جب جنید جمشید پر توہینِ رسالت کا الزام لگایا گیا-ظفر سید

(آج سے چار برس قبل صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے حویلیاں کے قریب پی آئی اے کی ایک مسافر پرواز گر کر تباہ ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں اس پر سوار تمام 47 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ماضی کے معروف گلوکار اور بعد کے اسلامی مبلغ و نعت خواں جنید جمشید بھی شامل تھے۔ ان کی زندگی کے سفر کا احاطہ کرتا یہ مضمون سات دسمبر 2016 کو شائع ہوا تھا جسے آج اس دن کی مناسبت سے بی بی سی اردو کے شکریے کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔)

 

نرم آواز اور ملائم لہجے والے جنید جمشید کی تمام زندگی ایک پڑاؤ سے دوسرے پڑاؤ کی جانب سفر سے عبارت رہی۔ وہ سفر جو کنسرٹ ہال سے شروع ہو کر مختلف موڑ مڑتا، کہیں یو ٹرن لیتا، کہیں رکتا، پلٹتا، بالآخر سات دسمبر کو حویلیاں کے قریب ایک پہاڑی پر ہمیشہ کے لیے انجام پذیر ہو گیا۔ جنید جمشید خود کہتے ہیں کہ میں فائٹر پائلٹ بننا چاہتا تھا، نہیں بن سکا، ڈاکٹر بننا چاہتا تھا، نہیں بن سکا۔ انجینیئر بننا چاہتا تھا، نہیں بن سکا۔ گلوکار نہیں بننا چاہتا تھا لیکن بن گیا۔

جنید گلوکار بنے اور ایسے گلوکار بنے کہ سنہ 2003 میں بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق ان کا ملی نغمہ ‘دل دل پاکستان’ دنیا کا تیسرا مقبول ترین گیت قرار پایا۔ لیکن جنید گلوکاری کے پڑاؤ پر بھی نہیں رکے۔ اس میدان میں شہرت، عزت اور دولت کمانے کے بعد انھوں نے ایک بار پھر اپنی سمت بدل دی اور شوبز کی چکاچوند چھوڑ کر مذہب کی دنیا کی طرف نکل گئے۔ ان کی سیمابی فطرت نے انھیں وہاں بھی ٹکنے نہیں دیا اور وہ واپس آ گئے۔ انھوں نے ایک فلم میں کام کرنے لیے داڑھی بھی ترشوا دی۔ البتہ ان کی واپسی مختصر مدت ثابت ہوئی اور ایک بار پھر دین کی جانب لوٹ گئے۔ اسی دوران انھوں نے جے ڈاٹ کے نام سے ملبوسات کا کاروبار بھی شروع کر دیا جو آج پاکستان کے نمایاں ترین فیشن برینڈز میں سے ایک ہے۔

سنہ 1987 میں پاکستانی ٹیلی ویژن پر ایک گانا سنائی دیا۔ چار لڑکے ایک کھلی جیپ میں بیٹھ کر ایک سبزہ زار میں آتے ہیں اور گانا شروع کر دیتے ہیں۔ انھی کے درمیان سبز شرٹ اور سفید پتلون میں ملبوس ایک دبلا پتلا نوجوان بھی ہے، جس کی آواز دھیمی اور ملائم ہے، لیکن اس کے باوجود آواز، شاعری، موسیقی، اور ان سب سے بڑھ کر کچھ ایسا جوش و جذبہ ہے کہ ساری چیزیں مل کر ایسی کیمسٹری پیدا کرتی ہیں کہ یہ گانا ملک کے ہر دل میں دھڑکنے لگتا ہے۔ آج دل دل پاکستان کو ملک کا دوسرا قومی ترانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی مقبولیت کا منھ بولتا ثبوت یہ ہے کہ بالی وڈ نے ’دل دل ہندوستان‘ کے روپ میں مکھی پر مکھی مارنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔

جنید جمشید گلوکاری کی طرف منصوبہ بندی سے نہیں آئے تھے۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھوں نے گلوکاری اپنے بھائی ہمایوں کی وجہ سے شروع کی۔ ‘میں گٹار بجاتا تھا وہ گاتا تھا۔ جب وہ نہیں ہوتا تھا تو میں اس کے گانوں کی ریکارڈنگ مسلسل سنا کرتا تھا، اور ساتھ ساتھ گاتا رہتا تھا۔ اس طرح میں بھی گانے لگا، حالانکہ اس کی آواز مجھ سے کہیں اچھی ہے۔’ اسی زمانے میں اسی اتفاقیہ گلوکار پر موسیقار روحیل حیات کی نظر پڑ گئی، جنھوں نے جنید کو اپنے ساتھ گانے کی دعوت دی۔ بقول ان کے مجھے ’شروع ہی میں بےحد تخلیقی گروہ مل گیا جس میں سلمان احمد، روحیل حیات، شہزاد، نصرت حسین، رضوان الحق شامل تھے۔ میں ان سب کو اپنا گرو مانتا ہوں۔‘ اس گروہ کی صحبت میں جنید جمشید کی وہ تربیت ہوئی جس نے نامور موسیقار سہیل رعنا کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا: ‘میں نے اپنی پروفیشنل زندگی میں تم جیسا ‘فینامنا’ نہیں دیکھا۔’ ان نوجوانوں کا قائم کردہ میوزک بینڈ کو بڑی آسانی سے پاکستان کا مقبول ترین میوزک بینڈ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن جنید کی فطرت میں قرار نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ تمام تر عزت کے باوجود مجھے اندر سے کسی ‘کمی’ کا احساس ستاتا رہتا تھا۔ ان کی یہ ’کمی‘ تبلیغی جماعت کے مولانا طارق جمیل کے ہاتھوں پوری ہوئی، اور جنید سب کچھ چھوڑ کر مذہب کی جانب مائل ہو گئے۔

اب جو جنید سامنے آئے تو سب انھیں دیکھ کر چونک گئے۔ چہرے پر کلین شیو کی بجائے سیاہ ڈاڑھی تھی، تن پر جینز اور شرٹ کی بجائے کرتا، اور ہاتھوں میں گٹار کی بجائے تسبیح اور منہ پر رومانوی گیتوں کی بجائے حمد و نعت۔ ان کے گرو شعیب منصور نے انھیں واپس لانے کی بڑی کوشش کی اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے لیکن جنید کا دل اب گلیمر کی دنیا سے اوب چکا تھا۔ اس بات نے شعیب کو اس قدر سیخ پا کیا کہ انھوں نے اسی موضوع کو اپنی پہلی فلم ’خدا کے لیے‘ میں بھی چھیڑا۔

جنید کی تمام توجہ تبلیغ کی طرف مبذول ہو چکی تھی۔ وہ تقریباً کُل وقتی مبلغ بن گئے اور عام دنیا کے علاوہ ٹیلی ویژن پروگراموں میں بھی دین کی دعوت دینے لگے۔ لیکن چونکہ ان کی بنیادی دینی تربیت نہیں تھی، اس لیے بعض اوقات ان سے چوک بھی ہو جاتی تھی۔

سنہ 2014 میں حالات اس نہج پر پہنچے کہ ایک پروگرام میں وعظ کرتے کرتے انھوں نے کچھ ایسے کلمات ادا کر دیے کہ ان کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔ جنید نے معافی تو مانگی لیکن ملک میں مذہبی جذبات ان کے خلاف بھڑک چکے تھے، اس لیے انھیں کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر جانا پڑا۔ جب وہ واپس آئے تب بھی لوگوں کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ سنہ 2015 میں ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی جس میں چند لوگوں کو اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ان پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ ملک کے لبرل حلقوں کو جنید جمشید کے عورتوں کے بارے میں تصورات پر اعتراض تھا، بلکہ بعض لوگ انھیں عورت مخالف بھی کہتے تھے۔ ایک نجی ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میری تمام پاکستانی مردوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو ڈرائیونگ نہ سکھائیں، میں نے بھی اپنی بیوی کو گاڑی چلانا نہیں سکھائی۔‘

آج جب میں ٹیلی ویژن سکرینوں پر ایک پہاڑی کے دامن میں لوگوں کے اژدہام کو بھڑکتے ہوئے شعلوں کے گرد حلقہ زن دیکھ رہا ہوں تو ذہن میں یہ احساس موجود ہے کہ انھی شعلوں کے اندر کہیں ایک بےقرار جسم بھی تھا۔