جیتن رام مانجھی کا راجد پر سنگین الزام،بولے:آر جے ڈی چاہے تو 80 فیصد جرائم ختم ہوجائیں

پٹنہ:بہار کے سابق وزیر اعلی جتن رام مانجھی نے دسمبر کے ٹھٹھرتے بہار کی سیاست میں سیاسی چنگاری لگادی ہے ۔ جس سے بہار کے سیاسی گلیاروں میں ابال دیکھا جارہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق مانجھی نے کہا کہ بہار میں ہونے والے جرائم کے لیے آر جے ڈی ذمہ دار ہے۔ تیجسوی یادو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مانجھی نے کہا کہ وہ جیل میں بند اپنے رہنماؤں کو تنبیہ کریں تو ریاست میں 80 فیصد سے زیادہ جرائم یوں ہی ختم ہوجائیں گے ۔ یہ بیان آتے ہی سیاسی رد عمل کا دور چل پڑاہے۔ مانجھی کو جے ڈی یو – بی جے پی کی مکمل حمایت حاصل ہے ، جبکہ آر جے ڈی اس معاملے پر نتیش کمار سے استعفیٰ کی خواہاں ہے۔جیتن رام مانجھی کے اس بیان پر جے ڈی یو کے ترجمان سنجے سنگھ نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ نتیش کمار کی قیادت میں بہار’ منگل راج‘ بن گیا ہے۔ مجرم کون ہیں؟ کون لوگ ہیں جو جرائم انجام دے رہے ہیں ؟کون مجرموں اور موالیوں کی سرپرستی کررہا ہے؟ یہ تمام آر جے ڈی قائدین ہیں جو فی الحال جیل میں ہیں، وہ جیل سے جرائم کو فروغ دے رہے ہیں۔ ورنہ بہار میں جرم ختم ہوچکا تھا۔ یہاں کے مجرم بل میں گھس چکے تھے، نیز یہ بھی یقین کرلیں کہ سوشاسن کی حکمرانی میں کوئی بھی مجرم بخشا نہیں جائے گا ، ہر ایک کو جیل بھیج کر ہی دم لیا جائے گا۔بی جے پی کے ترجمان پریم رنجن پٹیل نے بھی جتن رام مانجھی کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے تیجسوی یادو مبینہ طور پر مجرموں کی مسلسل حمایت کررہے ہیں ، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ جرم کو تحفظ دے رہے ہیں۔ ان کے پرانے رہنما جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ تیجسوی یادو لوگوں کو اس معاملہ پر اکسا رہے ہیں ، آر جے ڈی اس میں شامل ہے۔بی جے پی رہنما نے کہا کہ اگر تیجسوی یادو اور ان کی پارٹی کو انتخابات ہارنے پر صدمہ پہنچا تو یہ لوگ کسانوں اور جرائم کے معاملے پر لوگوں کو اکسارہے ہیں۔اس سارے واقعے پر آر جے ڈی کے ترجمان مورتنجے تیواری نے کہا کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہے۔ جرائم ان کے ذریعہ نہیں سنبھل نہیں رہے ہیں ۔ حکومت نتیش کمار سے چل نہیں رہی ہے۔ حکمراں جماعت ہرکام تیجسوی یادو سے کروانا چاہتی ہے ، کسان ، نوجوان ،بیر روزگاری تمام امور کی نگرانی تیجسوی یادو کریں ،تو پھر نتیش کمار کس لیے ہیں ، انہیں چاہیے کہ اخلاقی طور پر مستعفی ہوجائیں۔