جوبائیڈن کے ہاتھ بندھے ہیں، وہ فلسطین کے لیے کچھ نہیں کرسکتے

واشنگٹن :اردن کے سابق وزیر خارجہ مروان المعشر نے کہا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ وہ فلسطین- اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے کچھ نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی ان سے قضیہ فلسطین کے حوالے سے مثبت پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اردن کے ‘رویا’ ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ اگرچہ جوبائیڈن نے دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے مگر ان کے پاس اپنے اس خیال کو نافذ کرنے کے لیے وقت نہیں بچے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ فلسطینیوں کےلیےکچھ کریں، تاہم مروان المعشرکا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ جوبائیڈن موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ سنچری ڈیل منصوبے کو منسوخ کریں گے اورسنہ2017 سے فلسطینیوں سے منقطع روابط بحال کریں گے۔المعشر کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن موجودہ صدر ٹرمپ کے بہت سے منفی فیصلوں اور اقدامات کو منسوخ کریں گے ،مگر وہ تنازع فلسطین کے حل کے لیےکوئی نئی پیش قدمی نہیں کرسکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ناممکن ہے کہ جوبائیڈن القدس سے امریکی سفارت خانہ کی واپس تل ابیب منتقلی نہیں کرسکیں گے ،کیونکہ اس فیصلے میں انہیں کانگریس کی حمایت درکار ہوگی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*