کاد المعلم أن یکون رسولا ! – نایاب حسن

(معلمی کارِ پیغمبری)

معلم انسانی معاشرے کا سب سے اعلیٰ و برتر فرد ہوتا ہے،جس کے کندھوں پر فی الحقیقت قوموں کی تعمیر اور نسلوں کی تربیت کی ذمے داری ہوتی ہے۔ استاذ ایک مینارۂ نور ہے،جس سے اقوام و ملل روشنی حاصل کرتی ہیں؛کیوں کہ وہ انھیں جہل و نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم و معرفت کے نور سے ہم کنار کرتا ہے۔ ہر دور کی تمام تر سماجی،علمی،فکری،مادی و معنوی ترقیات کا سرا راست یا بالواسطہ طورپر دنیا بھر کے منتخب ترین اساتذہ سے ہی جڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظہورِ عالم سے تاحال دنیا کی تمام ترقی یافتہ اور ترقی پسند قوموں نے اپنے استاذوں کو غیر معمولی توجہ،احترام و تعظیم کا حق دار جانا ہے اور عملی طورپر ان کے تئیں جذبۂ تکریم کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

مذہبی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے،تو تقریباً تمام مذاہبِ عالم نے علم ، آلۂ علم اور معلم کو غیر معمولی اہمیت دی ہے اور انھیں نشانِ فخر و عظمت قرار دیاہے۔ اسلام کے تو خیر کیا ہی کہنے کہ ہمارے نبی ﷺ پر وحیِ الہی کا آغاز ہی پڑھنے کے حکم سے ہوا اور احادیث میں آپﷺ نے بارہا تعلیم و تعلم کی نہ صرف فضیلت بیان کی؛بلکہ عملی طورپر اس کی ترغیب دیتے رہے اور ہر قسم کے نافع اور مفید علم کے حصول کی ترغیب دی۔ ایک بار آپ کا گزر صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا،جوتعلیم و تعلم میں مشغول تھے،تو آپ ان کے اس عمل سے بہت خوش ہوئے اور ان کی تحسین و تشجیع کے لیے کئی باتیں کہیں،ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ’’اللہ نے مجھے معلم بناکر مبعوث کیا ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ،عن عبداللہ بن عمرو، حدیث نمبر:229)یہ حدیث گرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے،مگر معنی و پیغام کی صحت میں کلام نہیں ہوسکتا اور صحیح مسلم میں منقول اسی مضمون کی ایک دوسری حدیث سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے،اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا:اللہ نے مجھے لوگوں پر سختی کرنے والا،ان کو مشقتوں میں ڈالنے والا بناکر نہیں بھیجا؛بلکہ اس نے مجھے معلِّم اور آسانیاں پیدا کرنے والا بناکر بھیجا ہے‘‘۔(صحیح مسلم،عن جابر،حدیث نمبر:1478)آپؐ کے اصحابؓ جو آپ کے شاگرد بھی تھے،وہ کئی بار بڑے دلچسپ انداز میں آپ کی  معلمانہ صفات کو بیان کرتے ہیں،جس سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ صحیح مسلم ہی کی ایک روایت ہے،معاویہ بن حکمؓ راوی ہیں، فرماتے ہیں:میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر طریقے سے تعلیم دینے والا نہیں دیکھا‘‘۔(حدیث نمبر: 537)سنن ابو داؤد میں یہی حدیث ان الفاظ میں مروی ہے کہ:میں نے کبھی آپ سے زیادہ نرم خو استاذ نہیں دیکھا‘‘۔(حدیث نمبر: 931)

تاریخ کے مختلف ادوار میں پائے جانے والے مفکرین،علما،اُدبا و دانشوران اورعلم و نظر کے ائمہ و سربرآوردگان نے معلمین اور اساتذہ کے حوالے سے بڑی قیمتی اور معنی خیز باتیں کہی ہیں،جن سے معاشرے کے اس ممتاز طبقے کی عظمت و اہمیت آشکار ہوتی ہے اور خود معاشرے کے تئیں معلم کی ذمے داریوں کا بھی علم ہوتا ہے۔ ہمیں ان کے اقوال و فرمودات سے اس لیے واقفیت حاصل کرنی چاہیے کہ ہم اپنے اساتذہ کے مقام و منزلت کو پہچان سکیں اور ان کی قدر کر سکیں،معاشرے میں استاذ کی حیثیت کا ادراک کرسکیں اور اسی کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کرنے کی کوشش کریں۔ اسی مقصد سے معلم کے حوالے سے ذیل میں چند عالمی مفکرین کے اقوال پیش ہیں:

سقراط:عالم کو چاہیے کہ وہ جاہل سے ایسے گفتگو کرے جیسے ڈاکٹر مریض سے کرتا ہے۔

سسرو:جاننا ایک فن ہے اور سکھانا ایک مستقل فن ہے۔

سکندر مقدونی: میں اپنے والد کا ممنون ہوں کہ وہ میری اس دنیا میں آمد کا ذریعہ بنے اور اپنے استاذ کا ممنون ہوں کہ انھوں نے مجھے(شعور کی دنیا میں) زندگیِ نو دی۔

حضرت حسن بصری: اگر ایک استاذ اپنے شاگردوں کے مابین انصاف نہیں کرتا تو اس کا شمار ظالموں میں ہوگا۔

امام شافعی: جس نے طلبِ علم کی مشقتوں سے گریز کیا،وہ تاحیات جہالت کی ذلت برداشت کرتا رہے گا۔ جس نے ابتداے عمر میں تعلیم نہ حاصل کی،تو سمجھو وہ مرگیا۔ انسان کی عزت علم اور تقوی سے ہوتی ہے،اگر یہ دونوں اوصاف اس کے اندر نہ ہوں،تو وہ کچھ بھی نہیں ہے۔

غوتہ:وہ استاذ نہایت ہی برا ہے،جو اپنے شاگردوں کو صرف وہی چیزیں سکھائے جو اس کی ذمے داری ہے۔(یعنی استاذ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو نصابی مضمون کے علاوہ امور بھی سکھائے)

سپنگلر:میں نے اپنے اساتذہ سے بہت سیکھا،اپنے رفقا سے بہت زیادہ سیکھا اور اپنے شاگردوں سے بہت بہت زیادہ سیکھا۔

لیونارڈو ڈاونچی: شاگرد کے اندر اگر اپنے استاذ پر سبقت لے جانے کی صلاحیت نہ پیدا ہو، تو وہ ایک معمولی شاگرد ہی رہ جاتا ہے۔

جون لاک: معلمی کا پیشہ حکمرانی سے بھی زیادہ مشقت آمیز ہے۔

خلیل جبران: اے استاذ!ہم آپ کے ہاتھ میں دھاگوں کے مانند ہیں اور آپ کے لوم کے حوالے ہیں،پس اگر آپ چاہیں تو ہمیں اعلیٰ و نفیس قسم کے کپڑے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

خلیل جبران: کسی بھی ملک کی تعمیر تین لوگوں کے کندھوں پر ہوتی ہے: دہقاں جو روزی کی فراہمی کا ذریعہ بنتا ہے،سپاہی جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے اور معلم جو ملک کے شہریوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

محمد الغزالی: معلم طلبہ کی مرادہوتے ہیں ،مرید نہیں ۔

احمد امین: معلم ایک زاہد کی طرح ہوتا ہے،جو اپنے آپ کو علم کی خدمت کے لیے وقف کر دیتا ہے جیسے کہ ایک زاہد اپنے آپ کو عبادتِ خداوندی کے لیے وقف کر دیتا ہے۔

احمد رفیق المہدوی: لوگ کماحقہ اپنے استاذ کی قدر نہیں کرتے،ان کا حق تو یہ ہے کہ والدین کی طرح ان کی تعظیم کی جائے۔

احمد شوقی: استاذ کے احترام میں کھڑے ہوجاؤ اور جی جان سے اس کی تعظیم کرو،کہ معلمی کارِ پیغمبری ہے۔

سی ایس لویس: دورِ جدید کے استاذ کی ذمے داری محض جنگلات کی صفائی نہیں؛بلکہ صحرا کو گلزار بنانا ہے۔

شاہ فیصل: اگر میں بادشاہ نہ ہوتا تو استاذ ہوتا۔

سلامہ موسی: ایک منفرد استاذ محض اپنے شاگردوں کے دماغ میں علوم نہیں انڈیلتا؛بلکہ وہ انھیں سیکھنے اور پڑھنے کی ایسی تکنیک بتاتا ہے کہ وہ استاذ سے بے نیاز ہوجاتے اور پھر پوری زندگی خود ہی سیکھتے رہتے ہیں۔

الیزابیتھ باریٹ براؤننگ: کتاب ایک ایسا معلم ہے،جو بغیر مارے،بغیر ڈانٹے ،بغیر غصہ کیے اور بغیر روٹی پانی مانگے ہمیں بہت سی چیزیں سکھاتا ہے۔ آپ اس کے پاس کسی بھی وقت جائیں ،تو وہ سوتا ہوا نہیں ملے گا،جب ملنا چاہیں دستیاب ہوگا،آپ نے کوئی غلطی کی تو ڈانٹےگا نہیں،اگر اس کے سامنے آپ کی جہالت آشکار ہوگئی تو آپ کا تمسخر بھی نہیں اڑائے گا۔

تھوماس کارتھرس: معلم وہ ہوتا ہے جو آپ کے اندر ایسی صلاحیت پیدا کردے کہ آپ دھیرے دھیرے اس کی ضرورت سے بے نیاز ہوجائیں۔

بوب ٹالبرٹ: اچھا استاذ مہنگا ہوتا ہے(خرچے کے اعتبار سے)،مگر برا استاذ بہت مہنگا پڑتا ہے(نتائج کے اعتبار سے)۔

ولیم پرنس: استاذ کا احترام اسے دیا جانے والا سب سے قیمتی انعام ہے۔

کامل درویش: روئے زمین پر چمکنے والی ہر تہذیب و ثقافت کے پس پردہ معلموں کی ضوفشانی کارفرما ہوتی ہے۔

ولیم آرتھر وارڈ: کمتر معلم ہمیں سکھاتا ہے،اچھا معلم ہمارے سامنے اشیا و افکار کی وضاحت کرتا ہے، ممتاز معلم دلائل و براہین فراہم کرتا ہے اور عظیم و جینیس معلم ہمیں انسپائر کرتا ہے۔

آرتھر کوسٹلر: تخلیق ایک قسم کی تعلیم ہی ہے،مگر اس میں استاذ اور شاگرد دونوں ایک ہی شخص میں جمع ہوتے ہیں۔

البرٹ کامیو: میرے آس پاس سب جھوٹے اور ریاکارہیں،میں انھیں سچائی اور شرافت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور کروں گا۔ میرے پاس ایسے وسائل ہیں جن سے ان کی زندگیاں محروم ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ علم اور باشعور معلم سے محروم ہیں۔

نجیب محفوظ: معلمی سب سے عظیم پیشہ ہے کہ دنیا کے تمام پیشے اسی سے جنم لیتے ہیں۔

ہیکٹر بیرلیوز: زمانہ ہمارا سب سے بڑا استاذ ہوتا ہے۔

غازی عبدالرحمن القصیبی: کوئی بھی تدریسی مضمون اس وقت تک مفید نہیں ہوسکتا،جب تک اسے پڑھنے کی ترغیب نہ دلائی جائے اور طلبہ کے اندر اسے سیکھنے کی رغبت تبھی پیدا ہوگی جب وہ سادہ و سہل ہو اور اس مضمون میں افادیت،تشویق و سہولت کے اوصاف تبھی پیدا ہوسکتے ہیں،جب ایک استاذ اسے پڑھانے کے لیے اپنے طلبہ سے کئی گنا زیادہ محنت کرے۔

بل گیٹس: ٹکنالوجی تو محض بچوں کوحصولِ علم کی ترغیب دینے کا ذریعہ اور وسیلہ ہے،اصل اہمیت تو معلم کی ہے۔

 

 

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*