کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے – عبداللہ ممتاز

اسلام اپنے روز اول سے حالات سے نبرد آزما ہے اور آئندہ بھی رہے گا. مسلمانوں پر حالات کا آنا کوئی نئی بات نہیں ہے، أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتْرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ. (العنکبوت/۲)

یقینا ہم ہندوستانی مسلمان اپنے وقت کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں، مسلم کُش فسادات کے ذریعہ ہماری مسجدوں کی بے حرمتی ہوتی ہے، ہمارے مکانات اور ہماری دکانیں جلائی جاتی ہیں، ہم ہی قتل ہوتے ہیں اور پھر بعد از فساد ہمیں ہی مجرم قرار دے دیا جاتا ہے اور ریاست کی سرپرستی میں ہمارے مکانات بلڈوز کیے جاتے ہیں اور ہمارے ہی جوانوں پر مقدمے چلتے ہیں اور انھیں پابند سلاسل کیا جا ہے۔ ہمارا دل چھلنی اور ہمارا جسم لہو لہان ہے، ان سب کے باوجود ہمارے پاس "لاالہ الا اللہ” کا اتنا قیمتی سرمایہ ہے جس کی حرارت نے ہمارے دلوں کو زندہ رکھا ہوا ہے، ہم حالات سے مجبور ہیں؛ لیکن اللہ کی ذات سے مایوس نہیں۔ ان شاء اللہ حالات بدلیں گے، ظلم کی سیاہی چھٹے گی اور عدل وانصاف کی روشنی پھیلے گی۔

اپنے اپنے پیمانے پر اپنی استطاعت بھر لوگ کام بھی کر رہے ہیں، عام طور سے اپنے جوانوں کو دیکھتا ہوں کہ ہندوستان میں جہاں کوئی فساد ہو یا مسلمانوں کے خلاف کوئی قانون منظور ہوجائے سب جمعیت اور پرسنل لا کے خلاف نکل کھڑے ہوتے ہیں اور ان جیسی تنظیموں کے صدور ونظما کو کوسنے لگتے ہیں. میں نے ان سے قیادت کی امید وابستہ نہیں کی، اس لیے میں ان سے سوال کرنے کو فضول سمجھتا ہوں. اس لیے اگر کبھی ممکن ہوا تو بیجا تنقید کرنے والوں سے بحث بھی کرلی۔

 

 

 

لیکن مدنی خاندان کا لمبے عرصے سے ہندوستانی مسلمانوں کو سیکولرزم، بھائی چارہ، ہندو مسلم ایکتا اور دیش بھکتی کا پاٹھ پڑھانے کا جو رویہ رہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ جمعیت اور اس جیسی تنظیموں نے "ہندو مسلم ایکتا اور گنگا جمنی تہذیب” کے نام پر مسلمانوں میں "وحدت ادیان” کا میٹھا زہر گھولا ہے۔
ابھی کچھ ہی دنوں پہلے کی بات ہے نا کہ مولانا سید ارشد مدنی کے ہونے والے جانشین اور حسین احمد مدنی کے بیٹے نے ہندؤں کے شرکیہ تہواروں کی نہ صرف بدھائی دینے کی تلقین کی؛ بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ ارشد مدنی اور حسین احمد مدنی عملا دیوالی مناتے تھے، ہم منتظر تھے کہ مولانا ارشد مدنی کوئی تردیدی بیان دیں گے؛ لیکن اپنی خاموشی سے انھوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردیا. مولانا ارشد مدنی پہلے ہی فرماچکے ہیں کہ "یا” کی طرح "واو” بھی نسبتی ہوتا ہے، اس لیے ہندی مسلمانوں کو "ہندو” کہلانے میں کوئی حرج نہیں. محمود مدنی ماضی میں گاندھی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل کھڑا کرچکے ہیں، "اسلامی نظام کو ریجیکٹ کرچکے ہیں”. اب رام اور کرشن کا احترام اور ان سے محبت کو مسلمانوں کا کرتو اور ان پر لازم قرار دے رہے ہیں. ببانگ دہل فرمارہے ہیں کہ "رام، کرشن اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیمات کو اٹھا کر دیکھ لیجیے، ڈھونڈتے رہ جائیے گا، کوئی فرق نہیں ملے گا”. جب آنکھوں پر جہالت پٹی بندھی ہو، دل مردہ ہوچکا ہو اور عقل خوف خدا سے خالی ہوچکی ہو تو یقینا رام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے۔
مدنی صاحب! آخر آپ مسلمانوں کو ضلالت وگمراہی کے کس دلدل میں دھکیلنے چاہتے ہیں؟ ہم پہلے سے ہی لٹے پٹے لوگ ہیں، ہمارے جوان اپنی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ سلاخوں کے پیچھے ہیں، غربت وافلاس کے شکنجوں کے علاوہ ہمارے گھر بھی بلڈوز ہورہے ہیں، ہمارے پاس صرف ایک یہی چیز بچی ہے جسے ہم "ایمان” کہتے ہیں. آپ ہندی مسلمانوں سے یہ بھی چھین لینا چاہتے ہیں. رام اور کرشن کیا، کسی عام فہم آدمی کی بھی بے احترامی وبے توقیری کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا؛ لیکن باطل خداؤں کے احترام کرنے کی بھی اسلام تلقین نہیں کرتا اور آپ تو "معبود باطل” سے محبت کو مسلمان کے لیے لازم فرمارہے ہیں. اگر آپ کو اسلام اور رام کی تعلیمات میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تو بزعم خود اسلامی پیشوا کیوں بنے بیٹھے ہیں، جائیے رام بھکتی کیجیے۔
پتہ نہیں لوگ کس زاویے سے انھیں مسلمانوں کا قائد اور لیڈر سمجھ کر ان سے امید رکھتے ہیں اور پھر تنقید کرتے ہیں. یہ تو ایسا لیڈر ہے جسے لفظ مسلمان کہتے ہوے بھی خوف محسوس ہوتا ہے، یہ مسلمان کے بجائے اقلیت کا لفظ استعمال کرتے ہیں، جنھیں غیروں سے اپنی زبان ملانے کے چکر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہوے بھی شرم محسوس ہوتی ہے، اس کے بجائے ان کی زبان پر "حضرت محمد صاحب” چڑھتا ہے۔
للہ! آپ اپنی "فیملی بزنس” چلائیے، لیکن مسلمانوں کے ایمان کا سودا نہ کیجیے:

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*