جرأت و بیباکی کے سنگم مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی ؒ ـ مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی

جہاد اور مجاہدہ شریعت اسلامی میں مطلوب اورقابل تعریف اعمال میں سے ہیں ۔جہاد کے کے بہت سے درجات ہیں ۔ہر ایک اپنی جگہ پر اہم ہے ۔جہاد جس طرح اسلحہ اور تیغ وتفنگ سے ہوتا ہے ۔اسی طرح زبان قلم اور دیگر ذرائع سے بھی ہوتا ہے ۔بلکہ بسا اوقات اسے افضل جہاد قرار دیا گیا ہے ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آں حضرت ﷺنے عصر کے بعد صحابہ کرام ؓسے خطاب فرمایا ۔جس میں قیامت تک پیش آنے والے بہت سے فتنوں پر انھیںمتنبہ فرمایا اور خاص طور پر فرمایا : الا لا یمنعن رجلا مھابة الناس ان یتکلم بالحق الا ان ا فضل الجہاد کلمة حق وربما قال کلمة عدل عندسلطان جائر ۔(مسند احمد رقم الحدیث ۰۶۱۱وکذافی مسند الحمیدی یعنی خبردار !لوگوں کا خوف کسی فرد کے لیے حق بات کہنے سے مانع نہ بنے ۔بلاشبہ افضل ترین جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق یعنی حق اور درست بات کو پیش کرنا ہے ۔حضرت ابو سعید خدریؓ اس روایت کو بیان کرتے ہوئے درمیان میںہی رو پڑے اور فرمایا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ بہت سے منکرات ہم شب وروز دیکھتے ہیں اور اس پر نکیر نہیں کرپاتے۔
ایسے وقت میں جب حالات نامساعد ہوں، ظالم حکمرانوں کا تسلط ہو ،ہر طرف حق کے خلاف پہرہ داری ہو۔حق کی آواز بلند کرنے میں جان کے لالے پڑتے ہوں ،اور زبان حال سے نہیں؛ بلکہ حقیقی معنوں میں ”دستور زبان بندی“ محفل میںنافذہو۔تو ایسے پر فتن ماحول میں اچھے اچھوں زبانیں بات کرنے کو ترس جاتی ہیں ۔بہتوں کے لیے مختلف مصلحتیں زبان کھولنے اور جرات گفتار کا مظاہرہ کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے ۔لیکن ظاہر ہے روئے زمیں ایسے مرد مومن سے کبھی بھی یکسر خالی نہیں ہوسکتی جومذکورہ حدیث نبوی کی بشارت کو اپنے لیے نصب العین بنالیں اور کسی بھی حال میں ظالم حکمرانوں کے انتقام اور مواخدہ سے خائف ہوکر کلمة حق کو پیش کرنے میں پہلو تہی نہیں کریں۔بعض شخصیتیں تو ایسی ہیں جنھوں نے اپنے او العزمی سے تاریخ کو نیا رخ دیا ۔اور ان کی جرات رندانہ سے اسلامی تاریخ کے ابواب روشن ہیں ۔اکثراکابر اس صفت کے وہ ہیں جن کے بارے میں پڑھا، یا سنا ۔مبارک ہوں گی وہ آنکھیں جنھوں نے ایسی شخصیتوں کی زیارت کی اور ان کی صحبتیں انھیں میسر ہوئیں۔لیکن جہاں تک جگ بیتی کے بجائے آپ بیتی کا معاملہ ہے ۔تو ایسی شخصیتیں جنھیں جرات گفتار وکردا ر کا حامل پایا ،انھیں انگلیوں پر گنا جاسکتاہے، ان میں مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ سابق سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر سابق امیر شریعت بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ وسابق جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بوڈ کی ذات منفرد مقام رکھتی ہے ۔ حضرت کی ذات کو بارہا دیکھا ،ان کی صحبتیں میسر آئیں ۔اور ان کی خاص محبت وشفقت بھی اس عاجز کو حاصل رہیں ۔سیکڑوں بیانات سننے کا اتفاق ہوا ۔کئی مرتبہ حضرت کے ساتھ اسٹیج پر شریک رہا ؛لیکن ہر مرتبہ ان کے بیانا ت میں پہلے سے زیادہ کشش اور تاثیر وقوت پائی ۔ تمام مقامات پر ایک بات جو قدر مشترک کے طور پر محسوس کیا وہ ہے آپ کی جرات کردار وگفتار، بیباکی وبے خوفی۔ اس صفت میںفی زمانہ آپ طاق ہیں۔محض گفتار کے غازیوں کی کمی نہیں ۔علامہ اقبالؒ نے کہہ رکھا ہے ۔اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں سے مو ہ لیتا ہے ۔گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا ۔
گفتار کے غازی اور اپدیشکوں کی ہر زمانے میں کثرت رہی ہے ؛لیکن ظاہر ہے کہ ہر زمانے میں صرف گفتار کے غازیوں سے کوئی بھی صالح انقلاب نہیں بر پا ہوتا ہے؛بلکہ اس کے لیے جرات گفتار وکردار کی جامعیت لازمی ہے ۔ حضرت رحمانی مفکر اسلام رحمہ اللہ بالیقین گفتار اور کردار دونوں کے غازی ہیں ۔حضرت کسی ملامت کے خوف اور سزا وصلہ کی پروا کیے بغیر باطل کے خلاف شمشیر برہنہ بنے رہتے ہیں اور زبانی اور قلمی جہاد کو اپنی اولو العزمی کے ذریعہ انجام دیتے رہتے ہیں۔اور منکرات کو روکنے کے لیے :من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ وان لم یستطع فبقلبہ ۔صحیح بخاری ومسلم ( تم میں سے جو کوئی خلاف شرع کا یا امر منکر دیکھے تواس کو اپنے ہاتھ سے بدل دینا چاہیے ،اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے اس کا انکار وتردید کرنی چاہیے اگر ایسا بھی نہ ہو سکے تو اس کو دل سے برا سمجھنا چاہیے ۔اور یہ ایمان کا سب سے ادنی درجہ ہے ۔) میں ذکر کر دہ ادنی درجہ نہیں بلکہ اعلی اور اوسط درجہ پر عمل کرنے کو اپنے لیے حرز جان بنائے رکھتے ہیں اور حکمرانوں کے سنگینوں کے سایے میں بھی کلمہ حق کہنے سے کبھی باز نہیں رہتے ۔ بلالومة لائم کسی بات کے کہنے پر یہ بات یاد آئی کہ اپنی ایک نجی مجلس می مفکر اسلام نے فرمایا کہ عصر حاضر کی ایک بڑی شخصیت نے مجھ سے ایک ”خاص “ مسئلہ کے سلسلہ میں فرمایا کہ اس مسئلہ کو آپ چھوڑ دیں ،لوگ چہ می گوئی کررہے ہیں اور باتیں بنا رہے ہیں ؛ حضرت مفکر اسلام نے جواب میں کہا حضرت !دلائل سے آپ اس عمل کا غلط ہونا واضح فرمادیں ۔میں فورا اس آپ کی بات مان لوں اور اس تحریک سے دست بردار ہوجاؤں گا ۔لیکن اگر یہ حق ہے تو یہاں مونگیر سے لے کر دہلی تک دو رویہ لوگ کھڑے ہوکر مجھے برا بھلا کہیں تو مجھے اس کی چنداں پروا نہیں میں راہ حق پر قائم رہوں گا ۔نہ مجھے ستائش کی تمنا ہے نہ صلہ کی پروا۔
حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی اور حضرت امیر شریعت رابع مولاناسید منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ کا نام بچپنے میں اپنے والد گرامی مولانا دلاور حسین ؒاور اپنے خال محترم حضرت مولانا شفیق عالم قاسمی صدر جامعہ رشیدیہ بیگوسرائے (جو حضرت کے دار العلوم دیوبند کے زمانہ طالب علمی کے قریب تر احباب میں سے ہیں اور از شرح وقایہ تابخاری حضرت رحمانی کے رفیق درس بھی رہے ہیں ،اور آپسی محبت تاحین حیات برقرار رہی ) کی زبانی بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ سنتا تھا ۔اسی وقت سے ان اکابر سے ملاقات اور ان کی صحبت میں کچھ وقت گذارنے کی خواہش تھی ۔دارالعلوم دیوبند کی طالب علمی کے زمانے میں انجمن تہذیب البیان طلبہ مونگیر ،بیگوسرائے کھگڑیا کے سالانہ اجلاس میں بندہ نے ایک سے زائد بار حضرت کو مدعو کیا ۔حضرت تشریف لائے اور انتہائی قیمتی اور حوصلہ بخش اورر ولولہ خیز نصیحتوں سے ہم طالب علموں کو مالا مال کیا ۔جب یہ عاجز دارالعلوم دیوبند کا معین المدرسین منتخب ہوا تو حضرت کی حوصلہ افزائیاں اور خاص دعائیں شامل حال رہیں ۔پھر سجاد لائبریری کے سالانہ پروگرام ہوں یا رابطہ مدارس عربیہ دارالعلوم دیوبند کا اجلاس ۔امارت شرعیہ کے مجلس شوری کا اجلاس ہو یا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری کے طور پر پیش کردہ جنرل سکریٹری رپورٹ یا خطاب ۔ حضرت ہر جگہ اپنے خاص رنگ و آہنگ میں نظر آئے اور ان کے بیان وخطاب سے ہر مرتبہ نیا حوصلہ ملا ۔
سابق وزیر اعظم ہند اندرا گاندھی کے زمانے میں ان کے ذریعہ 1975ء میں نافذ کردہ ایمر جنسی اور مسلط کردہ جبریہ نس بندی کے قانون کے خلاف آواز بلند کرنا اپنی تباہی کو دعوت دینا تھا ۔اس وقت کی جمہوریت ڈکٹیٹر شپ کی شکل اختیار کرچکی تھی شعلہ بار مقررین کی زبانیں خاموش ہوچکی تھیں ۔کسی کو اپنی شکایت زبان پر لانے کا یا را نہیں رہا تھا ۔ایسے خوف اور جبر کے ماحول میں نس بندی کے خلاف بھر پور آواز خانقاہ رحمانی مونگیر اور امارت شرعیہ پٹنہ سے اٹھی اور اس قوت سے اٹھی کہ اس نے ملک کے دھارے کو بدل کررکھ دیا ۔جب متبنی بل یکساں سول کو ڈ ،نفقہ مطلقہ اور اس جیسے مسلمانوں کے پرسنل مسائل میں مداخلت کرنے والے قوانین پاس ہونے لگے ۔تودیگر اکابر کے ساتھ اس کے خلاف تحریک چلانے میں حضرت مفکر اسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی کا نمایاں بلکہ قائدانہ رول رہا ۔اور یہ تو کل کی بات ہے کہ جب سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جسٹس اور پریس کونسل آف انڈیا کے موجودہ چیرمین مارکنڈے کاٹجو نے ڈاڑھی کے خلاف ایک فیصلہ دیا،تو دیگر اکابر جب تک اس فیصلہ کے عوامل اور مضمرات پر غور کرتے اوراس کے خلاف بیان دیتے ۔حضرت مولاناولی رحمانی نے اس فیصلہ کے خلاف بگل بجادیا اور ایک پریس کانفرنس بلا کراس کے خلاف انتہائی جرات مندانہ بیان دیا ۔اس سلسلہ میں پوری قوم کو بیدار کیا اور اس کے خلاف پوسٹ کارڈ لفاف ،فیکس اور ایمیل کے ذریعہ ان کے فیصلہ کے نامعقول ہونے پر رد عمل ظاہر کرنے کا مطالبہ پوری امت مسلمہ سے کیا گیا ،الحمد للہ لاکھوں کی تعداد میں رد عمل کے پیغامات جسٹس تک پہنچے ،کاٹجو صاحب نے اپنے کیے گئے فیصلہ کا جائزہ لیا اور اپنی غلطی کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ حضرت کے توجہ دلانے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا اور حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے ۔اٹل بہاری واجپئی کے زمانے میں پارلیمنٹ کے وزارتی گروپ کی رپورٹ آئی، جس میں مدارس اسلامیہ پر دہشت گردی کے حوالہ سے انگشت نمائی کی گئی تھی ۔اس کے خلاف امت کو بیدار کرنے اور آواز بلند کرنے والی سب سے پہلی شخصیت حضرت ہی کی تھی ۔اس سلسلہ میں آپ نے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں آل انڈایا پیمانے پر تحفظ ناموس مدارس کا پروگرام انعقاد کرکے پورے ملک کو بڑا پیغام دیا اور حکم راں ٹولے کو بھی خبردار کیا کہ مدارس کے حوالے سے وہ کسی قسم کے بھرم میں مبتلا نہ رہے ۔ہمیں اگر بلاوجہ پریشان کیا گیا تو ہم بھی چھوڑ نے والے نہیں ہیں۔اس لیے کہ بقول اقبال:
اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ وبالا
اور اگر ہمیں چھیڑا نہیں گیا تو ہم پرسکون طور پر اپنے تعلیم وتدریس ذکر وتذکیر میں مصروف رہیں گے اس لیے کہ:
چند تنکوں کے سوا کیا تھا نشیمن میں مرے
برق ناداں کو سمجھ آئی بہت دیر کے بعد
جب سنٹرل ایجوکیشن منسٹر کپل سبل کے ذریعہ رائٹ ٹو ایجوکیشن کو پارلیمنٹ سے بعجلت تمام پاس کرایا گیا اور ڈائرکٹ ٹکسز کوڈاور وقف بل کے بارے میں ایوان حکومت میں منفی چرچے ہونے لگے اور اس سلسلہ میں تیار شدہ بل کے ڈرافت کو پاس کرانے کی سازشیں ہونے لگیں اسی طرح یوپی کی ملائم سنگھ حکومت نے عورتوں کو زرعی ارضی میں حصہ نہ دینے کا قانون پاس کرڈالا ۔ تو حضرت مفکر اسلام نے اپنے رفقاے کار کے تعاون سے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے بینر تلے ان امور کے خلاف پورے ملک میں زور دار تحریک آئینی حقوق بچاؤتحریک کے نام سے چلائی ۔جس کا ایک بڑا اجلاس گاندھی اسٹیڈیم بیگوسرائے میں حضرت کی صدارت اور بندہ راقم السطور کی نظامت میں منعقد ہوا ۔اس موقعے پر حضرت کا جو تاریخی بیان ہوا وہ یقینا بے مثال جرات گفتارکا حامل اور تاریخی وانقلابی تھا ۔اس اجلاس میں محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے متجاوز افراد شریک ہوئے اور اس سلسلے کا اخری اجلاس ممبئی کے آزاد میدان میں منعقدہوا۔ بالآخر حکومت کو جھکنا پڑا اور بیشتر مطالبات کو تسلیم کرنا پڑا ۔رائٹ ٹو ایجوکیشن کے خلاف تحریک کے مرحلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت نے کپل سبل کے سامنے اس بل کے تاریک پہلووں کوجس بے باکی اور جرات کے ساتھ بیان کیا وہ اپنی مثال آپ ہےـ اس کی وجہ سے مدتوں دونوں حضرات کے مابین تیز وتند گفتگو بھی ہوئی اور اس کی تلخی بعد تک برقرار رہی ۔اسی طرح ملحقہ مدارس کے مسائل ،مسلم تعلیمی اداروں کے مسائل کو آپ نے وزیر اعلی نتیش کمار کے سامنے جس جرات اور بیباکی کے ساتھ رکھا وہ یقنا دل گردے کی بات تھی ۔اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے اور ملحقہ مدارس کے اساتذہ کو بھی نئی شرح تنخواہ مل گئی ۔دیگر امور میں بھی پیش رفت ہوئی ۔الحمد للہ اس موقع پر آپ کا کیا ہوا خطاب مطبوعہ شکل میں موجود ہے ،جس سے آپ کی جرات رندانہ کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔اس عاجز کا تو یہ خیال ہے کہ آپ کے جتنے بھی بیان اخبارات میں شائع ہوئے ان میں سے ہر ایک وقت کی کسی اہم ضرورت کی تکمیل کرتے ہیں اور جرات وبیباکی کی نظیر ہیں ۔اے کاش کہ ان کے تمام اخباری بیان کو یکجا کرلیا جاتا تو امت کے لیے چشم کشا اور حوصلہ بخش سوغات ثابت ہوتا۔
طلاق بل کے سلسلے میں جس جرات اور قوت کے ساتھ میڈیا اور چینلوں سے خطاب کیا اور پورے ملک میں جس طرح اس کے خلاف خواتین کی احتجاجی ریلیاں آپ کے حسب حکم نکالی گئیں ۔وہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔
کچھ جملے ایسے ہیں جو ہمہ شما کے لیے بڑے خطرناک معلوم ہوتے ہیں ؛لیکن ہمارا یہ بیباک قائد ایسے جملے قوت کے ساتھ ادا کیا کرتا تھا نہ صرف نجی مجالس میں بلکہ پریس کلب آف انڈیا کے کھچا کچھ بھرے ہال میں سینکڑوں میڈیا نمائندگان کی موجودگی میں بھی۔
بیگوسرائے گاندھی اسٹیڈیم جو ڈی ایم آفس کے متصل ہے ۔ملی مسائل میں ٹال مٹول کے رویہ سے بر ہم ہوکر ببانگ دہل آپ نے فرمایا کہ حکومت اندھی بہری ہوچکی ہے اس کو جگانے کے لیے دھرنا احتجاج ،مظاہرہ بلکہ بسا اوقات لاٹھی ڈنڈے اور لات گھونسوں کی بھی ضرورت پڑتی ہے اوریہ ہماری جمہوریت کی خوبصورتی ہے ،
عربی کا مشہور محاورة ہے ” العاقل تکفیہ الاشارة والجاھل لاتکفیہ الف الف عبارة “ عقلمندوں کے لیے اشارہ بھی کافی ہوتا ہے،لیکن جاہل کے لیے ہنگامہ محشر بھی کھیل سمجھاجاتا ہے ۔
امارت شرعیہ کی مجلس شوری کے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر صحت مہاویر پرشاد کی کھنچائی کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیر صاحب پیتھالوجی کی اجازت دینے کے لیے ناظم امارت شرعیہ سے اٹھکی بیٹھکی کروارہے ہیں یہ ناقابل برداشت ہے۔ہمیں بھی کنیٹھی دینے آتا ہے۔اور حضرت نے ایسی کنیٹھی دلوائی کہ بہت جلد انھیں وزارت چھوڑنی پڑی ۔
پریس کلب آف انڈیا کی پریس کانفرنس میں گودی میڈیا کے رویہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ؛لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں ۔اس پر کافی واویلا مچا لیکن حضرت کب اسے خاطر میں لانے والے تھے !!!!!!
علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے کشن گنج کیمپس کے لیے ہائی وے اور ریلوے لائن کو جام کرکے جو دھرنا دیا جارہا تھا اس کی پلاننک اور اس کو سرزمین پر اتارنے والی اندرونی محرک حضرت کی ذات تھی ۔اس عاجز سے ان ایام میں ایک مجلس میں بتایا کہ میں نے وہاں کے ذمہ داروں سے کہا ہے کہ کچھ دنوں کے لیے آرام دہ بستر پر سونے کی چاہت جھوڑ دیں انشاءاللہ مسئلہ فورا حل ہوگا ۔ضمانت میں کرواؤں گا،جیلوں کو آباد کرنے کا حوصلہ پیدا کیجیے۔
جب معاملہ ملی وجود اور قومی شعار کا ہوتا تھا تو آپ بڑی سے بڑی حکومتی شخصیت کو خاطر میں نہیں لاتے تھے،سی اے اے اور این آرسی کے خلاف جاری تحریک کی کامیابی کے لیے نہ صرف یہ کہ دعائیں کیں بلکہ اس تحریک کی سرپرستی بھی آپ فرماتے رہے۔اس کو استقلال دینے کے لیے جو نگرانی کمیٹی بنی تھی اس میں سر فہرست حضرت کا نام تھا۔اس کو لے کر پورے ملک میں جو بے چینی پھیلی ہوئی تھی اس کو کم کرنے کے لیے داخلی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے وزیر اعظم ہاوس پر ایک میٹنگ رکھی جس میں حضرت کو بھی دعوت دی گئی لیکن حضرت نے نہ صرف یہ کہ اس میٹنگ میں شرکت سے انکار کردیا بلکہ حکومت کو آئنہ دکھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آپ لوگ اپنی پیٹھ از خود تھپتھپانا بند کیجئے۔ملک اور اس کی سلامتی کی فکر کیجیے ۔یک طرفہ طورپر طرف مسلم رہنماوں سے امن قائم کرنے کی اپیل کرنا اور اس کے لیے انھیں بلانا درحقیقت انھیں مجرم بنانا ہے اور انھیں بد امنی پھیلانے کا قسور وار ٹھہرانا ہے ۔
حضرت مولانا محمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالی نے بہت سے خصائل کا سنگم بنا یا تھا۔آپ نہ صرف اپنے گفتار ،کردار اور تحریر وتقریر کے ذریعہ ہندستان میں امت مسلمہ کے لیے رہنمائی کے فرائض انجام دیتے رہے اور پوری ملت اسلامیہ کے لیے سینہ سپر اور ان پر آنے والی ناگہانی مصبیبتوں کے لیے ڈھال بنے رہے ؛بلکہ خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں کے طور پر دلوں کو عشق الہی اور عشق رسول سے گرمانے اور تزکیہ قلوب کا کارنامہ بھی انجام دیتے رہے ۔اسلام میں جن امور کی خاص طور پر ترغیب دی گئی ہے ؛ان میں تزکیہ واحسان کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔لیکن یہ کام جتنا اہم ہے اتنا نازک بھی ہے ۔اس لیے اللہ تعالی نے یہ کام عام بندوں کے سپرد نہیں بلکہ اخص الخاص کے حوالہ کیا گیا۔ انسانوںمیں سب سے افضل جماعت انبیاءکرام کی ہے، ان کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک تزکیہ واحسان کو بھی قرار دیا گیا ہے ۔تزکیہ نفس کا کام سب سے بہتر اورکامل انداز میں نبی آخر الزماں جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے انجام دیا ان کی تربیت کے زیر اثر یہ کام صحابہ کرام تابعین وتبع تابعین انجام دیتے رہے ۔ان کے بعد ہرزمانے میں وقت کے لحاظ سے اللہ تعالی نے ایسے صلحاءکو برپا کیا جنھوں اصلاح نفس ،تزکیہ باطن اور خدمت خلق کا کام نبوی اسلوب کے مطابق بہتر طور پر انجام دیا ۔حضر ت علی مرتضیؓ۔حضرتؓ ابوذرغفار یؓ،حضرت سلمان فارسی ،ؓحضرت حسن بصری ؒ،حضرت رابعہ بصریہ ؒ،حضرت بایزید بسطامی ؒ،شیح عبد القادر جیلانیؒ ،خواجہ معین الدین چشتی ؒ،حضرت سری
سقطیؒ، فرید الدین عطارؒ،حضرت بہاءالدین نقشبندیؒ،مولانا جلال الدین رومی،ؒ امام ابو حامد غزالیؒ ۔شیح احمد سرہندی ؒ،شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی ،حاجی امداد اللہ مہاجر مکی آسمان طریقت کے آفتاب وماہتاب اور میدان تزکیہ وتصوف کے شہواروں میں مثالی شہرت رکھتے ہیں ۔صلحا اوربزرگوں کے اس زریں سلسلہ میں خانقاہ رحمانیہ مونگیر کے اکابر کا نام جلی حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے ۔قطب عالم مولانامحمد علی مونگیری ؒ،مجاہد قوم وملت حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ کے مثالی کارنامے تاریخ ہند کے روشن ابواب ہیں ۔اکابر کے اوصاف وکمالات کے پرتو جمیل مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ ہیں جو ایک طرف مسند خانقاہ سے دلوںکو عشق الہی اور محبت رسول سے گرمانے اورمردہ دلوں کو تازگی بخشنے کا کام انجام دیتے رہے ہیں تو دوسری طرف مختلف ملی وقومی تنظیموں کے پلیٹ فارم سے باطل کو للکارنے اور ملت کو درپیش چیلنجوں حکومتی ایجنسیوں سے لوہا لینے کا کام بھی بھر پور طور پر انجام دیا۔ اور صحیح معنوں میں عمل وعمل کے جامع اور گفتار وکردار کے مجاہد رہے ہیں۔تاریخ ہمیشہ آپ کو گفتار وکردار کے غازی کے طور پر یاد رکھے گی ۔آپ کی تحریک مونگیر کے خانقاہ اور امارت شرعیہ کے حدود سے نکل کر پورے ہندستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے ایک بڑے خطہ تک پہنچ جکی ہے ۔آپ کے حلقہ ادارت میں شامل افراد کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے آپ کے فیوض کا سلسلہ روز افزوں ہے اور تاقیامت ان شاءاللہ جاری رہے گا ۔اب جب کہ خدمات کا ایک زرین سلسلہ قائم کرکے حضرت وصال فر ما چکے ہیں تو دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کی خدمات کا انھیں بہترین اجر عطا فرمائے ۔ ان کے چھوڑے ہوئے نقوش کو مزید فروزاں اور تابندہ کرے اور ملت اسلامیہ کی دست گیری کے لیے ”مردے از غیب بروں آید” کے مصداق کسی شخصیت کو پیدا فرمائے ۔ آمین یارب العالمیں ۔