کہیں ہماری تحریر ہمارے حظِ نفس کاذریعہ تو نہیں؟

 

محمد فرید حبیب ندوی
(معاون مدیر: ماہنامہ ندائے اعتدال،علی گڑھ)

تحریر کافن بڑا نازک فن ہے۔جی ہاں!یہ ایک فن ہے،جومسلسل مشق کرنے سے آتاہے۔چند الفاظ وکلمات ملاکر جملے بنانے اور چند جملے بناکر مضمون بنادینے سے کہیں اونچاہے لکھنے کافن۔اس فن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ظاہر یہ ہے کہ جملوں کی ساخت اچھی ہو،تراکیب کااستعمال عمدہ ہو اور غیرفصیح الفاظ کے استعمال سے احتراز کیاجائے۔باطن یہ ہے کہ تحریرمقصدیت سے پُر ہو۔قلم کار اپنے قارئین کو کوئی پیغام دینا چاہ رہاہو۔اس کے دل میں اپنے قارئین کے تئیں ہمدردی ومحبت کے جذبات ہوں۔اس کی تحریر منصفانہ اور غیرجانب دارانہ ہو۔اگروہ کسی مسئلے کاتجزیہ پیش کررہاہے تو اس کا قلم صفحۂ قرطاس پر اپنے دل کے ببولے نہ پھوڑرہاہو؛ بلکہ وہ انصاف رقم کرے۔اس کی تحریر سے اس کے دل کادرد اوراندرون کی بے چینی نظر آتی ہو۔اور اقبال کے الفاظ میں اس کی تحریر خونِ جگر کی آئینہ دار ہو۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اس کی تربیت صحیح خطوط پر نہ کی گئی ہوتواسے دوسروں کوکوسنے میں مزہ آتاہے۔دوسروں پر بھڑاس نکال کر اسے سکون ملتاہے اوردوسروں کی تنقید وتنقیص سے اس کے مردہ دل کی تسکین ہوتی ہے۔چنانچہ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے اہل قلم صرف اس لیے لکھتے ہیں کہ انھیں لکھنے میں مزہ آتاہے۔وہ تجزیہ وتنقید ایسے اسلوب میں کرتے ہیں ،جو ان کے دل کی پیاس بجھادے اور ان کی آتشِ غضب کو ٹھنڈاکردے۔وہ اپنے مخالفین کے لیے ایسے جلے بھنے لہجے میں لکھتے ہیں کہ یہ توہوسکتاہے کہ اس سے ان کے نفس کو تسکین مل جائے،مگر یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ان کی تحریر کوئی دیرپانقش قائم کرپائے۔ لکھنے کا یہ اسلوب اِس وقت خاص کرہم ان اہل قلم کے یہاں پاتے ہیں جو ترکی یاسعودی کی موافقت ومخالفت میں لکھتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب ترکی کی حمایت میں لکھنے والے قلم اٹھاتے ہیں تواپنے مخالفین کو کوسنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتے۔اسی طرح جب ترکی کے مخالفین قلم سنبھالتے ہیں توان کاقلم بھی اپنے حریفوں کے لیے شعلہ باری سے کم پر تیار نہیں ہوتا۔ یہی حال سعودیہ کی حمایت ومخالفت میں لکھنے والوں کانظر آتاہے۔بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتاہے کہ لکھنے والا،اپنے دل کی آگ بجھانا چاہ رہاہے۔اسے اس سے کوئی مطلب نہیں کہ اس کی تحریر منصفانہ رہے گی یااس میں ناانصافی کاعنصر شامل ہوجائے گا۔اسے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ عام قاری پر(جونہ اس کا ہم خیال ہے،نہ اس کا مخالف)اس کی تحریر سے کیااثر پڑے گا۔وہ اسے پڑھ کر لکھنے والے کے بارے میں اچھاتاثر قائم کرے گایا برا۔اس وقت قلم کاروں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہی ہے جو بس اس لیے لکھتی ہے کہ دوسروں کو برابھلاکہہ کر اسے سکون مل جائے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ اس طرح کے کسی واقعے کے انتظار میں رہتے ہیں جب انھیں اپنے دل کے ببولے پھوڑنے کاموقع ملے۔بسااوقات یہ بھی دیکھاگیاہے کہ اگر کوئی واقعہ امت مسلمہ کے مفاد کے خلاف ثابت ہونے والا ہو اور کسی صاحب قلم نے پہلے ہی اس کی پیش گوئی کردی ہو ،اور اتفاق سے ایساہی ہوجائے تو اسے جتنی خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ اس کی پیشن گوئی درست ثابت ہوئی،اتنا غم اِس کانہیں ہوتاکہ اس واقعے کا امت پر کیااثر پڑرہا ہے یا مستقبل میں کیا پڑنے والاہے۔
ایک اچھاقلم کار اپنی تحریر پر کبھی جذبات کو اس حد تک غالب نہیں آنے دیتا۔وہ جب کسی صورتِ حال کاتجزیہ کرتاہے تو وہ یہ نہیں دیکھتاکہ اس سلسلے میں خود اس کی خوشی کس چیز میں ہے۔اس کی کوشش ہوتی ہے کہ صحیح صورتِ حال کو اور اس سے نکلنے والے نتائج کو پوری ایمان داری سے پیش کردے۔وہ یہ دیکھ کر خوش نہیں ہوتاکہ اسے اپنے مخالفین کوکوسنے کاایک اور موقع ہاتھ آگیا؛بلکہ اس کی خوشی وناخوشی کادارومدار اس پر ہوتاہے کہ اس واقعے کا مثبت ومنفی،کیا اثر انسانیت پر پڑنے والاہے۔اس کا دل انسانیت کے لیے تڑپتاہے،جس کی وجہ سے وہ اپنے مخالفین وموافقین کے دائرے سے اوپر اٹھ کر قلم اٹھاتاہے۔
جو تحریریں حظِ نفس کے لیے لکھی جاتی ہیں وہ کچھ وقت کے لیے کچھ لوگوں کو خوش توکردیتی ہیں؛لیکن ایسی تحریروں کی عمر لمبی نہیں ہوتی اور ایسی تحریریں اپنے مخصوص حلقے سے اوپر اٹھ کر مقبولیت حاصل نہیں کرپاتیں۔اس لیے ایک اچھے قلم کار کوچاہیے کہ وہ انسانیت کے بھلے کے لیے قلم اٹھائے اور صورتِ حال کا منصفانہ تجزیہ پیش کرے۔اس کاقلم انسانیت کی خدمت کے لیے چلے،نہ کہ اس کے نفس کی تسکین اور اس کی آتشِ انتقام کے بجھانے کے لیے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*