ججوں کو کجریوال کی رشوت؟ـ ایم ودود ساجد

 

25 اپریل کو دہلی سرکار نے فائیو اسٹار ہوٹل اشوکا میں 100 کمرے دہلی کے ججوں’ جوڈیشیل افسروں اور ان کے اہلِ خانہ کے علاج کیلئے مخصوص کئے تو مجھے سخت حیرت ہوئی تھی۔اس کووڈ سینٹر میں میڈیکل انتظامات کی ذمہ داری Primus ہسپتال کو دی گئی تھی۔
جنوبی دہلی کی خاتون ایس ڈی ایم نے اس سلسلے میں جو آرڈر پاس کیا تھا اس میں یہ وضاحت پڑھ کر مجھے اور حیرت ہوئی تھی کہ دہلی حکومت نے یہ نظم دہلی ہائیکورٹ کی درخواست پر کیا ہے۔
آج کے انگریزی اخبارات میں اور خاص طور پر انڈین ایکسپریس میں اس سلسلے کی جو تفصیلی خبر آئی اس میں اشاروں اشاروں میں دہلی ہائیکورٹ اور ججوں کا مضحکہ بھی اڑایا گیا تھا ۔
آج جب دہلی ہائیکورٹ میں جسٹس وپن سنگھی کی دورکنی بنچ میں کورونا کے احوال پر معمول کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس ریکھا پلّی نے دہلی حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ آپ نے ہمارے لئے فائیو اسٹار ہوٹل میں خصوصی کووڈ سینٹر کیوں قائم کیا؟ کس نے آپ سے کہا تھا؟
یہ سن کر دہلی سرکار کے وکیل بغلیں جھانکنے لگے۔جسٹس وپن سنگھی نے اس کے بعد کافی دیر تک دہلی حکومت کی سرزنش اور گوشمالی کی اور اشوکا ہوٹل میں ججوں اور ان کے اہل خانہ کیلئے خصوصی کووڈ سینٹر بنانے پر سخت ناگواری کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اولاً تو ہم نے آپ سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔۔ دوسرے یہ کہ ایسا کرنا انتہائی قسم کا امتیازی سلوک اور عام شہریوں کے ساتھ سخت ناانصافی کے مترادف ہوگا۔
جسٹس وپن سنگھی کا لہجہ اور ترش ہوتا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس احمقانہ فیصلہ سے عام لوگ یا تو یہ سمجھیں گے کہ دہلی ہائیکورٹ محض اپنے لئے یہ سہولت حاصل کرنے کیلئے اتنی سرگرم ہوئی تھی یا یہ سمجھیں گے کہ دہلی حکومت نے یہ سب ججوں کی خوشامد اور انہیں رام کرنے کیلئے کیا ہے۔جبکہ ہم ایسی کوئی سہولت اور پیش کش قبول نہیں کرسکتےـ ایک طرف جہاں عام لوگ آکسیجن اور ہسپتال میں بستر کیلئے در در بھٹک رہے ہیں اور لوگوں کی جانیں جارہی ہیں ہم کیسے یہ گوارا کرسکتے ہیں کہ ہمارے لئے ایسا خصوصی فائیو اسٹار انتظام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس آکسیجن نہیں ہے اور آپ ہمارے لئے 100 کمروں کا سینٹر بنانے کی بات کرتے ہیں ۔؟۔ یہ بہت ہی بدبختی کی بات ہے۔
جسٹس ریکھا پلی نے دہلی حکومت سے اس پر نہ صرف تحریری وضاحت طلب کی ہے بلکہ اس فیصلہ کو فوری طور پر واپس لینے کی بھی ہدایت دی۔۔ جسٹس وپن سنگھی نے کہا کہ اگر دہلی حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہیں لیا تو ہم اسے کالعدم کردیں گے۔