جے این یو کی ہولی ـ ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی 

رام لکھن سنگھ یادو کالج، بتیا 

جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی کئی لحاظ سے اپنی شہرت رکھتا ہے ۔ میری نظر میں اس کی تین ایسی خوبیاں ہیں جو اسے دوسرے تعلیمی اداروں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ (1) آفاقیت (2) ہندوستانیت اور (3) سادگی۔اس کے کئی نرالے روپ ہیں ،کبھی تو وہ گاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو کبھی رقص کرتی ہوئی ، کبھی خوشبو بکھیرتی ہوئی نظر آتی ہے تو کبھی روشنیوں میں نہائی ہوئی، اور کبھی رنگوں کے ست رنگی برش سے پیار اور الفت و محبت کی خوب صورت لکیروں کو ابھارتی ہوئی ۔ ہم جے این کمیونٹی کے لوگ یا ہم جواہری لوگ ان رنگوں کو ہوسٹل نائٹ ، کلچرل نائٹ ، عید ملن ، گرانٹ افطار پارٹی اور ہولی و دیوالی جیسے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔

جے این یو کا ایک بہت خاص اور گہرا رنگ ‘ہولی ‘ ہے ۔ یہ تہوار ایسی وارفتگی اور جوش بنا ہوش کے منایا جاتا ہے کہ مردے بھی زندہ ہو اٹھیں ۔ اب میں سمجھ سکا کہ آخر نہرو جی کو جھاڑی میں کھڑا کر رکھنے کا راز کیا ہے ؟ ممکن ہے کہ اگر وہ 24×7 یا پیریار ہوسٹل یا پھر جھیلم لان ہی پہ براجمان ہوتے تو وہ بھی گدھائی بارات میں شامل ہوجاتے یا چاٹ سمیلن میں سملت ہوجاتے یا پھر جھیلم لان کی بزمِ رنگیں ہی میں کود پڑتے ۔ لیکن کچھ دیوانے اور دیوانیاں جو نہرو جی کی گود ہی میں کھیلنے لگتے ہوں گے تو بھلا بتائیے ان کے دل پر کیا بیتتی ہوگی ؟

خیر !جے این یو کی ہر چیز ریسرچ اساس (Research Based)ہوتی ہے اور اپنے اندر بڑی گہرائی رکھتی ہے ۔ اس لیے یہاں کی ہولی کے بھی تین ابواب (Three Chapters)ہیں۔1ـگدھائی بارات ۔2ـچارٹ سمیلن۔3ـ ہڑدنگِ عام۔

پہلے چیپٹر کا آغاز تاپتی ہوسٹل سے ہوتا ہے ۔ یہاں سےا یک دولہے کو سجایا سنورا جاتا ، بالکل آزادانہ ماحول میں ، آزاد لوگوں کے ذریعے ، ہر کسی کو حق ہوتا ہے کہ وہ دولہے کے سہرے کی سجاوٹ میں اپنے تجربے کو آزمائے ۔ اب نوشے میاں کون سے روپ میں نمودار ہوسکتے ہیں اوران کی کیا صورت بن سکتی ہے ، ہوش والے اس کا اندازہ بآسانی لگا سکتے ہیں ۔دولہے کو گدھے پر سوار کیا جاتا ہے اور اس کے ارد گرد پاپیادہ باراتیوں کی فوج ہوتی ہے، بارات کیا کسی افریقی قبیلے (African tribe )کا کوئی کلچرل تہوار کہہ لیجیے۔آج گدھا بھی شاید یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوگا کہ میں ہی آدمی ہوگیا ہوں یا پھر وہ ہماری برادری میں شامل ہوگئے؟ اس قافلے میں ڈھول تاشا ، باجا گاجا سب کچھ ہوتا لیکن ولایتی نہیں ، بالکل دیسی ٹائپ۔یہ قافلہ گاتے بجاتے اور شور غل مچاتے ہوئے گنگا ڈھابا کی مشرقی جانب جھیلم لان میں پہنچتا،بارات کی روانگی اور آمد کا بھی ایک متعین وقت ہوتا ، عموماً یہ عمل شام کو چھٹپٹے وقت میں انجام پاتا۔عجیب بات ہے کہ اس قدر سجے سنورے دولہے کی کوئی دلہن نہیں ہوتی۔ کئی برسوں تک میں نے ایک ہی دولہا دیکھا جسے جے این یو کے احاطہ میں معروف بھائی سے جانا جاتا تھا۔بڑے خوش مزاج ، شناسا بے شناسا ہر کسی سے مسکراکر ملتےاور سر پر ہمیشہ انگریزی ٹوپی لگائے رہتے ، موسم گرم ہو یا سرد یا برسات۔ پتہ نہیں اب دیش کے ساتھ دولہا بدلا کہ نہیں !۔۔۔

اس کا دوسرا چیپٹر جھیلم لان سے شروع ہوتا ہے بلکہ تیسرا بھی یہیں سے ۔ دوسرا چیپٹر شام سے گئے رات تک اور تیسرا اگلے دن ناشتہ کے بعد سے دو تین بجے تک۔اب شام 2013 کو 2014بنانے میں مصروف ہو چلی ہے اور بڑی تیزی سے اس پر جوبن چڑھ رہا ہے ، اب رات دن کی سفیدی نگل چکی ہے اور کیمپس اور کیمپس سے باہر کے جواہری جوق در جوق جھیلم لان میں یکجا ہوتے جارہے ہیں ، اسٹیج لگا ہے ، پورے سج دھج کے ساتھ ۔ ارے یہ کیا ؟یہاں تو پہلے ہی سے ایک اور دولہا پورے جاہ و جلال اور شان و شوکت کے ساتھ براجمان ہے ۔دھت تیری کی ۔۔یہ تو چائے والا ہے ،،، اوہ اوہ سوری یہ ۔۔۔تو سالہ ماموں ہے۔۔۔ یہ عجیب و غریب ماموں ہے ۔ کیمپس بھر کا ماموں ، پی ایچ ڈی والا ماموں ، مست ملنگ ماموں ، باپ کا بھی ماموں اور بیٹے و پوتے کا بھی ماموں اور تو اور اس کا ڈھابابھی ماموں یعنی ماموں ڈھابا۔۔۔۔آج کے اس معدوم الاصول) (Rules less پروگرام میں کوئی بھی حرکت و عمل سیدھے طور پر انجام نہیں دیا جائے گا ۔ ایسی ایسی حرکتیں اور ایسے ایسے سوانگ دیکھنے کو ملیں گے کہ آپ یا تو خود کو رانچی میں موجود پائیں گے یا پھر ایسا محسوس ہوگا گویا منٹو کی کہانی ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑھ رہے ہیں ۔ یہاں تھوڑے سے وقت کے لیے ہر بے وقوفی کو ہنر اور ہر حماقت کو دانشمندی کا نام دے دیا جاتا ہے اور پھر یار لوگ جو فن کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ بس دیکھیے ، سنیے اور سر دھنیے! آج کی اس بھری بزم میں جو سب سے بڑا بُڑبک ہوگا وہی میڈل پائے گا ۔ چوں کہ ہمارا کیمپس ماشاء اللہ سو فیصد سماجی ہے اور حاشیائی لوگوں کو آگے بڑھانے کی باتیں ہوتی رہتی ہیں اس لیے آج گری پڑی چیزوں کو بھی بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور ان کی عزت افزائی کی جاتی ہے ۔ آج ٹوٹے پھوٹے جوتے ، چپل ، ڈبے ، شی شی ، بوتل اور پھٹی جینسوں اور شرٹوں کی بھی قسمت جاگ اٹھتی ہے ، یہ سارے کردار آج یار لوگوں کے سر کا تاج اور گلے کا ہار بنے ہوئے ہوتے ہیں ۔ یہ کردار خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور زبان ِ حال سے گویا کہہ رہے ہوں : آواز دو ۔۔۔۔۔۔ہم ایک ہیں ۔۔

تیسرا باب ، خلاصہ تحقیق اور ماحصل دن کا ہڑدنگ ِ عام ہے ۔ آج بہت سے بے نام عشاق ِ بے معشوق کی تمنا بر آنے والی ہے ، مدت سے فراق کی آگ میں جھلسنے والوں کو آج وصال کی ٹھنڈک کی آس ہے۔ ہر ہوسٹل کے میس (Mess) میں آج دودھ کی جگہ باضابطہ بھانگ کا معقول نظم ہے ، من چلوں کا آج ناشتے پر دھیان کم اور امرت پر زیادہ ہے۔بڑی فراوانی سے آج وہ چھوٹے بڑے جام بھرنے میں منہمک ہیں ، جو عادی ہیں وہ تو پُرجوش ہیں ہی لیکن جو نو سیکھیے ہیں وہ بے چارے ذرا ڈرے سہمے سے ہیں اور ان کے اندر کا جھجھک بھی نظر آرہا ہے ۔آج فری میں بہت سے لوگ وی سی ، ایم ایل اے ،ایم پی، منتری اور سنتری بلکہ یو این کےصدر بھی بنیں گے۔ اب شیشہ و جام لنڈھائے جا رہے ہیں ، کچھ قابو میں ہیں اور کچھ بے قابو ہورہے ہیں لیکن دوستوں کا ساتھ کوئی نہیں چھوڑ رہا ہے ، گھسٹتے ، لڑکھڑاتے ، غلطاں و پیچاں ہر کوئی دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے منزل کی طرف جانے کو ہمت و حوصلہ دے رہا ہےاور اس طرح سے آگے بڑھ رہا جیسے آزادی وطن کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کرکے اپنی منزل کو چھونا چاہتا ہو ۔ اس میدان کارزار میں ان کی حالت بڑی قابل ترس اور دیدنی ہوتی جو نئے) Freshers)ہوتے ۔ آج بالکل محشر بپا ہے،لیفٹ رائٹ آج سب برابر ہیں ،کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے ،آج نہ کسی کے پاس موبائل ہے اور نہ پرس اکثر کے پاس شرٹ بھی نہیں ، کچھ کے پاس پینٹ اور کچھ کے پاس ہاف پینٹ اور بہت سے تو ایسے بھی کہ رنگوں کا ہی لباس زیب تن کیے ہوئےہیں ۔ آج رنگ نے دو اہم کارناے انجام دیے ہیں پہلے تو آدم کی اولاد کو بے لباس کیا لیکن کچھ ہی پل میں گہرے ہرے اور نیلے رنگوں نے ان کی لاج رکھ لی اور ان کی بہتی ہوئی عزت پر باندھ ڈال دی پھر بھی کئی جگہوں سے ان کی عزت رستی ہوئی نظر آرہی ہے۔

ہولی کھیل کے اب سب کا من بھر چکا ہے کوئی خود اپنے ٹھکانے پر لوٹ رہا ہے اور کسی کو لوٹایا جارہا ہے۔اب کوئی ایک دن آرام کرےگا ، کوئی دو دنوں تک بے سود رہے گا اور کوئی تو تین تین چار چار روز تک بے ہوش رہے گا اور بعضوں کے تو ہفتہ بھر دماغ میں چکی گھومتی رہے گی ۔ کئی ایک تو نکڑ پہ اچار مانگتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

راقم کا رول اس پورے منظر نامے میں ایک کم ہمت تماشائی کا ہوتا… اس روز وہ اپنے کمرے میں خود کو قید کرلیتا اور باہر نہ نکلنے کا روزہ رکھ لیتاـ ویسے ہمارے جے این یو کے دوست بڑے شریف ہوتے ہیں. رنگ کا تحفہ بھی پوچھ کر پیش کرتے ہیں لیکن پوچھنے کا انداز اتنا قاتلانہ ہوتا ہے کہ مجھ جیسا کم ہمت شہید ہوئے بغیر نہیں رہ سکتاـ قسمت کو کروں کہ اس راہ میں شہادت سے محرومی ہی رہی ـ

مولیٰ! مادرِ علمی جے این یو کو ہمیشہ سرخرو رکھیو ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*