کبیر اجمل:خوشگوار حیرتوں کا شاعر-سلیم انصاری

گذشتہ دنوں بنارس میں ایک مختصر سی ملاقات کے دوران نوجوان شاعر کبیر اجمل نے جب مجھے اپنا شعری مجموعہ ’’منتشر لمحوں کا نور‘‘ عنایت کیا تو پہلی نظر میں ہی کتاب مجھے اپنے گیٹ اپ اور ظاہری خوبصورتی کے سبب دیدہ زیب لگی۔ اِدھر اُدھر سے ورق گردانی کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا کہ کبیر اجمل ایک تازہ کار اور نئے امکانات کے حامل تخلیق کار ہیں۔

کبیر اجمل سے میری واقفیت، شب خون میں شائع ہونے والی ان کی غزلوں کے حوالے سے پہلے ہی ہو چکی تھی، لہٰذا ان سے مل کر اجنبیت کا احساس بالکل نہیں ہوا، ادبی گفتگو کے دوران میں نے انہیں نہایت سنجیدہ، متین اور پر خلوص پایا۔ سراپا اخلاق اور انکسار کا پیکر، دھیمے لہجے میں سوچ سمجھ کر گفتگو کرنے والے کبیر اجمل کے یہاں شاعری محض تفننِ طبع کا ذریعہ نہیں بلکہ داخلی جذبوں کے احترام اور اظہار کا مؤثر وسیلہ ہے، ٹھہر ٹھہر کر شعر کہنے کی سرشاری اور اپنی ذات و کائنات اور خارجی عوامل کے مطالعے اور مشاہدے کا ہنر کبیر اجمل کے یہاں بدرجۂ اتم موجود ہے۔

’’منتشر لمحوں کا نور‘‘ کی شاعری پر گفتگو کرنے سے پہلے، اس پر ڈاکٹر یعقوب یاور کے دیباچے سے کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں کہ میرے نزدیک یہی ذریعہ ہے کبیر اجمل کے شعری کائنات کی تفہیم و تعبیر کا:

’’کبیر اجمل کے شعری لب و لہجے میں تازگی ہے، ان کا ذہن اپنے عہد کا مناسب ادراک رکھتا ہے۔ انہوں نے غزل میں ایمائیت کے ساتھ ساتھ اظہار کا وہ مخصوص وسیلہ دریافت کر لیا ہے جسے پر اسراریت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور جہاں بڑے بڑوں کی رسائی ممکن نہیں ہو پاتی۔ کبیر اجمل کی شاعری کا غالب لہجہ غم سے عبارت ہے۔ لیکن صرف اتنا کہہ دینے سے بات نہیں بنتی کیونکہ غم کا اظہار اب محض سنجیدہ اور معتبر شاعروں کی میراث نہیں رہ گیا ہے۔ عریانیت کے اس دور میں انہوں نے نہ صرف اپنے لہجے میں شائستگی کا خیال رکھا ہے بلکہ الفاظ کے استعمال میں بھی محتاط رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر یعقوب یاور نے کبیر اجمل کی شاعری کے حوالے سے جو باتیں کہی ہیں ان میں اپنے فکری رجحانات، ان کے مخصوص لہجے اور اسلوب کے پر گفتگو کی گئی ہے مگر میرے نزدیک کبیر اجمل ان سارے عوامل سے آگے کا شاعر ہے اور اس کی شاعری کو ایک بڑے کینوس اور وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کبیر اجمل کا وژن اس کی اپنی سوچ سے بھی بہت آگے ہے ان کی تخلیقی فکر کئی دشاؤں میں منعکس ہوتی ہے جو یقینی طور پر کئی سطحوں پر روشن ہوتی ہے، جنہیں ان کے کئی اشعار میں نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔

مجھے کبیر اجمل کی شاعری کو کئی زاویوں سے پڑھنے کا موقع ملا اور میں لطف اندوز بھی ہوا ان کی کثیر الجہت تخییلی اور تخلیقی صلاحیتوں سے۔ ان کی شاعری میں گہری فکر اور تازگی ہے جو قطعی طور پر غیر شعوری اور غیر ارادی ہے ان کے وسیع مطالعے کی چھاپ جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ ان کے اظہار اور اسلوب میں ندرت ہے جو اضطراری نہیں بلکہ وہبی ہے اور جو سب سے اہم بات ان کی شاعری میں مجھے نظر آتی ہے وہ یہ کہ ان کے یہاں داخلی فکر کا سیال تیز بہاؤ کے ساتھ آتا ہے اور بہت شدید ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اظہار کے مروجہ اصولوں سے بغاوت، انحراف اور توڑ پھوڑ کا احساس بھی ہوتا ہےـ ان کی شاعری میں مشکل زمینیں اور فارسی تراکیب اور مرکب اضافتِ لفظی کے سہارے ہی اتنے شدید فکری سیلاب کو باندھا جا سکتا ہے۔ ان کی شاعری میں اس خوبصورت صورتِ حال کا اعتراف شمس الرحمٰن فاروقی نے بھی کیا ہے جو یقینی طور پر سند کا درجہ رکھتا ہے۔ کبیر اجمل نے فارسی تراکیب اور اضافتوں کے ذریعے اپنا منفرد علاماتی نظام از خود وضع کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کامیاب بھی رہے ہیں۔ غبارِ دشتِ طلب، ریگزارِ لبِ جو، دروازۂ اثبات و نفی، ساکنانِ شہرِ رفاقت، شمارِ شکستِ خواب، نہاں خانۂ صد چاک، تپشِ موسمِ انا، اور کثافتِ عمرِ رواں وغیرہ ایسی اضافتی تراکیب ہیں جو کبیر اجمل کی فکری بصیرت اور معنویت کو نئی دشاؤں میں روشن کرتی ہیں اور ان کے وسیع المطالعہ ہونے کا ثبوت بھی فراہم کرتی ہیں۔

کبیر اجمل نے اپنے اولین شعری مجموعے کا نام ’’منتشر لمحوں کا نور‘‘ رکھا ہے جو معنوی اور علامتی ہر دو لحاظ سے بے حد معنی خیز اور فکر انگیز ہے، منتشر یعنی بکھرے ہوئے لمحوں سے نور کشید کرنے کا عمل ہی در اصل کبیر اجمل کے یہاں تخلیقی عمل سے عبارت ہے اور میرے نزدیک بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی بھی ذرّے ((particle کو ممکنہ حد تک چھوٹے چھوٹے ذرّات میں توڑتے چلے جائیں تو ان میں سے بڑی پاور فل انرجی یا توانائی کا اخراج ہوتا ہے، لمحہ جو وقت کی اکائی ہے، اس کے انتشار سے روشنی کا اخراج کبیر اجمل کو پاور فل تخلیقی توانائی عطا کرتا ہے۔

کبیر اجمل کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے نجیب رامش (مرحوم) نے لکھا ہے کہ وہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا شاعر ہے بلکہ جدیدیت سے مابعد جدیدیت کی طرف رواں ہے، مجھے اس سے اختلاف ہے اور اس لئے کہ اچھی اور سچی شاعری کے لئے شاعر کا کسی بھی تحریک یا رجحان سے منسلک ہونا ضروری نہیں بلکہ ہمارے ناقدینِ شعر و ادب اپنی سہولت کے لئے شاعروں کو ان خانوں میں فٹ کرتے رہتے ہیں، جیسا کہ میں نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ کبیر اجمل ایک بڑے کینوس کے شاعر ہیں اور انہیں ادب میں کسی بھی نظریاتی وابستگی سے جوڑ کر دیکھنا ان کی شاعری کے ساتھ نا انصافی ہو گی، ان کی شاعری محسوسات، مشاہدات اور تجربات و مراقبے کی شاعری ہے انہیں اپنے غم سے حوصلہ ملتا ہے، ہجر سے وصل کے مہتاب عطا ہوتے ہیں، انہیں اپنے زخموں سے روشنی کشید کر کے اظہار کی نئی عبارتیں لکھنے کا ہنر خوب آتا ہے اور یہی سبب ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں ممتاز اور نمایاں نظر آتے ہیں، ان کے یہاں ہجر، وصل، خواب، خاک پرندہ، شام، سمندر، انا اور لہو جیسے الفاظ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی تخلیقی آگہی کو نیا وژن عطا کرتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ کریں۔

وہی ہے ذائقۂ آب و گل لہو جیسا
وہی فضا وہی ابرِ غمِ کشادہ بھی

نہ جانے خاک سے اب کیا سخن کرے یہ ہوا
لہو نے نوکِ مژہ پر کمند ڈالی ہے

سمندر بھی پکارے گا مری تشنہ لبی کو
ابھی اک سلسلہ خاک و لہو کا رقص میں ہے

کس نے کہا وجود مرا خاک ہو گیا
میرا لہو تو آپ کی پوشاک ہو گیا

لہو بے رنگ کرنے کی عجب تحریک تھی وہ
عجب یہ بھی کہ ہم نے استفادہ کر لیا ہے

لہو سے پیاس بجھاتے ہیں لوگ شہروں میں
سروں کی فصل بھی اگتی رہی ہے کھیتوں میں

ہم اہلِ ہجر شکستِ سوادِ شام کے بعد
عذاب آیا تو تیری طرف ہی آئیں گے

ہم ہیں کہ اسی خاک کی جاگیر ہیں ورنہ
چاہیں تو ابھی وسعتِ افلاک بھی دیکھ آئیں

خاک کو خون سے ہم رنگ کیا ہے اجمل
اپنے ہونے کا یہی ایک سبب آخری ہے

ان اشعار میں خاک اور لہو دو ایسے استعارے میں جو کبیر اجمل کی شعری اور تخلیقی کائنات کو بے حد وسیع، معنی خیز اور فکر انگیز بناتے ہیں۔ لہو زندگی کی علامت ہے، حرکت و عمل کا استعارہ ہے، انا اور خود داری سے عبارت ہے، جبکہ خاک سکوت، بے یقینی، پژمردگی، موت اور بے عملی کی علامت ہے۔ منتشر لمحوں کا نور میں ایسے بہت سارے اشعار مل جائیں گے جن میں خاک اور خون کی علامتیں شاعر کی فکری جہتوں اور اسلوبیاتی نظام کی رنگا رنگی کے درمیان ایک وسیع جہانِ معنی خلق کرتی ہیں اور کبیر اجمل کی شاعری کو نئے عہد کی تخلیقیت سے ہم رنگ و ہم آمیز کرتی ہیں، در اصل خاک اور خون کو ہم رنگ کرنے کا عمل ہی ان کی شاعری کو عمودی اور مسلسل ارتقا پذیر بناتی ہیں۔

شمیم طارق نے کبیر اجمل کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ منتشر لمحوں کا نور ان کے عقیدہ و خیال، شعور و لا شعور، اور مذہب و ادب کو ہم رشتہ کرنے والا ایک دریچہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ شمیم طارق کی اس رائے کو وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ کبیر اجمل کی شعری سوچ کا کینوس اور ان کے تجربات و مشاہدات کا دائرہ انسانی زندگی کے ان پہلوؤں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں ان کے بعض ہم عصروں کی نگاہ نہیں پہنچتی۔

یہ بات سچ ہے کہ کبیر اجمل نے اپنے تخلیقی تجربات کے اظہار اور اسلوب میں شائستگی کا خیال رکھا ہے اور ان کے یہاں رومانی احساسات و جذبات کے اظہار میں بھی ایک طرح کی خوش سلیقگی اور ہنر مندی نظر آتی ہے جو مجھ ایسے بہت سارے ادب کے طالب علموں کے لئے ایک خوش گوار تجربہ ہی ہے، جسم و جاں کے کھیل میں بیباک ہوتے ہوئے بھی انہوں نے ہجر و وصل اور وارداتِ قلبی کے اظہار میں اپنی تمام تر تخلیقی سلیقہ مندی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔

سرد جذبوں کی کسک جب گفتگو میں پھیل جائے
درمیاں اک چپ سی گونجے اور لہو میں پھیل جائے

اس ایک شامِ تحیر کا لمسِ دل آویز
رگوں میں پھیل رہا ہے بدن سوالی ہے

لے کے پہنچی ہے کہاں سیم بدن کی خواہش
کچھ علاقہ نہ رہا سود و زیاں سے آگے

ازل سے زرد بگولوں کا رقص جاری ہے
وہ قطرہ قطرہ سرابِ بدن میں آئے کبھی

ان اشعار میں کبیر اجمل نے اگرچہ براہِ راست کسی جنسی جذبات کا اظہار نہیں کیا ہے مگر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سرد جذبوں کی کسک، چپ کا گونجنا اور لہو میں پھیل جانا، شامِ تحیر کے لمس دل آویز کا رگوں میں پھیلنا اور بدن کا سوالی ہونا، سیم بدن کی خواہش کے درمیان سود و زیاں سے کوئی علاقہ نہ ہونا، زرد بگولوں کا رقص اور بدن کے سراب میں قطرہ قطرہ آنا، یہ ساری علامتیں اور اشارات انسان کی جنسی اور جبلی خواہشوں اور ان کی آسودگی اور نا آسودگی کو ہی بیان کرتے ہیں مگر اس سلیقے اور تہذیبی ہنر مندی کے ساتھ کہ کہیں بھی قاری کی سنجیدہ سماعت پر گراں نہیں گزرتا۔ یہاں ایک بات اور قابلِ ذکر ہے کہ کبیر اجمل کے یہاں اس طرح کے موضوعات غیر شعوری طور پر ہی ان کی تخلیقی سوچ کا حصہ بنتے ہیں اور شاید یہی سبب ہے کہ ان کی غزلوں میں اشعار کی تعداد پانچ۔ سات سے زیادہ نہیں اور بعض غزلیں تو محض تین یا چار شعروں پر ہی مشتمل ہیں، ان کے یہاں تخلیقی عمل میکانکی نہیں بلکہ فطری ہے۔

کبیر اجمل کی شعری فضا غیر مانوس ہے، ان کے یہاں بعض الفاظ اور تراکیب بھی غیر مانوس ہیں اور عام قاری کے لئے تفہیم و تعبیر کا مسئلہ بھی پیدا کر سکتے ہیں مگر ان کے اشعار ترسیل کے المیے کا شکار نہیں، بلکہ اپنے قاری سے فکری اور متواتر مطالعے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور ایسا اس لئے بھی کہ کبیر اجمل کے یہاں شعری عمل میں گہرا شعور و ادراک اور بصیرت کی کار فرمائی نظر آتی ہے اور یہی سبب ہے کہ ان کے اشعار اکہرے نہیں ہوتے۔

کبیر اجمل کے یہاں ناسٹلجیا بار بار ایک زیریں لہر کے طور پر سامنے آتا ہے، وہ بار بار اپنے ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہیں اور گذشتہ ہجر و وصل کے لمحات میں جینے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ جلد ہی اپنے حال اور موجودہ لمحوں میں لوٹ کر زندگی کے مسائل و مصائب سے نبرد آزما ہو جاتے ہیں۔ ان کے بعض اشعار میں ایک ایسے انسان کا تصور بار بار ابھرتا ہے جو عشق کی سرمستیوں اور سرشاریوں میں اپنی زندگی گزارنا تو چاہتا ہے مگر جلد ہی اپنے عہد کی سفاک اور کربناک سچائیوں سے نظریں ملا کر زندگی کی جنگ میں شامل ہو جاتا ہے۔

بہت بے خوف یادِ رفتگاں آنے لگی تھی
تو سب کچھ بھول جانے کا ارادہ کر لیا ہے

میں عمرِ رفتہ کو آواز دینے والا تھا
تو سب حوالے کتابوں کی حد میں لوٹ گئے

لمحوں کی باز گشت میں صدیوں کی گونج تھی
اور آگہی کا مجرمِ اظہار میں ہی تھا

یہی سزا ہے کہ لمحوں کی بازگشت کے بعد
صدی صدی تیرے کوچے میں بین کرتے رہیں

بہت ہوا تو ہواؤں کے ساتھ رو لوں گا
ابھی تو ضد ہے مجھے کشتیاں ڈبونے کا

لمحوں کی بازگشت سے صدیوں کی گونج کو اپنے اشعار میں تجسیم کرنے کا عمل اور اپنی کشتیوں کو ڈبونے کا جنون ہی در اصل کبیر اجمل کی شاعری کو ایک نئے مدار میں داخل کرتا ہے جہاں وہ اپنے کشف اور روحانی انرجی کو بروئے کار لا کر اپنی انا کے خلاف مصروفِ پیکار نظر آتے ہیں۔ تیز رفتار اور انٹرنیٹ اور سائبر عہد کی سفاک زندگی کے درمیان وہ انسانی خلوص اور محبتوں کو بچا کر رکھنے کا ہنر جانتے ہیں، مادی ترقی کے اس دور میں اپنے زخموں سے روشنی اور آنسوؤں سے گہر تراشنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، زوال پذیر تہذیبی قدروں اور گم ہوتے ہوئے انسانی رشتوں کے علاوہ خوف، تشکیک، تنہائی، مایوسی، بے یقینی، بے زمینی، محرومی اور قنوطیت جیسی نفسیاتی الجھنوں کو بھی اپنی شعری سوچ کا حصہ بنانے پر قادر اس شاعر کے یہاں مثبت قدروں کے احترام کا جذبہ شدید ہے، کبیر اجمل جہاں ایک طرف یہ کہتا ہے کہ

اب تو ہونٹوں پہ سجانے کو تبسم بھی نہیں
اب مرے پاس وہ آیا تو اسے کیا دوں گا

وہیں دوسری طرف اس طرح کا شعر بھی اس کے شعری سرمایہ میں شامل ہے۔

یہ کیا کہ تیری طلب میں اداس ہو جائیں
ہمارے بیچ تو صدیوں کے فاصلے بھی نہیں

کبیر اجمل کی شعری فضا غیر مانوس سہی، غیر یقینی نہیں، وہ ٹھہر ٹھہر کر اپنی فکر اور وجدان کی روشنی میں اپنا تخلیقی سفر طے کر رہے ہیں اور ایک ایسے دور میں جہاں بیشتر شعراء خود کو پروجیکٹ کرنے میں مصروف ہیں وہیں کبیر اجمل نام و نمود کی خواہش کے بغیر، بے نیازانہ اور کسی صلے کی پرواہ کئے بغیر اپنے شعری سفر پہ گامزن ہیں، منتشر لمحوں کا نور ان کا اولین تخلیقی نقش ہے جو انک کی برسوں کے تخلیقی مراقبے اور فکری ریاضت کے بعد ہمارے سامنے ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اپنے آئندہ شعری سفر میں منتشر لمحوں کا نور سے آگے کا سفر طے کریں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*