکین کے ورثاء کو ایک ایک لاکھ ایکس گریشیا ۔ وزیراعظم‘ وزیرداخلہ ‘ وزیراعلیٰ نے اس حادثے پرگہرے رنج وملال کا اظہارکیا ہے‘ وغیرہ۔ (ویسے ہمیں قطعی یقین نہ ہوتا کہ ان سیاست دانوں کو کوئی رنج وملال ہوتا ہوگا) دوسری سرخی /خبریہ ہوتی : مسجد میں بم دھماکہ ‘ مندر کو نقصان ‘ چیف منسٹر نے عوام کو تیقن دیا ہے کہ وہ خاطیوں کو جلدازجلد گرفتار کروائیں گے ‘ لہٰذاعوام انتہا پسندی سے گریز اور صبروتحمل کا مظاہرہ کریں ۔دیگرسرخیاں ہوتیں: دومخالف گروہوں میں جھڑپ‘ کرفیوکا نفاذ‘حالات تشویشناک لیکن پھربھی قابو میں ۔ایک جرائم و حادثات کا کالم بھی ہوتا ‘ اس میں مختلف واقعات درج ہوتے ‘جیسے بیوی نے شوہر کو قتل کردیا ‘ تین ماہ کی دلہن کی خودسوزی ‘ سسرال والوںنے بہوکوآگ کے سپرد کیا ‘مسلسل بیٹیوں کی پیدائش پر خاتون کو طلاق ‘مزیدجہیز کے لیے ہراسانی ‘ پچاس ہزار کا سرقہ‘طلائی زیورات کی چوری وغیرہ ۔
اخبار کے مذکورہ صفحات کی تلخی کو بھولنے کے لیے ہم قومی صفحہ پرنظردوڑاتے ‘ اس کی سرخیاں بھی ہمیں کوئی خوشی فراہم نہ کرتیں‘ مختلف گھوٹالوں کو نمایاں کرتی خبریں ۔اورسیاسی جماعتوں کی باہمی الزام تراشیاں اکتاہٹ کا سبب بنتیں ۔
کسی دوسری نیوز سے پتا چلتا کہ وزیراعظم کو نزلہ زکام ہوگیا ہے اورانہیں مسلسل چھینکیں آرہی ہیں (ہم یہ سوچنے لگ جاتے: ’’کیا غضب ہے ‘خداکا کہ ہمیں پندرہ دن تک ‘کھانسی بخار‘ سردی زکام کی شکایت رہی ‘ اورباربار‘ کئی بار چھینکیں آتی رہیں‘ مگرافسوس کہ یہ خبر کسی مقامی اخبار کی بھی زینت نہ بن سکی۔ وزیراعظم کی عیادت کی خاطر مہنگی کاروں میںلوگ ان کی قیام گاہ پہنچے ‘ ہماری مزاج پرسی کے لیے کوئی سستے آٹو میںسوار ہوکر ہی سہی ہمارے گھرتشریف لے آتا ‘‘ ) خیر کڑھتے ہوئے ہم قومی خبروں سے بھی منہ موڑ لیتے‘اوربین الاقوامی صفحہ کھولتے توکوئی نیوز ہمیں شرم سے پانی پانی کردیتی ۔ بزنس کے صفحہ پر ایک نظر ڈالنا بھی ہمیں گوارا نہ ہوتا تھا‘ہماری ’’حساسیت‘‘ کیا کم تھی جو ہم حصص بازار کے ’’حساس‘‘ اشاریہ پر توجہ مرکوز کرتے ۔ اسپورٹس کے گوشے سے بھی ہمیں کوئی دلچسپی نہ تھی ‘ ہم صرف انڈیا اور پاکستان کے چنندہ کھلاڑیوں کو ہی پہچانتے تھے ‘دیگر ممالک کے ’’پالک‘‘ (Shaun pollock) ‘’’میتھی‘‘ (Matthew Hayden )‘’’ہنسی‘‘ ( Hansie Cronje )’’رکی‘‘ (Ricky Ponting )ہم کسی کو بھی نہیں جانتے تھے ۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ’’ اوور ‘‘ میں کتنے ’’ball ‘‘ہوتے ہیں ‘ ایل بی ڈبلیو آئوٹ کس طرح ہوتے ہیں اور’’ون ڈے‘‘ اور’’ ٹسٹ میچ‘‘ میں کیافرق ہے؟غرض کہ ان سب صفحات سے جان چھڑاکر ہم اپنے پسندیدہ ادبی ضمیمہ میں منہمک ہوجاتے اور تمام اخبار پر لعنت بھیجتے۔
لیکن ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ ہم خود اخبار کی دنیا میں قدم رکھنے والے ہیں ۔ہنگامی صورتحال میں ہمارا بحیثیت سب ایڈیٹر تقررعمل میں آیا ۔ پھر دھیرے دھیرے ہم پرمنکشف ہوا کہ اخبار کی دنیا کیا ہوتی ہے اوراخباروالوں کو کتنے ’’پیپر‘‘ paper(پاپڑ) بیلنے پڑتے ہیں۔سب سے پہلے ہمارا مسٹر کمپیوٹر سے سامنا ہوا ۔ اس ’’ڈبّے ‘‘ کو ہم ایک عجوبہ ہی سمجھتے تھے اور چھونے سے بھی ڈرتے تھے۔ خیر اس سے بھی آہستہ آہستہ دوستی ہوگئی۔کمپیوٹر کو آپ ایسی ویسی شے ہرگزنہ سمجھیں ‘ اسے اگر غصہ آجائے تو یہ تمام فائلیں اڑادے ‘ اوراگرکوئی وائرس اس پرفریفتہ ہوجائے تویہ (آپ کے’’ التفات ‘‘کوفراموش کرکے )آپ سے یکلخت ترک ِ تعلق کربیٹھے۔ان کمپیوٹروں کو دل سے لگاکر رکھناپڑتا ہے ‘ یہ ناراض ہوگئے تو پھر نہ جانے اخبار والوں کا کیا ہو ؟ کمپیوٹر آپریٹر سے ذراسی بھی چوک ہوجائے تو ’’جلوہ‘‘ … ’’حلوہ‘‘ بن جاتا ہے۔ اور ’’ خلوت‘‘ … ’’جلوت‘‘ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔اور’’حتی الامکان‘‘…’’حتی (ہاتھی) کامکان‘‘ میں بدل جاتا ہے۔
ایک دفعہ تو کمپیوٹرآپریٹر نے ایک معزز شخصیت کے خاکے میں ’’مولانا کا’فلم ‘و ادب کی دنیا میں بڑا نام ہے‘ ‘ کمپوز کردیاتھا جبکہ وہ ’’مولاناکا’علم و ادب کی دنیا میں بڑا نام ہے ۔‘‘ ہوناچاہیے تھا۔
………
رفتہ رفتہ ہم اخباری ماحول کے اس قدر عادی ہوگئے کہ ہمیں یہ محسوس ہونے لگاجیسے ہمیں ’’اخباریہ ‘‘ ہوگیا ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ آفس میں کام کے دوران ہماری زبان پر تصحیح شدنی ‘ تصحیح شدہ‘ شائع شدنی‘ شائع شدہ اورپھر اسکننگ‘پیسٹنگ یہی الفاظ ہوتے ہیں ۔ایک بارہم نے ’’بابا‘‘ سے کھانا لگ گیا ہے‘ کہنے کی بجائے کہہ دیا : ’’کھانا paste ہوگیاہے‘‘ وہ ہمیں حیرانی سے دیکھتے رہ گئے۔اسی طرح دسترخوان پر دوبارہ ایک روزقبل پکایا ہوا سالن دیکھ کر ہم نے اپنی بہن سے پوچھا :’’یہ سالن تو شائع شدہ ہے ناں؟‘‘ وہ ہمیں عجیب و غریب نظروں سے دیکھنے لگیںتو ہمیں خیال آیا کہ ہم اپنے دفتر میں نہیں بلکہ گھر میں ہیںاور کسی آرٹیکل کے بارے میں نہیں بلکہ سالن کے بارے میں بات کررہے ہیں۔
اخباروالوں کے متعلق لوگوں کو بڑی غلط فہمیاں ہوتی ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی ’’واقعہ ‘‘ اور اس کے پس ِ پردہ ’’عناصر ‘‘کی سب سے پہلے صحافیوں کوخبرہوجاتی ہے۔ہمیں ‘ ہمارے دور کے انکل نے فون کیا اورپوچھنے لگے:’’کل جو بم دھماکہ ہوا ہے‘ اس میں کس کا ہاتھ ہے؟‘‘ ہم نے کہا:’’کم از کم ہمارا ہاتھ تو نہیں ہے ‘ ہمارے دونوں ہاتھ صحیح سلامت ہمارے پاس موجودہیں ‘‘وہ چڑگئے اور کہنے لگے:’’تم اخبار میں کام کرتی ہو‘ اورتمہیں اتنا بھی نہیں معلوم؟‘‘ جب انہوں نے فون رکھ دیا بلکہ پٹخا تو ہم خود سے کہنے لگے:’’جیسے شرپسند افراد بم دھماکہ کرنے سے قبل ہمیں ای میل کرکے بتاتے ہوں‘ کہ ہم فُلاں جگہ…‘‘
اسی طرح ہماری کزن کے شوہر کے بھائی کے بھتیجے نے ہم سے پوچھا:’’باجی ! سچن ٹنڈولکر کس دن پیدا ہوئے؟‘‘ہم نے کہا:’’اتوارکو تو چھٹی ہوتی ہے ‘لہٰذا پیر‘منگل‘ چہارشنبہ‘جمعرات‘ جمعہ یاپھرہفتہ کوپیداہوئے ہوں گے۔‘‘
اخباروالوں کے ساتھ مسائل کا دفترہوتا ہے ‘بہت ہی پھونک پھونک کرقدم رکھناپڑتا ہے ۔ ایک بارہوایوں کہ ہماری رفیق کار کے مرتبہ سپلیمنٹ میں ایک مشہور ہستی کے متعلق مضمون شائع ہوا‘اس میں لکھاتھاکہ موصوف اس عمر میں بھی ’’چاق چوبند‘‘ ہیں‘لیکن افسوس کہ وہ اسی دن اللہ میاں کوپیارے ہوگئے اوراخبار میں اگلے دن یہ خبرآئی کہ ’’طویل علالت‘‘ کے بعد ان کا انتقال ہوا ۔اس نیوز کے منظرعام پر آتے ہی دفترکوایک صاحب نے فون کیااور نہایت ہی غصے میں کہنے لگے :’’ اخبارمیں ہوتے ہوئے بھی آپ لوگ اتنے ’’بے خبر‘‘ہوتے ہیں‘ مضمون میں انہیں ’’ تندرست‘‘ اور نیوز میں’’ کافی علیل تھے ‘‘لکھاگیاہے۔ ‘‘اس سبکی کے بعد ہم لوگ سوچنے لگے :’’بڑے میاں کو ذرا صبرنہ آیا‘ کچھ برس بعدسنچری مکمل کرکے جہان ِ فانی سے رخصت ہوتے توکیا ان کا کوئی خزانہ لٹ جاتا؟‘‘اس تلخ تجربے کے بعد ہم نے کسی کو بھی صحت مند کہنے سے گریزکیا‘ کیوں کہ یہ خدشہ لگارہتا کہ جن کے بارے میں لکھ رہے ہیں ‘ کہیں وہ بھی اچانک بیمارنہ پڑجائیں ‘اور پھر ہمیشہ کے لیے ان کا ٹکٹ نہ کٹ جائے۔
اخبار کے دفتر میں بہت ہی افراتفری کا ماحول ہوتا ہے ۔ایک شمارے کی اشاعت ہوئی نہیں کہ دوسرے کی فکرلاحق ہوجاتی ہے اور ہر وقت جان مٹھی میں‘ کے مصداق اس بات کی ہیبت طاری رہتی ہے کہ کوئی فون کرکے یہ نہ کہہ دے کہ آپ کے سپلیمنٹ میں ’’خوددار‘‘…’’ غددار‘‘ اور ’’کیرالا‘‘…’’ کریلا‘‘ بن گیاہے ۔ اورکسی کے لفظوں کے پتھر‘ ہمارے آئینہ ٔ دل پرنہ برس جائیں۔
تمام ترناگوارتجربات کے باوجود ہمیں اپنے کام اور اپنی اخباری دنیا سے بے حد لگائو ہے ‘ رات کو بہ مشکل ہمیں نیند آتی ہے اورخواب میں بھی ہم اپنے آفس کوہی دیکھتے ہیں اور یکایک چیخ اٹھتے ہیں کہ وہ آرٹیکل تصحیح شدنی ہے ‘ جب آنکھ کھلتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے دفتر میں نہیں بلکہ اپنی آرام گاہ میں ہیں ۔اس طرح ہمارے اس گمان پر صداقت کی مہر ثبت ہوگئی ہے کہ ہمیں مرض’’اخباریہ ‘‘ ہوگیاہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*