جنوبی ہند کے سرسید: ڈاکٹر ممتاز احمد خان-حامد اکمل

ایڈیٹر روزنامہ ایقان ایکسپریس،گلبرگہ
ڈاکٹرممتاز احمد خان مسلمانوں میں فروغ تعلیم کے لیے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے جنوبی ہند کے چنندہ اصحاب میں سے ایک تھے۔آج جب اُن کی بنا کر دہ الامین تحریک گولڈن جوبلی منارہی ہے،ڈاکٹر ممتاز احمد خان ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ایسی شخصیات جن پر قوم و ملت کو ناز ہو،جو ملک کے لیے سرمایۂ  افتخارہوں،اپنی خدمات کو انسانیت کے دائرے تک پہنچا کر اس کا نقطہئ اتصال بن جاتی ہیں۔ہماری آنکھوں سے اُجھل ہوکر ہمارے وجود کی روشنی کا حصہ ہوجاتی ہیں۔ممتاز احمد خان کے والد جناب اسماعیل خان مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے فارغ التحصیل اور سخت اُصول پسند وکیل تھے۔والدہ محترمہ عزیز النساء اعلیٰ تعلیم یافتہ خانہ دار خاتون تھیں اور اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دیتی تھیں۔والدین کی راست بازی،اُصول پسند اور قوم پرستی نے ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی زندگی کو عمل کے سانچے میں ڈھالا۔ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی پوری زندگی جہدِ مسلسل کی تصویر ہے۔انھوں نے اپنے تعلیمی دور ہی میں مسلمانوں کی پسماندگی کو محسوس کیا تھا۔اپنی تعلیم کی تکمیل کے ساتھ ہی وہ خود کو ایک عظیم انتھک علمی جدوجہد کے لیے تیار کرچکے تھے۔بہ قول شخصے ان کا احساس تھا کہ مسلمانوں میں جینے کا شعور،زندگی کا سلیقہ،جوش اور ہوش،عزم و ارادہ اور خلوص اور الوہیت صرف تعلیم ہی کے ذریعے پیدا کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر ممتاز احمد خان کے بہ قول انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک لکچرر کی حیثیت سے کیا۔ 1965میں انھوں نے ترچناپلی سے بنگلور ہجرت کی۔1966میں شادی کی ایک تقریب میں انھیں ڈاکٹر عبدالقادر اور چند دانشوروں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلیمی مسائل پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔بحث کا حاصل یہ تھا کہ مسلمان مایوسی کا شکار ہیں۔ان کی مایوسی دور کرنے کے لیے فروغِ تعلیم پر رزور دیا جائے۔ڈاکٹر ممتاز خان نے بتایا ہے کہ 1961میں پروفیسر محمد سعید نے ترچنا پلی میں جمال کالج کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ شروع کیاتھا۔انھوں نے مشورہ دیا کہ جنوبی ہند میں بھی ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں۔ڈاکٹر ممتاز خان نے مزید احباب سے مشاورت کے بعد تعلیمی ادارے کا خاکہ تیار کیا۔اس کا نام حضور اکرم ﷺ کے لقب ’الامین‘ پر رکھاگیا۔ڈاکٹرممتاز احمد خان کے بہ قول اس کا دستور مدراس کے جسٹس بشیر احمد سعید کی ساؤتھ انڈیا ایجوکیشنل سوسائٹی کے دستور سے مستعار تھا۔جس کے تحت ابتدائی دس سال تک کوئی الیکشن نہیں ہوسکتاتھا۔اس سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عہدہ پسند،شہرت کے بھوکے لوگ اس تحریک سے دور رہے۔محترمہ عباسیہ بیگم مکی اس سوسائٹی کی پہلی چیئرپرسن چنی گئیں جو بے حد تعلیم یافتہ خاتون اور کرناٹک قانون ساز اسمبلی کی رکن تھیں۔1967-68میں بنگلور کے خلاصی پارلیم میں ڈاکٹر ممتاز احمد خان کے برادرِ نسبتی سی ایم علیم خان کے بنگلے کو کرایہ پر لے کرا س میں آرٹس،سائنس اور کامرس کالج کاآغاز 32طلبہ وطالبات کے داخلے سے کیا گیا۔ڈاکٹر ممتازاحمد خان کا کام سرمایہ اکٹھا کرنا تھا۔ پروفیسر محمد سعید کے ساتھ ایک تجربہ کار ماہر تعلیم پروفیسر غلام احمد کی خدمات بھی انھیں حاصل ہوگئیں تھیں،جنھیں کالج کا پرنسپال بنایا گیا۔ ان کے تجربہ سے کالج ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا لیکن کالج کے لکچرار خدمتِ خلق اور مقاصد کے لیے قربانی دینے کے جذبے سے عاری تھے۔ان کی ساری کوششیں کالج کو اچھے انداز میں چلانے میں تعاون کرنے کی بجائے اس بات پر تھی کہ کس طرح کم سے کم کام کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کس طرح کمایا جائے۔انھوں نے طلبہ کو بھی ڈاکٹر ممتاز احمد خان کے خلاف بھڑکایا اور اساتذہ غنڈہ گردی پر اُتر آئے۔بعض غیر مسلم اساتذہ نے تو ممتاز احمد خان کو چھوٹے مقدمات میں بھی پھنسایا۔لیکن یہ کوششیں کامیابی نہیں ہوسکیں۔ڈاکٹر ممتاز احمد خان کے بہ قول رحمت اللہ خان ان کے ساتھ رہے پھر کئی تاجر حضرات حاجی عبدالغفار سیٹھ،محمد حسین سیٹھ،رحیم خلیل صاحب اور ممتاز احمد خان کے تایازاد بھائیوں نے الامین تحریک کی غیر معمولی مدد کی۔تعلیم کے ساتھ ساتھ انھوں نے خدمتِ خلق کا بھی سلسلہ شروع کیا۔خدمتِ خلق سے اُن کی وابستگی اُن کی والدہ محترمہ کی وجہ سے رہی۔جیسے جیسے الامین کی تحریک آگے بڑھی،خدمتِ خلق کا آغاز ہوتا گیا۔الامین کے تحت تعلیم و تدریس،طب وصحت اورصنعت ومعیشت کے ادارے کرناٹک کے ساتھ ساتھ مہاراشٹرا،اُتر پردیش،بنگال میں شروع کیے گئے۔صحت کے مراکز گجرات اور کرناٹک میں قائم کیے گئے۔ مالیاتی ادارے، پوری ریاست میں کوآپریٹیو بینک اسلامی طرز پر قائم کیے گئے۔
ڈاکٹر ممتازاحمد خان کے بہ قول اُس زمانے میں مالی مشکلات بہت زیادہ تھیں۔کالج کے اساتذہ اور اسٹاف کی پہلی تنخواہ دینے کے لیے سوسائٹی کے پاس پیسہ نہیں تھا۔اس زمانے میں بنگلور میں مقیم فلمی اداکار محمود سے ملاقات کرنے کا ان کے قریبی ساتھیوں نے مشورہ دیا۔محمود صاحب نے ان کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے پورے اسٹاف کی ایک مہینے کی تنخواہ ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ میں رکھ دی اور مستقبل میں بھی تعاون کا وعدہ کیا۔ڈاکٹر ممتاز احمد خان نے لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی ذاتی جائیداد فروخت کرکے ساری رقم سوسائٹی کے کھاتے میں رکھ دی۔بنگلور میں کالج کے آغاز کے بعد کولار میں الامین اسکول کے قیام اور اس کی کالج میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے ممتاز احمد خان نے لکھا ہے کہ یہ ادارہ بھی ابتدا میں بڑی مالی مشکلات کا شکار رہا۔1978میں جناب مجید خان کی درخواست پر بیدر میں الامین ہائی اسکول شروع کیاگیا۔اس وقت بیدر میں الامین کے 9تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں،جن میں تین پرائمری اسکول،ایک اُردو ہائی اسکول،ایک پری یونیورسٹی کالج اور ایک ڈگری کالج شامل ہیں۔بیدر اور اس کے اطراف واقع ان اداروں میں تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
گلبرگہ میں الامین تحریک کا آغاز:
اُردوکے اولین مراکز میں گلبرگہ کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔آزادی کے بعد سے یہاں مسلمانوں میں فروغ تعلیم کی تحریک چلتی رہی،جس کی قیادت حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینیؒ (غفراں مآب سجادہ نشین بارگاہ حضرت بندہ نوازؒ)اور ان کے علاوہ مولوی شیخ محمد حسین مرحوم(بانی نیشنل ایجوکیشنل سوسائٹی)کرتے رہے۔1976میں بزرگ ملی رہنما الحاج محمد ناصر علی خان ریٹرائرڈ سیشن جج کی صدارت میں الامین ایجوکیشن سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا۔محمد ناصر علی صاحب ماہرِ قانون اور ملت کا درد رکھنے والی شخصیت تھے۔انھوں نے اپنے ہم خیال احباب کی ایک ٹیم بنائی جس میں ڈاکٹر ناصر بن علی،ڈاکٹرراہی قریشی(صدر شعبہ اُردو گلبرگہ یونیورسٹی)جناب سلیم ہزاری(آرٹی سی ورکرس یونین)،جناب عبدالمجید صاحب(میسور میڈیکل اسٹور) وغیرہم کے ساتھ نوجوان نئی نسل کے ممتاز سماجی کارکن جناب رشید جاوید(ٹریڈ یونین لیڈر کے ایس آر ٹی سی)،محمد ضیاء الدین اور عبدالسلیم صدیقی شامل تھے۔گلبرگہ کی ضلعی سوسائٹی میں بیرونِ شہر کے بھی متعدد اصحاب شامل ہوگئے۔الامین تعلیمی اداروں کی ذاتی عمارات کی تعمیر کے لیے گلبرگہ میں جناب رشید جاوید اور ضیا ء الدین مقامی کمیٹیوں کے ساتھ پیش پیش رہتے تھے۔ضلع گلبرگہ اورضلع یادگیر میں الامین کے جملہ تیس ادارے ہیں جو اپنی ذاتی عمارتوں میں چلائے جارہے ہیں۔بیرونِ گلبرگہ شاہ پور تعلقہ اور شوراپور تعلقہ میں حضرت سید شمس ِ عالم حسینی مرحوم(سجادہ نشین گوگی شریف) اور محمد حسین علاتے کی جدوجہد سے الامین ادارے اپنی ذاتی عمارتوں میں کام کررہے ہیں۔یہ حضرات ابتدا ہی سے جناب محمد ناصر علی سیشن جج کی نگرانی میں سرگرم رہے تھے۔بنگلور کے علاوہ گلبرگہ میں الامین اداروں کی تعداد زیادہ ہے۔اور گلبرگہ کے مسلمانوں نے ان کی ترقی اور استحکام میں غیر معمولی تعاون کیاہے۔بیدر،ٹمکور،بیجاپور سمیت ریاست کے مختلف شہروں میں الامین پرائمری،ہائر پرائمری،ہائی اسکول،جونیر کالج اور ڈگری کالج کے علاوہ بنگلور میں سب سے زیادہ ابتدائی وثانوی تعلیمی اداروں کے ساتھ اعلیٰ پیشہ ورانہ ڈگری کالج اور ٹکنیکل اداروں کا جال بچھایا گیا۔یتیم خانے،دواخانے اور فلاحی ادارے قائم کیے گئے۔بیجاپور میں پہلا مسلم میڈیکل کالج قائم کیاگیا۔میڈیا کے شعبہ میں سالار پبلی کیشن کا قیام اور استحکام اپنی علاحدہ اہمیت رکھتا ہے۔ ہاسپٹلس اور کوآپریٹیو بینک قائم کیے گئے۔ہندوستان میں کرناٹک کے علاوہ کیرالا، مہاراشٹرا، اُترپردیش،آسام،گجرات،پنجاب،اُڑیسہ،کشمیر اور منی پور میں بھی الامین کے تحت ابتدائی اور اعلیٰ تعلیمی مدارس قائم کیے گئے۔بیرونِ ملک امریکہ(USA)برطانیہ(UK)اور کنیڈا میں بھی الامین کے تعاون سے تعلیمی ادارے قائم ہیں۔آزادی کے بعد کرناٹک میں فروغ تعلیم کے لیے زندگی وقف کرنے اور آخری سانس تک اس کی ترقی کے لیے جدوجہد کرنے والوں میں ڈاکٹرممتاز احمد خان کا نام سرفہرست ہے۔انھیں اگر جنوبی ہند کا سرسید کہا جائے تو بے جا نہیں۔
مسلمانانِ ہند نے ہمیشہ ڈاکٹر ممتازاحمد خان اور الامین تحریک کی پذیرائی کی۔ممتازاحمد خان کو ریاستی و قومی اعزازات کے ساتھ بین الاقوامی اعزازات بھی حاصل ہوئے۔ان کی خدمات اور حصول یابیوں کا پلڑا ہم وزن ہے۔ان کے نام سے الامین کے کئی ادارے چلائے جارہے ہیں۔اس میں ان کے ساتھیوں کی بے لوث خدمات اور ہمدردانِ ملت کا تعاون قابل ستائش ہے۔خاص طور پر ڈاکٹر سبحان شریف موجودہ سکریٹری الامین ایجوکیشن سوسائٹی بنگلور کے سرگرم رول سے ڈاکٹر ممتاز احمد خان بے حد متاثر تھے۔اپنے حین حیات انھوں نے سوسائٹی کے جنرل باڈی اجلاس میں کہا تھا کہ وہ عرصہ دراز سے اپنے جانشین کی تلاش میں تھے۔بحمدللہ سبحان شریف کی شکل میں اپنا جانشین مل گیاہے۔ڈاکٹر ممتاز احمدخان کے انتقال کے بعد سبحان شریف صاحب انہی کے انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں اورالامین تحریک کی ساری ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر آگئی ہیں۔