Home قومی خبریں ’’ کہانی لکھنا سیکھیں ‘‘ کے عنوان سے گورنمنٹ ڈگری کالج میں توسیعی خطبے کا انعقاد

’’ کہانی لکھنا سیکھیں ‘‘ کے عنوان سے گورنمنٹ ڈگری کالج میں توسیعی خطبے کا انعقاد

by قندیل

تانڈور :گورنمنٹ ڈگری کالج تانڈور ضلع وقار آباد میں آج شعبۂ اردو اور ہندی کے تحت توسیعی خطبہ کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں مختلف شعبوں کے طلبہ وطالبات نے شرکت کی اور کہانی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔ پروگرام کی صدارت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ایم رویندر نے کی ۔ انھوں نے کہا کہ صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسرارالحق کی فعالیت کی وجہ سے کالج میں ادبی ماحول رہتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ زبان وثقافت کے فروغ میں کہانیوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔پروگرام کا آغاز ماہرہ بیگم کی قرأت قرآن اور شاوین نساء اور شیرین کے ترجمے سے ہوا ۔
اس موقع پر ڈاکٹر سلمان عبدالصمد ، اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ  اردوخواجہ بندہ نواز یونیورسٹی نے کہا کہ کہانی بلکہ افسانہ لکھنا سیکھنے کے لیے متعدد اصول ضرور ہیں مگر کہانی لکھنے کے لیے کوئی اصول نہیں ۔ کیوں کہ بالغ نظری اور مشق ومزاولت کے بعد افسانہ نگار لکھنے کے لیے خود اپنا اصول بنانا شروع کردیتا ہے ۔یہی سبب ہے کہ ہم کتابی اصولوں کو ہر افسانے پر منطبق نہیں کرسکتے ہیں بلکہ لکھے ہوئے افسانوں کے مدنظر بہت سے اصول بنائے جاسکتے ہیں ۔ ہم بہت سی شعریات متعین کرسکتے ہیں ۔ ڈاکٹر سلمان نے کہا کہ جس طرح کہانی کا اپنا اسلوب ہوتا ہے، اسی طرح بڑی حد تک ہر افسانے کا اپنا اصول ہوتا ہے ۔ انھوں نے ارتکاز، اجزائے ترکیبی ، قوت احساس ، قوت ممیزہ ، قوت لسان ، قوت احتساب ، قوت نفسیات اور ردعمل جیسی اصطلاحات کا تجزیہ کرتے ہوئے کالج کے طلبہ وطالبات سے بات کی ۔ اس کے بعد ڈاکٹر سلمان نے بتایا کہ وہ کس طرح افسانہ لکھنا پسند کرتے ہیں اور کس طرح وہ اپنے ذہن میں پہلے افسانہ لکھ لیتے ہیں ، پھر وہ اسے کاغذ پر اتارتے ہیں ۔ گویا سلمان عبدالصمد نے افسانے شعریات ونفسیات کے ساتھ اپنے ذاتی تجربات بچوں کے سامنے پیش کیے ۔ مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسرارالحق نے کہا کہ ادبی فضا قائم کرنا ہماری ذمے داری ہے ۔ کیوں کہ کہانیوں سے جہاں ہماری ذہنی تربیت ہوتی ہے ، وہیں بہت سے سماجی پہلوؤں کی اصلاح بھی ہوتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ادب کا بنیادی مقصد تبلیغ و مقصدیت نہیں ہے ، مگر ادب کی مقصدیت سے کلی انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جب کہ شعبۂ ہندی کے صدر ڈاکٹر وویک کمار دوبے نے کہا کہ فن کاروں سے ملنے کا تجربہ ایک یاد گار تجربہ ہوتا ہے ۔ سلمان عبدالصمد نے جو خطبہ پیش کیا وہ قابل ذکر ہے ، کیوں کہ وہ تنقید وتخلیق سے یکساں تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے تجربات کو سننا بھی ایک یادگار لمحہ ہے ۔ اس موقع پر فاطمہ بیگم نے اردو اور ثمینہ بیگم نے عربی میں نعتیہ اشعار پیش کیے ۔ جب کہ نظامت کے فرائض شیریں سلطانہ نے ادا کیے ۔

You may also like