جون کے آخر تک 15-20 ہزار کیسزہوجائیں گے:سرکاری پینل کے ممبر کادعویٰ

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے دعویٰ کیاہے کہ جون کے آخر میں کوروناکابڑھتا معاملہ کم ہوگاجویومیہ 15-20 ہزار آسکتا ہے لیکن اس کے لیے کوویڈ ویکسینیشن ہونا پڑے گا۔ پہلے کی طرح کوتاہی نہیں کرنی ہوگی۔حکومتی پینل کے ممبر نے کہاہے کہ کورونا کی تیسری لہر 6 سے 8 ماہ میں آسکتی ہے۔ حکومتی پینل کے ایک ممبر ڈاکٹر ایم ودیاساگرنے کہاہے کہ اگر کافی تعداد میں کورونا ویکسینیشن ہوتو کورونا کیسز بہت تیزی سے نیچے آئیں گے۔آئی آئی ٹی حیدرآبادکے ڈاکٹر ایم ودیاساگر سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کے تین رکنی گروپ کے ایک رکن ہیں۔ انھوں نے ریاضیاتی ماڈل کی بنیاد پر کورونا کیسز کا نقشہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ ملک میں کورونا کے خلاف ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ودیاساگر نے بتایاہے کہ بڑے پیمانے پر دوسری لہر لاپرواہی کی وجہ سے ہوئی تھی کیونکہ لوگوں نے کورونا کے اصولوں پر عمل نہیں کیا تھا۔ڈاکٹر ودیاساگر نے کہاہے کہ حالیہ سائنسی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ کورونا لہرمیں پہلی لہرکے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ مریض آ رہے ہیں۔ ان کی مزاحمت 6-8 مہینوں میں ختم ہوجائے گی۔ لہٰذا مزاحمتی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے ویکسینیشن پر زور دینا ضروری ہے۔پروفیسرنے کہاہے کہ اگر ویکسینیشن مہم تیز رفتار سے چلائی جائے توکوروناگراف میں تیزی سے نیچے کی طرف رجحان ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ کورونا کی دوسری لہر میں تیز اچھال کی طرح نہیں ہوگا۔