کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی- کوثر عثمان

(ایڈیٹر ،بلیاخبر)

شاعروں نے ہر موقع کے لیے شعر لکھے ہیں، حتی کہ ماتم کے موقعے کے لیے بھی اشعار کہے گئے ہیں ۔بلیا کے ہردل عزیز نیتا منیش دوبے منن کے نہ ہونے کی خبر سننے کے بعد مجھے رحمان فارس کا وہ شعر یاد آیا جس میں انہوں نے کہا  ہے:

کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
منن دوبے کی اتنی کم عمری میں ان کی مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتاہے کہ ان کے موت کی منحوس خبرآنے کے بعد بلیا اور غازی پور میں کیا نوجوان، کیاعمر دراز سب کی آنکھیں نم تھیں ۔ انتم سنسکار(آخری رسومات) میں تو گویا پورا بلیا ہی چل پڑا تھا ۔
میں بد نصیب ہوں جو ایسے چہیتے اورمحبوب نوجوان نیتا کے آخری رسومات میں شامل نہیں ہوسکا ۔منن دوبے سے میری پہلی بار بات ایک خبر کو لے کر جھگڑے سے شروع ہوئی تھی ۔بعد میں غلط فہمی کے دور ہونے کے بعد ہم دوست تو نہیں بنے، لیکن وہ بلیاخبر اور میرے ہمدرد ضرور بن گئے تھے ۔ہم معلومات کے تبادلے ،ضلع میں سیاسی انقلابات اور خبروں کو لے کر باتیں کیا کرتے تھے۔
چنئی میں جب مجھے یہ منحوس خبر ملی کہ بلیا کے نوجوانوں کے دلوں پر حکومت کرنے والے منیش دوبے منن اب ہمارے درمیان نہیں رہے ،تو پہلے تو یقین ہی نہیں ہوا کہ ایک اچھااور سچا نوجوان نیتا ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے ۔دل اداسی سے بھر گیا، آنکھیں باہر آنے کو بے تاب تھیں ،ہاتھ پاوں کانپ رہے تھے ،لیکن موت ایک حقیقت ہے ،اس سے کوئی آنکھ کیسے پھیر سکتا ہے ؟یہ سوچ کر بے چین دل کو کچھ دیر بہلایا ۔
غازی پور کے اموا گاؤں کے رہنے والے منیش دوبے عرف منن سماج وادی پارٹی کے نیتا تھے ۔گزشتہ سنیچر یعنی 14جنوری کو کرنٹ لگنے سے ان کا انتقال ہوگیا ۔گڑوا روڈ پر واقع ندھریہ نئی بستی آواس(رہائش گاہ) پرچھت پر لوہے کے راڈسے نالی کی صفائی کررہے تھے۔اسی دوران ہائی ٹینشن تار کی چپیٹ میں آنے سے انہیں کرنٹ لگ گیا ۔جس کے بعد وہ اس فانی دنیا کو الوداع کہ گئے ۔یہ خبر کچھ ہی لمحوں میں پورے بلیا اور غازی پور میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔خبر کے ساتھ دونوں ضلعوں میں ماتم پسر گیا ۔کوئی بھی اس بات پر یقین نہیں کر پارہاتھا کہ منن اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن موت تو یقینی اور برحق ہے ۔اسے کون ٹال پایا ہے ۔کسی کو بھی اس سے مفر نہیں ۔لیکن کہتے ہیں نا کہ سچ سے سامنا یوں نہیں ہونا چاہیے ،منن کو ایسے نہیں جانا چاہیے تھا ۔
بلیا کے طلبا کی سیاسی سرگرمیوں میں منن موجودہ دور میں ایک بڑا نام تھے ۔مرلی منوہر ٹاؤن ڈگری کالج میں جنرل سکریٹری رہ چکے تھے ۔طلبا یونین کا الیکشن لڑنے والا ہر طالب عم منن کی حمایت پانے کا خواہاں رہتا تھا۔کہاجاتا ہے کہ منن جس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتے تھے طلبا یونین کا الیکشن وہی جیتتا تھا ۔ منیش دوبے منن کو یاد کرتے ہوئے میرے دوست اور بلیا کے ہی طلبا لیڈر اتل پانڈے کہتے ہیں کہ ’’ میرے طلبا یونین الیکشن میں وہ میرے ساتھ نہیں تھے، لیکن جذباتی طور پر مجھ سے جڑے ہوئے تھے ۔ جس کی وجہ سے اس الیکشن میں وہ کسی کے ساتھ نہیں رہے ۔جب سے وہ طلبا یونین کے الیکشن سے وابستہ تھے اس وقت سے لے کر اب تک یہ پہلی اور آخری بار تھا کہ وہ الیکشن میں کسی کی حمایت میں ووٹ نہیں مانگ رہے تھے ۔انہوں نے ہمیشہ مجھ سے کہا کہ بھائی تمہارے ساتھ ہیں ،مخالفت نہیں کریں گے ۔‘‘
اتل آگے کہتے ہیں کہ ’’ راگنی دوبے قتل معاملہ میں انصاف کے مطالبہ کو لے کر سارے عوام احتجاج کر رہے تھے،جس کا ایک حصہ میں بھی تھا ۔تب میں اور منن بھیا ایک ساتھ لکھنؤ گئے اور سماجوادی پارٹی کی طرف سے ملے دولاکھ کی مالی مدد کا چیک لاکر متاثرہ خاندان کو دیا تھا۔اسکالرشپ کا مسئلہ تھا تب بھی ہم نے ساتھ مل کر احتجاج کیا، ضلع ہیڈکوارٹر پر احتجاج کیا ‘‘۔
ان کے ساتھیوں میں راگھویندرسنگھ گولو بتاتے ہیں کہ ’’ 2013 سے ہی ہم منن بھیا کو جانتے تھے ۔سیاست میں لانے کا پورا کریڈٹ ان ہی کو جاتا ہے ۔نارد رائے جی تک منن بھیا ہی ہم کو لے گئے ۔جب میں سیاست میں آیا تو گھر سے رشتہ نہیں رہ گیا ۔گھروالوں نے حمایت نہیں کی ۔اس کے بعد میں نے انہیں دیکھ کر سیکھا کہ کسی کے ساتھ کے بغیر زندگی کیسے گزاری جاتی ہے ،منن بھیا ہمارے لیے ایک مثال تھے‘‘۔
ضلع کے ہی ساجد کمال کہتے ہیں کہ ’’ منن کو میں کئی سالوں سے جانتا ہوں ۔اسے کرکٹ کاشوق تھا ۔اس کی سب سے بڑی خاصیت تھی کہ وہ بے لوث تھا ۔وہ اپنے لیے کچھ نہیں کرتاتھا ۔لوگوں کے لیے سوچتاتھا۔پہلی جنوری کو ہم لوگ ساتھ تھے ۔اس نے ہمیں کئی لیڈروں سے ملوایا ۔اس کا بھروسہ لوگوں کو جوڑنے میں تھا ‘‘۔
منن دوبے سے جڑی اپنی یادیں بتاتے ہوئے طلبہ لیڈر دھننجے یادو کہتے ہیں کہ ’’ 2015میں میں طلبا کی سیاست میں آیا ۔تب میں نے سنا تھا کہ کوئی منن دوبے جنرل سکریٹری ہیں ۔جن کے پاس جانے پر مدد کرتے ہیں۔میں گیا اور ان کو بتایا کہ بھیا الیکشن لڑنا ہے ۔منن بھیا نے الیکشن میں مکمل حمایت کی ۔انہوں نے ہمیں سکھایا کہ بغیر روپے پیسے کہ بھی الیکشن لڑا جاسکتا ہے ۔اخلاق کی بنیا دپر ہم الیکشن لڑسکتے ہیں ‘‘۔ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ کورونا وبا میں ایک معاملے میں ہم جیل چلے گئے تھے منن بھیا کوکورونا ہوا تھا، پھر بھی انہوں نے ہمیں باہر نکلوایا ‘‘۔
زندگی میں بہت ساری چیزیں مل جاتی ہیں،مگر ایک ضروری چیز آپ کو خود حاصل کرنی پڑتی ہے،کمانی پڑتی ہے، جسے ہم عزت و احترام کہتے ہیں، منن نے اپنی چھوٹی سی عمر میں عزت حاصل کر لی تھی۔ بزرگ لوگ کہہ گئے ہیں کہ آپ کے’’ آخری سفر ‘‘(انتم یاترا)کی بھیڑ بتاتی ہے کہ آپ کیسے انسان تھے ؟منن کے آخری سفر کی تصویریں جب سامنے آئیں تو لوگوں کا جم غفیر دکھا،دو ضلع کے لوگوں کا ہجوم دیکھا گیا ۔