کبیرا تیری چدریا کو قریب سے دیکھا:حقانی القاسمی کی کتاب’شکیل الرحمن کا جمالیاتی وجدان‘-خورشید حیات

 

’’شکیل الرحمن کا جمالیاتی وجدان‘‘نئی صدی کے تخلیقی ناقد حقانی القاسمی کی اہم کتاب،خوبصورت گٹ اپ اور دو سوروپے قیمت کے ساتھ اردو منڈی میں اپنی طرف آکرشت کر رہی ہے۔

اردو ادب کی زمین پر، ننگے پاؤں چلنے والے، تیز دھو پ میں، بارش میں ، آندھی اور طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے، اپنی آنکھوں پر ایک خاص رنگ کی عینک لگائے، ہم سب کی پیاس بجھانے کی کوشش میںلگے،بابا سائیں، علم کے سمندر میں غوطہ لگانے والے، سند باد جیسی صفات کے حامل شکیل الرحمن کا جمالیاتی چہرہ ہندوستان کے نقشہ سے جھانکتا دکھائی دے رہا ہے۔بغیر کسی تبلہ، ڈھولک، ہارمونیم کے تخلیقی تنقید کی زمین پر حقانی القاسمی نے ایک نئے’’رس راگ‘‘کی شروعات کر دی ہے۔ کئی لوگ اوندھے منہ گر جائیں گے یا پھر حقانی کی تخلیقی ذہن کے ’’غار حرا‘‘ میں ، نادیدہ حقیقتوںسے دیدہ حقیقتقوں کا اشاریہ، تخلیقی فن کار کی نئی ادبی کائنات سے انہیں روبرو کرائے گا۔

تخلیقی تنقید کا یہ انداز، تخلیقی تنقید کی نئی صبح تو نہیں میرے للنا !

پنچ رنگ چولا پہر سکھی

میں جھرمٹ کھیلن جاتی(میرا)

جہاںایک طرف ادبی فلک پر گھٹا چھاتی جا رہی ہے۔ اپنی اپنی ڈفلی بجانے میں لوگ لگے ہیں۔ ایسے میں معتبر لفظوں کی بارش میں بھیگتے ہوئے مجھے راجستھان کے پنچ رنگ لہریا کی یاد آ گئی۔ لفظ ’یاد ‘پر یاد آیا۔

یاد ماضی عذاب ہے یارب-چھین لے مجھ سے حافظہ میراکہنے والے اختر انصاری مجھے پسند نہیں آتے۔ میرا ماننا ہے کہ ماضی رحمت ہے۔ ماضی کی یادیں، سنہری روایت ہمیں جینے کا ہنر سکھاتی ہیں، ایک نیا حوصلہ دیتی ہیں۔ لفظ ’’ماضی‘‘اور ’’رحمت‘‘ پر غور کرتے جائیے ساری گرہیں کھلتی جائیں گی۔

مجھے اردو نہیں آتی

مجھے بولنا نہیں آتا

مجھے چلنا بھی، ٹھیک سے نہیں آتا

میری مادری زبان کیا ہے ؟

اندر سے آواز آئی……

’’ایمان‘‘ زبان اور گرامر کا محتاج نہیں ہوتا۔

میں سفر میں ہوں اور بچے کھچے تخلیقی فن کاروں کے الگ الگ چہروں سے میں بات کر رہا ہوں۔ سفر میں ایک طرح کے خیالات، ایک طرح کے مناظر نہیں آتے۔ میری گفتگو میں بے ربطگی کا اگر احساس ہوتو معاف کیجیے کہ بے ربطگی میں بھی ایک ربط ہے، زنجیری سالمیت ہے۔

حقانی القاسمی کے قلم سے نکلنے والی تحریریں’’خوشبو والی کینڈل‘‘ ہیں، جو روشنی کے ساتھ ادب کے آنگن کو بھی معطر کر رہی ہے۔ کوئی چٹر پٹر کی آواز نہیں۔

حقانی تمہاری خوشبو، روشنی، رنگ تحریریں لہریا لباس پہنے ہوئے مجھے اچھی لگتی ہیں۔ ویسے تو لہریا محض ایک لباس ہے۔ مگر یہ ہندو مسلم رشتوں کی، مشترکہ تہذیب کی عبارت بھی چپکے سے لکھ جاتا ہے۔ہولے سے کانوں میں کچھ کہہ جاتا ہے۔

’’جس کی چٹکی میں دم ہو وہی اچھا لہریا رنگ سکتا ہے۔‘‘

حرف، حرف لفظ

کالے گلاب جیسے لفظ

کانٹوں کے بیچ خوشبو بکھیرتے لفظ

لفظ لفظ ،تحریریں……تحریریں حقانی کی رنگ جاتی ہیں، بھر جاتی ہیں الگ الگ رنگ

کبھی سفید ، تو کبھی سنہری دھوپ جیسا رنگ…

کبھی زندگی کو سنوارتے تھے رنگ

کبھی زندگی کا چہرہ بگاڑ دیتے ہیں رنگ

رنگ جو داغ بھی بن جاتے ہیں گنبد کے کبوتر کے لئے

زندگی کے رنگ تو اڑ گئے بھیا، دم توڑتی انسانیت کے سنگ

 

جمالیات کی بات جب ہوتی ہے، تب مجھے احتشام حسین روایت اور بغاوت کی لہروں میں ابھرتے دکھائی دیتے ہیں اور آل احمد سرور مسرت سے بصیرت تک میں۔مجھے جو ابھی دکھائی دے رہا ہے، اس نور سے،اس روشنی سے میرے اندر مسرت کے احساس کے ساتھ ساتھ میری بصیرت بھی جاگ گئی ۔

ورق ورق پر لفظوں کی قندیلیں

انتساب اس ماں کے نام ہے، جن کی قبر کی مٹی، حقانی کے لئے’’کائنات جمال ہے‘‘ کہ اسی مٹی سے زندگی کے گلاب میں خوشبو ہے۔

خوشبو تخلیقی رو میں بہنے والی جمالیاتی وجدان کی

خوشبو کائنات کی

حقانی القاسمی کی تحریروں میں علوم کی اتنی لہریں موجزن ہیں، متحرک ہیں کہ ہر لہر ہمارے قوت وجدان سے جب ٹکراتی ہے تو ایک نئے خسروی۔ اساطیری، جمالیاتی تصورات ابھرنے لگتے ہیں۔

حقانی کی تحریروں کے ساتھ میں صرف’’سات قدم‘‘ ہی چلا تھا کہ کالے کالے، چاول کے دانے جیسی تحریریں مجھے اپنے ساتھ بہا لے گئیں۔کون دشا میں (ما) لے کے جاتھس۔ ہم نئی جانن۔

سات قدم……صفحہ سات

صفحہ سات سے صفحہ ایک سو چالیس

20 = 7 ÷ 140

حقانی کے ’’سات قدم ‘‘کی اہمیت سے کسے انکار

ج + م + ا + ل + ی + ا + ت = جمالیات = ۷ حروف

سمندر سات/بر اعظم سات

رحم کی سورتیں/ سات

کعبہ کے طواف کے چکروں کی تعداد سات

صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ کی تعداد سات/کنکری کی تعداد سات

دو آنکھیں، دو کان، ایک منہ، دو ناک میں سوراخ = سات

خالق کائنات نے سات چیزوں کی قسم کھائی

چاند/سورج/رات/ دن/زمین/آسمان/چاشت کا وقت

سورہ یوسف میں سات دیہاتوں کا ذکر

قوس قزح میں سات رنگ

سات کی حکمت ہم سب کا رب جانے

مجھے کچھ نہیں معلوم/ میں کچھ نئی جانَو

وہی ’’شعریٰ ‘‘کا رب جانے۔

 

آریہ ورت کی سوندھی سوندھی مٹی سے جڑے ’’سات قدم‘‘

شادی کے سات پھیرے

سات وچن

سنگیت میں سات سُر/سات دن کا ایک ہفتہ

گوتم بدھ میں سات حروف تو قرۃ العین حیدر کے’’نیلامبر‘‘ میں بھی سات

گوپی چند ……نارنگ کے گوپی چند میں بھی سات

القاسمی میں بھی سات اور اور……ہر شئے خود اپنے وجود سے گواہی دے رہی ہے کہ وہ، بڑا حکمت والا ہے، تمام عیبوں سے،ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے۔ ساری خوبیاں اسی میں پائی جاتی ہیں۔ ہر تعریف اسی کے لئے زیبا ہے۔سارے کمالات ’’اسی‘‘ پر ختم ہو گئے۔

’’سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں

اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں‘‘

میں تو کچھ نہ جانوں، وہی شعریٰ کا رب جانے

بول دیجو سب سے۔ سب لا بتا دیبے سنگی

I AM YET TO KNOW MYSELF

میں کون ہوں ؟

میں کیوں ہوں ؟؟

میں کچھ ہوں تبھی تو ہوں

کچھ نہ ہوتا تو بنایا کیوں جاتا

……

……

میں چل رہا ہوں

میں جاگ رہا ہوں

میر ے وچار جا گ رہے ہیں یا سو گئے ہیں۔

گیان ہی تبدیلی ہے

ہر انگلی پر ایک’ لفظ ‘ایک شبد

مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں

مجھے جگانا چاہتے ہیں

پیاسے ہونٹوں کو قطرہ قطرہ لذت دینا چاہتے ہیں

مگر میرا ’میں‘ میرے اختیار میں نہیں

میرا قلم میرے بس میں نہیں

مجھے اپنے ’میں‘ سے لڑنا ہوگا

تبھی کائنات کی جمالیات مجھے اپنی گو د میں لے لے گی۔

 

سات دن، سات راتیں ، میں صرف سات ہی قدم چل پایا حقانی کی تحریروں کے ساتھ۔ میں ان کی تحریروں میں کچھ ایسا محو ہو گیا کہ مجھے ان باتوں کی کوئی پروا ہ نہیں کہ میرے محسوسات کو زبان عطاکرنے کے لئے میرا قلم مجھ سے کیا کیا لکھوا رہا ہے،’’کہلوا‘‘رہا ہے۔

لفظوں کی موجیں مجھے اپنے ساتھ بہاکر لئے جا رہی ہیں،ا ور میں رو رہا ہوں کہ رونا روح کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔

ہر صفحہ ایک لہر، اور لہروں کے ساتھ قائم ہوتا ہمارا نیارشتہ

’رشتہ‘آپ سب کا، قلی قطب شاہ کی ’’جمالیاتی بستیوں‘‘ سے۔ محمد قلی قطب شاہ کی شاعری کی حیثیت اردو ادب میں ’’مکھ سندھی‘‘ اور’’پرتی مکھ‘‘ دونوں کی ہے۔

جمالیات کے معنی خیز اصطلاحات کا اطلاق

مکھ+سندھی MUKHA + SINDHI

پرتی+ مکھ PARTI + MUKHA

1512 – 1543

قلی= ق +ل+ ی = ۳

قطب= ق +ط+ب = ۳

شاہ=ش + ا + ہ = ۳

مجھے ہر حرف میں، ہر ہندسہ میں بہت کچھ دکھائی دے رہا ہے۔ میرے تین چار…اور ہم سب کے سات۔ سات قدم تمہار ے ساتھ ساتھ چلنے کے بعد، میں لہروں کی طرح ،’’ خوشبو خیالوں کی‘‘(ساحل) سے ٹکرانے کے بعد پیچھے کی طرف لوٹ رہا ہوں۔حسن کی بارہ جمالیاتی جہتوں، بارہ راگنیوں ،چمن حسن کی وسعتوں کی طرح……

شکیل الرحمن جب قلی قطب شاہ کی بات کرتے ہیں تو حیات نو بخشنے والے رسیلے ہونٹ دکھائی دینے لگتے ہیں……لالن، رخسار پر خوبصورت تل دکھائی دینے لگتا ہے، چھبیلی اور بارہ پیاریوں کے علاوہ جو چہرے ہیں پدمنی، حسن کے پیکر جوٹھہرے میرے سجن، صندل خوشبو جسم،بھولپن یاقوت اور عقیق جیسے ہونٹ، ہنس جیسی چال اورحرف حرف لفظ، بابا سائیں کی جمالیاتی خصوصیات۔

عاشق اور محبوب کے درمیان کوئی نہیں

FEELING OF SPRITEDNESS

رقص اور موسیقی کے شیدائی…قلی قطب شاہ

قلی قطب شاہ کی جمالیات…کوئی رقیب نہیں

عورت کے بدن کے رمز شناس…قلی قطب شاہ

قلی قطب شاہ کے لفظی تفردات اور جمالیاتی تجربوں کی آئینہ دار لفظیات:

لالا،لالن،گوریاں،للات،للن،للنا،موہنیاں،موہنا،ادھراں،گیسواں،گالاں،مرگ نینی،سرخاں،کاجلاں، لذتاں، لیلاٹ اور ڈھیر سارے رس بھرے الفاظ میں بابا سائیں شکیل الرحمن کا چہرہ بھی ہمیں دکھائی دینے لگتا ہے کہ ان کی تحریریں بولتی ہیں۔

اے میرے قلم سے نکلنے والے لفظ !

کائنات کی ہر شے کا تحرک کس کی ذات سے جڑا ہے ؟

حیات و کائنات کی سانسیں کس سے جڑی ہیں ؟

مذہبی گاتھاؤں اور مقدس صحیفوں میں ہر لفظ کیا بول رہے ہیں، ہم سے کیا مانگ رہے ہیں ؟؟

شاداب ساعتوں میں لکھا گیا حقانی کا مضمون

حقانی کی تحریریں اپنے معانی سے کچھ الگ کہہ رہی ہوتی ہیں۔ان کی تخلیقی نثر سمندر کی لہروں جیسی ہوتی ہیں۔تحریریں سمندر جیسی، اور سمندر کی گہرائی میں تو کچھ ہی لوگ پہنچ پاتے ہیں،سمجھ پاتے ہیں کہ تحریریں کیا کہہ رہی ہیں۔تحریریں پیاس بجھاتی ہیں یا پھر پیاس بڑھا دیتی ہیں۔

 

جب جب دریا میں اتروں میں

تب تب میری پیاس بڑھی ہے

پیاس زندگی کی علامت ہے

تشنگی کچھ کر گزرنے کا ہنر سکھاتی ہے

ہمہ دم اضطراب

بیقراری ہی زندگی ہے۔کیوںمیں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا۔ معلوم نہیں کیوں۔’’حنا ‘‘میں لپٹی ہوا چنچل سہیلی کی طرح باہر کھڑی مسکرا رہی ہے۔

زمانے بھر سے کہہ دے گی حنا کہ میں تمہاری تحریروں سے مل کر آ رہا ہوں، ادب کے اکلوتے حقانی ! ہوا ہر ندی کا بدن چوم رہی ہے………ہواندی من کے بدن لا چومت ہے۔

شکیل الرحمن کا یہ کہنا:

’’عورت کا وجود مختلف راگوں کا سنگم ہے۔ اس کے ہونٹ ہرراگ الاپ سکتے ہیں۔‘‘

مکت راگاں پیاری اب رگے راگ گاتی ہے

مکھاری راگ گاتی مکھ لہاراںسوں سہاتی ہے

’’عورت ہر وقت اور ہر موسم میں ایک نئی میلوڈی ہے‘‘اور حقانی القاسمی کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ قلی قطب شاہ پہلا ایسا فیمنسٹ شاعر ہے جس نے عورت کو مرکزیت دی ۔

THE WIND HAS ARRIVED WITH THE WINTER SEASON

IN THE ABSENCE OF LOVER THE GOD OF LOVE PESTERS-THE BELOVED

THE HEART DOES NOT RELAX UNLESS IT BEHOLDS THE LOVER

THE BODY TOO GETS SATIATED WHEN IT MEETS WITH THE LOVER

O COOL WIND ! I CAN’T KILL TIME IN THE ABSENCE OF MY LOVER

ماؤنٹین آف لائٹ (MOUNTAIN OF LIGHT)ابراہیم قطب شاہ کے محمد قلی قطب شاہ کی جمالیاتی روح تک پہنچ پانا سب کے بس کی بات نہیں۔ یہ کام شکیل الرحمن اور حقانی جیسے لوگ ہی کر سکتے ہیں۔

قلی قطب شاہ کا ’گول کنڈہ‘جمالیاتی تحرکا ت کا کھنڈر مجھے نظر آتا ہے جمالیات سنسان گھاٹیوں میں،کھنڈروں میں، سونامی کی لہروں میں،حضرت سرمد شہیدکے’’انا الحق‘‘ میں،

……

……

سنسان رات میں

کوہ طور میں

ہرن کی کھال پرلکھی تحریروں میں……

صفحہ ۱۲۷ سے واپس میری جل ترنگ لہریں صفحہ ۱۱۷ کی طرف لوٹ آئی ہیں۔رعنائی خیال کی رو میں لکھی گئی تحریروں سے ملنے۔مولانا رومی کے BLISSFUL CONSCIOUSNESS کی طرف،جہاں ایک عظیم تر سچائی ساتویں دروازے پر کائنات کا سارا خزانہ لئے، کسی معتبر چہرہ کا انتظار کر رہی ہے۔

ہم سب کی آنکھیں کھلتی ہیں، پھر بند ہو جاتی ہیں، پھر کھلتی ہیں………

حقانی میرے بھائی عورت کی گود نیم کی چھاؤں بھی ہے اور انگیٹھی کی آنچ بھی۔

ایک ایسی چھاؤں لکھ دو میرے نام، جس چھاؤں میں دوپہر کا گماں نہ ہو۔

ایک ایسا لفظ لکھ دو میرے نام، جس سے ملنے کی چاہت میں ہر لمحہ اس کے نام کر دوں،

ساتواں در

کائنات کا سارا خزانہ

’’شکیل الرحمن نے بھی تخلیق کے اس ساتویں در کو کھولنے کی کوشش کی ہے۔جس میں طلسمات اور تحیرکی تابناک کائنات آباد ہے اور اس ساتویں در تک صرف وہی فرد پہنچ سکتا ہے جس کا ذہنی وجود عقل کے آب اور عشق کے التہاب کا امتزاج ہو۔

آج جب کہ مولانا رومی کی تمثیل کے مطابق ہماری تنقید کی کشتی اور اس کے سامنے مسافر ہزاروں شب کی سیر کے بعد بھی ایک ہی کھونٹے سے بندھے ہوئے ہیں………

تخلیق کا دروازہ کھلا ہوا ہے مگر لوگوں کی آنکھیں بند ہیں۔‘‘[صفحہ:۱۲۷ حقانی القاسمی]

رعنائی خیال کی رو میں لکھی گئی تحریر

حقانی کی تحریر ترکی کے شہرقونیہ میں ایک آستانے کے دروازے پر لکھے شعر سے روبرو کراتی ہے۔

نورانی ہالہ اور کائنات

نورانی ارتعاش

زلیخائی جنون عشق

تہذیبی ثقافتی استعارہ

رومی، حافظ اور فردوسی تم کہاں ہو ؟

تمہاری ادبی/تخلیقی کائنات، تخلیقی فکری آفاقی شعور، عشقیہ نغموں کے مضراب کو اپنے دروں میں بسانے والے حرف حرف، لفظ، شکیل الرحمن کے ہیں، حقانی کے ہیں اور ان جیسے کئی معتبر چہروں کے ہیں۔

تخلیق کی نئی نئی جہتوں کے انکشاف کا ہنرکوئی آپ سے سیکھے، بابا سائیں!

’’کائنات گیر دھڑکنوں والے انسان کا نام شکیل الرحمن ہے‘‘ایسا حقانی کا کہنا ہے۔میں کیا کہوں، میں تو اپنی ہر دھڑکن کو پہچاننے کے عمل سے گزر رہا ہوں کہ مور دھڑکن کا بولت ہے نئی جانو، سنگی!

او، مور سنگی، دھڑکن کا بولت ہے نئی جانو

امار مون کی بولے آمی جانی نا

عرفان

منزل عرفان……دور بہت دور بھاگ جائے ہے۔

 

کبیرا تیری چدریا کو دیکھتے دیکھتے میں کئی بار بہک گیا کہ من لاگا،من لاگا حقانی تم رے ہر حرف سے ان حروف سے جو دھرتی، امبر، سریتا، ساگر جیسے ہیں۔ میں کہ ٹھہرا ادھورا آدمی، من مورا لاگے فقیری میں، زندگی کی گاڑی ریل کی پٹریوں پر دوڑ رہی ہے۔ سچ بتاؤں مور سنگی ! تمہارے بدن کی جمالیات اور پھر شکیل الرحمن کا جمالیاتی وجدان، کئی راگوں کے سنگم، سجن محل،اوم منی پدم،جنسی، طلسمی،تخیلی کائنات، سکمار بدن،نیلگوں شبنمی کپڑے،مدھ بھری آنکھیں،نہر رکناباد،دھنپت رائے شری واستو کی ’’نئی بیوی‘‘ اورحافظ کے درون میں ’’عشق‘‘ کی آنچ، خواجہ شمس الدین کی شاخ نبات اور بھی بہت کچھ میرے اندر یہ کون سی نئی جوت جلا گئے، رے مور سنگی ! نہر رکنا باد سے ’’عشق‘‘کی ایک نئی لہر بہہ رہی ہے۔

SYMBOLS OF CREATOR’S BEAUTY

SPIRITUAL ROMANTICISM

COSMIC CONSCIOUSNESS

GOD REALIZATION

قدم دریغ مداراز جنازہ حافظ

کہ گر چہ غرق گناہ است محدود بہ بہشت

NEITHER HAFIZ’S CORPSE, NOR HIS LIFE NEGATE,

WITH ALL HIS MISDEEDS, HEAVENS FOR HIM WAIT.

چلنا گوری، چلنا للنا

چلنا حقانی، حافظ کے بھووَن میں چلنا جوت جلابو

چلنا جوت جلابو !

میرا’’میں‘‘ ابھی وجدان کی /الٰہیات کی/ انسانی وجود میں پلنے والے جمالیاتی نظام کی مکمل روشنی سے روبرو ہو رہا ہے اور میں عام رویے سے ہٹ کر انسانی ابتدا اور ’’معتبر چہروں‘‘ کی زندگی کی انتہا تک پہنچ کر وجدان اور جمالیات کے سمندر میں، ابھرتی ڈوبتی تخلیقی لہروں میں،حسیاتی، لمسیاتی، جمالیاتی وجدانی عناصر کو تلاش کر رہا ہوں۔دوسری طرف مشرق سے سورج کی روشنی ہزاروں عنوان سے زندگی کا پیام بن کر نمودار ہو رہی تھی اوردور بہت دور شجر سایہ دار حویلی نما کھنڈر سے کسی کے رونے کی آواز میرے کانوں میں سنائی پڑ رہی تھی۔

سمندر کی ابھرتی ڈوبتی لہروں میں

مجھے سویا ہوا شہر بھی جاگتا دکھائی دیا۔

سوئے ہوئے شہر میں جاگتی زندگی کا قصہ ابھی جاری ہے کہ مچھلیاں جانتی ہیں سمندر کا درد، بس ہم بھول گئے ہیں کہ تمہاری نسوں میں بہتا ہے کوئی اور……کوئی اور !