کبیر اجمل:کس نے کہا وجود مرا خاک ہوگیا؟-اشعر نجمی

میری بے خبری کا یہ عالم کہ کافی پہلے ایک بار میں شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کے گھر پر (الہ آباد) بیٹھا ہوا تھا۔ ایک صاحب اور بھی وہاں موجود تھے۔ فاروقی صاحب نے تعارف کرایا تو ان کا نام معلوم ہوا، ‘شفیع جاوید۔’ شفیع جاوید بہت دیر تک ‘اثبات’ کی تعریف کرتے رہے اور میری مدیرانہ صلاحیتوں کا ذکر کرکے مجھے شرمندہ کرتے رہے۔ فاروقی صاحب ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ خیر، جب وہ وہاں سے رخصت ہوئے تو میں نے فاروقی صاحب سے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب تھے؟ فاروقی صاحب ہنسنے لگے اور بولے، "میاں! آپ کی بے خبری پر ہم قربان جائیں۔ آپ کو شفیع جاوید کا تعارف چاہیے؟ جناب یہ پٹنہ میں رہتے ہیں اور کافی اچھے افسانہ نگار ہیں۔ تم نے ‘شب خون’ میں ان کے کئی افسانے پڑھے ہوں گے۔” ایک اردو کے ادبی رسالے کے مدیر کے لیے یہ سچ مچ تازیانے سے کم نہیں تھا۔

ایک ایسا ہی دوسرا چابک آج بھی مجھ پر پڑا ہے۔ صبح جب میں نے فیس بک کھولا تو سب سے پہلے میری نظر برادرم رضوان الدین فاروقی کی ایک پوسٹ پر پڑی جس میں بنارس کے کبیر اجمل کے انتقال کی خبر تھی۔ خیر، ان منحوس دنوں میں تقریباً روزانہ کسی نہ کسی کے رخصت ہوجانے کی خبر فیس بک پر پڑھنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔ کبیر اجمل کا نام میرے لیے "شناسا” تھا، بس ٹھیک ٹھیک یاد نہیں آ رہا تھا کہ انھیں میں کیسے جانتا ہوں۔ اچانک دل و دماغ پر بجلی سی گری اور سب کچھ روشن ہوگیا۔ میں نے تیزی سے وہاٹس ایپ کو الٹنا پلٹنا شروع کیا اور میرے اندازے کی تصدیق ہوگئی۔ کبیر اجمل سے میرا virtual relation تھا۔ ‘اثبات’ کی ہراشاعت پر مبارک باد دینا ان کا معمول تھا۔ ‘احیاے مذاہب’ کی انھوں نے پانچ کاپیاں منگوائی تھی، جو انھوں نے اپنے دوستوں میں تقسیم کردی تھی۔ اتنا ہی نہیں، بلکہ انھوں نے اپنے دوست انورجمال صاحب کو ترغیب دے کر پٹنہ سے شائع ہونے والے معروف روزنامہ ‘پندار’ کے لیے ان سے ایک طویل تبصرہ بھی لکھوایا اور شائع کرایا تھا۔ ایک بار ان سے فون پر طویل گفتگو بھی ہوئی تھی۔ گفتگو میں وہ مجھے ادب سے اچھا خاصا شغف رکھنے والے اور خاصے منکسرالمزاج اور مخلص انسان نظر آئے۔ پھر جب "عالمی نثری ادب” کی فہرست میں نے فیس بک پر شیئر کی تو انھوں نے وہاٹس ایپ پر مجھ سے رابطہ کیا اور معذرت بھرے انداز میں کہنے لگے کہ میرے لیے اس نمبر کی ایک کاپی بُک کرلیں اور بہت دیر تک شرمندگی کا اظہار کرتے رہے کہ وہ اس بار صرف ایک کاپی ہی بُک کرارہے ہیں کیوں کہ ان کی معاشی حالات آزمائشی دور سے ہمکنار ہے۔ پھر جب ملک میں کورونا کا قہر ٹوٹا اور لاک ڈاؤن کا عذاب تنہائی نازل ہوا تو میں نے دوسرے کچھ دوستوں کی طرح وہاٹس ایپ پر ہی ان سے بھی خیریت پوچھی تو انھوں نے بالکل عمومی انداز میں کہا کہ کورونا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا چونکہ انھیں کینسر ہے۔ میں ہکا بکا رہ گیا، شاید میں نے پہلی بار کسی کو اپنی موت کا اس طرح مذاق اڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔ لیکن آپ کو حیرت ہونی چاہیے کہ اتنے طویل عرصے تک رابطہ ہونے کے باوجود انھوں نے کبھی بھی خود کو بطور شاعر مجھ سے متعارف نہیں کرایا اور نہ انھوں نے مجھے یہ بتانا ضروری سمجھا کہ ان کے ادبی کرئیر کی شروعات ‘شب خون’ سے ہوئی تھی اور ان کا ایک شعری مجموعہ ‘منتشر لمحوں کا نور’ بھی شائع ہوچکا ہے۔ کبیر اجمل کی اس بے نیازی کو آپ اس دور میں کیا کہیں گے جس میں ہر لنگڑا لولا شاعر اپنا تعارف اپنے ادبی بائیوڈیٹا سے کراتا ہو، حتیٰ کہ پی ایچ ڈی والے ڈاکٹر صاحبان اپنا تعارف کراتے ہوئے میرے ان باکس میں اپنی تعلیمی اہلیت کے ساتھ اس کالج کا نام بھی لکھ دیتے ہیں جہاں وہ بچوں کو جاہل بنانے پر معمور کیے گئے ہیں۔ ایسی خودنمائی اور جعلی شناخت کے حوالوں سے جینے والوں کے درمیان کبیر اجمل کی بے نیازی اور انکسار کو فیس بکیے اگر حماقت سے تعبیر کریں تو مجھے تعجب نہ ہوگا کہ بھلا وہ کیسے جان سکتے ہیں کہ ادب اگر کچھ سکھاتا ہے تو وہ تخلیے کی انسانی کیفیت ہوتی ہے جو نام و نمود و نمائش سے ماورا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کبیر اجمل بھی اب فاروقی صاحب کی طرح میری بے خبری پر ہنس رہے ہیں کہ میں ان سے قریب رہ کر انھیں پہچان نہ سکا، میں آج صبح سے خود پر کئی بار لعنت بھیج چکا ہوں، آپ بھی اس بے خبر مدیر پر لعنت بھیجیے اور کبیر اجمل کے کچھ اشعار جو میری نظروں سے آج ہی گزرے ہیں، ملاحظہ کیجیے:
.
یہ کیا کہ تیری طلب میں اداس ہو جائیں
ہمارے بیچ تو صدیوں کے فاصلے بھی نہیں
اس ایک شامِ تحیر کا لمسِ دل آویز
رگوں میں پھیل رہا ہے بدن سوالی ہے

ہم اہلِ ہجر شکستِ سوادِ شام کے بعد
عذاب آیا تو تیری طرف ہی آئیں گے

کس نے کہا وجود مرا خاک ہو گیا
میرا لہو تو آپ کی پوشاک ہو گیا

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*