کہانی اپنے ہندوستان کی

تصنیف:رمیض احمد تقی
تبصرہ:ڈاکٹر جسیم الدین، شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی، دہلی
دیار عرب میں مقیم نوجوان قلمکار رمیض احمد تقی کی تصنیف ہے ۔ جس میں انھوں نے مختلف موقعوں پرحالات حاضرہ اور حسب منشا دینی ،تعلیمی ،سیاسی اور سماجی موضوعات پرلکھے ہوئے مضامین کو مرتب کرکے گلدستہ کی شکل میں پیش کیاہے۔اس کتاب کی عظمت ورفعت کی گواہی کے لیے معروف سیاسی وسماجی رہنما،عظیم قلمکار، معتبرصحافی ودانشور ڈاکٹر ظفرالاسلام خا ن صاحب کا پیش لفظ کافی ہے۔
اس کتاب میں رمیض احمد تقی کےاشہب قلم سے مرقوم ہندوستانی مسلمانوں کے مشکلات، فرقہ واریت کی سنگینی، مسائل ، تعلیمی پسماندگی، بیروزگاری،اورپھر ان مسائل سے ابرنے کے لیے لائحۂ عمل سے متعلق22 وقیع مضامین شامل ہیں۔ان مضامین سے جہاں ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل ومشکلات سے آشنائی ہوتی ہے، وہیں ان مشکلات سے نکلنے کی راہیں بھی کھل کر سامنے آتی ہیں۔ہندوستانی مسلمان بھی آج کل ایک آزمائش کے دور سے گزر رہے ہیں اور ان کو اپنی قومی زندگی میں غیرمعمولی دشوار یوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، ان مشکلات میں بعض خود ان کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہیں اور بعض ماضی کا ، کچھ دشواریاں ایسی ہیں جو ان حوادثات و واقعات کی پیدا کردہ ہیں جو چند برس قبل ہندوستان میں پیش آے ، لیکن اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی شاہراہ ترقی کی یہ دشواریاں عارضی ہیں اور ہمارے دیکھتے دیکھتے ہی یہ ابتلا و آزمائش کا موسم گزر جانے والا ہے ، بشرطیکہ مسلمان صبر و ضبط سے کام لیں اور مسائل کو ٹھنڈے دماغ سے حل کرنے کی کوشش کریں اور ان کو ایک صاحب فکر متوازن دماغ حقیقت پسند لیکن جری و بے خوف قیادت میسر آجائے ، فرقہ وارانہ فساد اگر چہ اس آزادانہ مذہبی جمہوریہ کا سب سے بڑا المیہ ہے لیکن یہ ایک عارضی صورتحال ہے، جس پر حکومت کے ذمہ داروں کے احساس ذمہ داری حکام کی فرض شناسی اور ملک میں سیاسی شعور کی بیداری کو قابو پالینا چاہے ، اصل تشویش اور فکر کا باعث وہ مسائل و مشکلات ہیں جو آندھی کی طرح مسلمانوں کے ملی وجود کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ایسی صورتحال کی عکاسی کے لیے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان صاحب کے پیش لفظ کا یہ جملہـ:’’آج بہت سے کوے ہماری قیادت وسیادت کررہے ہیں،کچھ نہیں معلوم کہ کس کے تانے بانے کہاں جاکر مل رہے ہیں‘‘۔ نہایت معنیٰ خیز ہے۔قوموں کے عروج وزوال میں ان کی قیادت کا زبردست کردار رہاہے۔اگر قیادت صحیح خطوط پر ہو تو کامیابی وکامرانی قدم بوسی کرے گی، لیکن اگر قیادت شتر بے مہار کی طرح ہو تو پھر ناکامی مقدر ہوگی۔
اس کتاب کے سبھی مضامین نہایت وقیع ہیں۔عمومی طور سے یہ کتاب موجودہ دورکے مسلمانوں کی حالیہ صورتحال سے آگاہ کرتی ہے اور انھیں دعوت فکر وعمل بھی دیتی ہے۔مجھے امید ہے کہ اہل علم اس کتاب کو ذوق وشوق سے حاصل کریں گے اور اس میں اپنے لیے آسودگی کا سامان تلاش کریں گے۔دیدہ زیب کتابت وطباعت سے آراستہ208؍ صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 250روپے ہے۔ناشر مرکزی پبلی کیشنز، آر273/3، جوگابائی ایکسٹینشن، جامعہ نگر ، اوکھلا، نئی دہلی ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*