کابینہ میں توسیع پر کانگریس کا حملہ : یہ کابینہ کی توسیع نہیں ،بلکہ اقتدار کی بھوک کی توسیع ہے

نئی دہلی :نریندر مودی حکومت کا کابینہ میں توسیع پر کانگریس نے آڑے ہاتھوں لیا ہے،حلف برداری سے کچھ گھنٹے قبل کانگریس نے کہا کہ یہ مرکزی کابینہ کی توسیع نہیں ، بلکہ اقتدار کی بھوک کی ’توسیع‘ ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہا کہ اگر کام کا ج کو بنیاد بنایا جائے تو وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے کئی وزرا کو عہدہ سے معزول کردیناچاہیے ۔ پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ یہ کابینہ کی توسیع نہیں ہے ، بلکہ اقتدار کے بھوک کی توسیع ہے۔ ا گرمرکزی کابینہ میں توسیع ہو رہی ہے ، تو یہ کام کاج کی بنیاد پر ہونا چاہیے ۔ سرجے والا نے دعویٰ کیا کہ اگر کام کی بنیاد پر کوئی تبدیلی ہوتی ہے ، تو سب سے پہلے ، وزیر صحت و خاندانی بہبود ہرش وردھن کو ہٹایا جانا چاہیے ۔ اس کے بعد پیٹرولیم وزیر دھرمیندر پردھان کو ہٹایا جانا چاہیے ، جنہوں نے پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی ہٹانے کے بجائے عوام پر بڑھتی قیمتوں کا بار ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر خوراک کو ہٹایا جانا چاہیے ، جنہوں نے ملک کو اس مقام پر پہنچا دیاکہ یہاں غریبوں کے لیے کوئی اناج نہیں ہے جبکہ شراب بنانے والی کمپنیوں کو ایک لاکھ ٹن چاول دیا جارہا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نہ یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے وزیر خزانہ کو ہٹایا جانا چاہیے جنہوں نے جی ڈی پی کو منفی پوزیشن میں دھکیل دیا۔ان کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو ہٹایادیا جانا چاہیے ، جن کے دور میں چین نے ہندوستان کی سرزمین پر قبضہ کیا ہے اور حکومت کی طرف سے سرد مہری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ اگر کام کاج ہی اصل اساس ہے ، تو وزیر داخلہ امت شاہ کو ہٹا دیا جانا چاہیے کیونکہ ان کی ناک کے نیچے نکسل ازم اور دہشت گردی پھیل رہی ہے ۔ پاکستان کی طرف سے دراندازی ہورہی ہے اور ملک بھر میں ہر روز لنچنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر کام کاج ہی اصل بنیاد ہے تو وزیر اعظم کو بھی عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے،کیونکہ مخالفین کی آواز دبانے والے سربراہانِ ملک میںپی ایم نریندر مودی کا بھی نام آتا ہے۔خیال رہے کہ 57 وزراء کے ساتھ مئی 2019 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنا دوسرے میعاد کا آاغاز کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی پہلی بار مرکزی کابینہ میں کچھ ترمیم اور توسیع کی جارہی ہے ۔