جوہوسکے تومراانتقام لے لینا-یاوررحمن

زبانِ حال سے اک لاش کہہ رہی تھی ندیم
جو ہو سکے تو مرا انتقام لے لینا

لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ لاش ایودھیا کے ایک سادھو کی ہے۔ مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ایسی لاشیں تو ملتی ہی رہتی ہیں۔ کوئی انسان کسی بڑے انسان کو براہ راست مار دے تو کہرام مچا یاجاتا ہے ورنہ یہ الزام ہمیشہ غریبی اور بھوک پر ڈال دیا جاتا ہے۔ پھر یاد کے دامن کو دو چار بار جھٹک کر حادثے کی گندی مٹی جھاڑ لی جاتی ہے۔

لوگ کہ رہے ہیں کہ ہڈیوں کے اس ڈھانچے کے اندر جو زندگی رینگ رہی تھی، اسے بھی بھوک ہی چرا کر لے گئی ہے! دیکھنے سے بھی ایسا ہی معلوم پڑتا ہے۔ مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ بھوک نے تو آ کر اچانک یہ چوری نہیں کی ہوگی۔ وہ تو بلا کی سست رفتار اور کاہل ہے۔ اس کے بس کی بات ہی نہیں! اس چوری میں بھوک کے پیچھے ضرور کسی شاطر اور بے رحم گینگ کا ہاتھ ہے۔

مجھے بھوک سے بلکل خوف نہیں آتا۔ کیونکہ اس میں نہ تو بندوق کی گولیوں جیسی تیزی ہوتی ہے جو جسم میں گھس کر روح کی تجوری پر اچانک ہاتھ صاف کر دیتی ہیں، نہ بے رحم شمشیروں جیسی کاٹ ہے جو سر کو تن سے جدا کر دینے میں ذرا نہیں ہچکچاتی۔ اور نا ہی تیز دھار چھریوں والی جلد بازی ہے جو حلق پر چڑھتے ہی شہ رگ سے الجھ پڑتی ہیں۔

اس ملک میں بھوک تو وجود سے عدم کی طرف روزانہ چلنے والی ایک لوکل ٹرین ہے جو لاکھوں مسافروں کو اپنی تنگ و تاریک اور متعفن بوگیوں میں بٹھاۓ انھیں انکی ‘منزل مجبور’ تک پہنچاتی رہتی ہے۔

یہ بھوک دنیا میں سب سے زیادہ مشہور و معروف ہے۔ انسانی زندگی میں اس کا رول ایک ولن کی طرح ہے۔ ایک ایسا ولن جو پوری نو ع انسانی کا متفقہ دشمن ہے۔ ہر انسان اس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ ہر کوئی اسی کے خلاف برسر پیکار ہے۔ مزدور سے لیکر صاحب تک اسی سے لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ بھوک کے خلاف یہ لڑائی ایک روٹی کے لئے ہو چاہے ایک روٹی پہ لگنے والے مکھن کے لئے ہو، وہ بھوک ہی کے خلاف جنگ کہلاتی ہے۔ حالانکہ کسی کے پیٹ میں بھوک واقعی رقص کنا ں ہے تو کسی کی آنکھ میں بھوک نے اپنے پنجے گاڑ دئے ہیں۔ کوئی زندہ رہنے کے لئے روٹی روٹی چلا رہا ہے تو کوئی مستقبل کی روٹی کے لئے مکھن کی ذخیرہ اندوزی کر رہا ہے۔

جو بات سب سے زیادہ سوچنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اس بھوک کے خلاف ہر ایک کی جنگ اس کے گھر کی اپنی چار دیواری تک محدود ہے۔ اس کی جنگ میں اس کے بیوی بچوں کے علاوہ کسی تیسرے انسان کا پیٹ شامل نہیں ہے۔ اسی لئے گھر کے پڑوس میں بھوک کی سنسناتی ہنکار کو وہ سننا بھی پسند نہیں کرتا۔ اپنی روٹی چباتے ہوئے کوشش کرتا ہے کہ پڑوس کا بھوکا اس کی آواز نہ سن لے۔

لیکن چونکہ انسان خود کو ایک ‘سماجی جانور’ کہتا ہے اس لئے اسے سماج خدمات کا شوق بھی ہے۔ لہذا اگر وہ بھوکا ہے تو اکثر اپنی ‘بھوک’ کو دور کرنے کے لئے دوسرے انسانوں کی بھوک کو وہ ہتھیار بنا تا ہے۔ ایسے انسان کو بھوکا جہادی کہا جا سکتا ہے۔ انسانی معاشرے کا ہر ایسا ‘بھوکا جہادی’ اسی بھوک کے خلاف جہاد کے اعلان سے اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ پھر جیسے جیسے وہ شکم سیر ہوتا جاتا ہے، اس کا ‘جہاد’ بدلتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پیٹ کی ایک روٹی کی بھوک ذخیرہ اندوزی کی کبھی ختم نہ ہونے والی شدید ترین بھوک میں ضم ہوکر شکم سیر ہو جاتی ہے۔

تو بات یہ ہے کہ اس سادھو کو جس بھوک نے مارا ہے وہ ایسے ہی کسی شکم سیر گروہ کی طرف سے آئ تھی۔ لیکن اس کا گناہگار کوئی ایک قاتل تو ہے نہیں۔ اس کی موت کا پہلا ذمہ دار وہ ہے جس نے عوام کی ذمہ داری جھولی پھیلا پھیلا کر خود مانگی تھی۔ یہ اکیلا ایک شخص نہیں بلکہ پورا ایک سیاسی جتھا ہے۔ دوسرا ہر وہ جو شخص جس نے اپنی غریبی کو مار مار کر دولت کا انبار جمع کر لیا ہے۔ اور اپنے دائرے سے باہر کی بھوک سے اسے کوئی بروبلم نہیں۔ اور تیسرا وہ گروہ جو اسلام کے تصور خدمت خلق کو مذہبی جلسوں کے شامیانی کھونٹوں سے ایک مستعد چرواہے کی طرح باندھ کے رکھتا تھا۔ ذرا دیکھئے تو سہی ، اس تیسرے گروہ میں کہیں ہم سب شامل تو نہیں ہیں ؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)