جہادِ حرف کے شاعرعزیز بگھروی-تسنیم فرزانہ

(بنگلور، کرناٹک)

زخموں کے پھول، داغ جگر چھوڑ جاؤں گا
دامن میں زندگی کے گہر چھوڑ جاؤں گا
دنیا سنے گی میرے ترانوں کی بازگشت
میں جاؤں گا تو اپنا اثر چھوڑ جاؤں گا
عزیز بگھروی مرحوم اردو کے ایک معتبر اور مستند شاعر ہوتے ہوئے بھی اردو کے قارئین کے درمیان غیر معروف رہے، جب دنیا سے رخصت ہوئے تب بھی ان کی رحلت کی خبر عام نہیں ہو سکی، وجہ یہ تھی کہ نہ وہ سیاست دان تھے نہ فلم ساز نہ کھلاڑی، شاعر بھی تھے تو کسی ازم سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا اور نہ جدیدیے تھے، پھر ایسے شخص کی یاد کسے رہتی اور ان کی رحلت کی خبر کیسے عام ہو سکتی تھی۔
عزیز بگھروی مرحوم کا وطن قصبہ بگھرہ، ضلع مظفر نگر تھا، جہاں وہ 23 جون 1932 کو ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حاصل کی، تمام عمر دہلی کے سب سے قدیم تعلیمی ادارے اینگلو عربک اسکول میں تدریس میں گزاری۔
مرحوم عزیز بگھروی اعلیٰ تہذیبی روایات اور مثبت قدروں کے ساتھ صحیح فکر رکھنے والوں میں ایک ممتاز مقام کے حامل شاعر تھے، وہ زندگی کی حقیقتوں کو بڑی سادگی مگر حسن کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر جانتے تھے – ان کے لہجے سے زندگی کی کربناک سچائیوں کی پرچھائیاں جھلکتی ہیں۔ نا مساعد حالات اور اردگرد کے ناموافق ماحول کی وجہ سے کہیں کہیں لہجہ سخت اور احتجاجی ہو گیا ہے، مگر جھنجھلاہٹ یا مایوسی نہیں ہے-
وہ ہمیشہ اسلامی افکار واقدار کی علمبرداری کرتے رہے، چنانچہ ان کی شعری دنیا میں ہمیں مایوسی نا امیدی، پست حوصلگی اور قنوطیت نہیں ملتی، وہ اس دنیامیں ایک تبدیلی چاہتے تھے جس کے لئے وہ عمل پیرا بھی تھے :
پیغام سکون راحت جاں لے کے اٹھے ہیں
ہم جذبۂ تعمیر جہاں لے کے اٹھے ہیں

سنگینئ حالات کی پرواہ نہ کریں گے
مر جائیں گے ایمان کا سودا نہ کریں گے
ان کے اشعار میں اسلام کا انقلابی پیغام بھی ہے، للکار بھی اور طنز کے تیر و نشتر بھی۔ اپنے کلام میں انقلاب کی باتیں بھی کی ہیں، قربانی اور جاں نثاری کے گیت بھی گائے ہیں۔ ساتھ ساتھ باطل سے نبرد آزما بھی ہوئے ہیں:
جادہ جادہ چھوڑ جاؤ اپنی یادوں کے نقوش
آنے والے قافلوں کے رہنما بن کر چلو
دور تک پھیلا ہے شب کا سناٹا عزیز
آؤ پھینکیں زندگی کے بحر میں پتھر چلو
عزیز بگھروی مرحوم کی شاعری ذہنوں سے نقش کدرورت مٹانے، تفریق کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو بجھانے اور انسان سے انسان کو ملانے کا کام کرتی ہے۔ وہ دنیا کو ایک بہتر دنیا بنانا چاہتے تھے:
دل تیرگی کا مرکز، آنکھیں ہیں شب گزیدہ
ظلمت کدوں میں جشن تنویر چاہتا ہوں
سچ بولنے کی میں نے پھر ڈال لی روایت
اب شہر شہر اس کی تشہیر چاہتا ہوں

ایک چاند بن کے چمکے جو وقت کی جبیں پر
تیرہ شبی میں ایسی تحریر چاہتا ہوں
آج کی جدید اردو شاعری کا ایک خوبصورت اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ ہر خوش فکر اور خوش گو شاعر حمد و نعت کی روشنی اور خوشبو سے اپنے شعری جذبے اور فن کو جلا بخشتا ہے، عزیز بگھروی اس سعادت سے کیسے محروم رہ سکتے تھے،چنانچہ ان کے کلام کا چوتھا مجموعہ "قندیلِ حرم” ان کی حمدیہ و نعتیہ شاعری کا بیش بہا نمونہ ہے۔ حمد باری تعالیٰ کے دو شعر ملاحظہ ہوں:
میں اپنا ہر عمل یوں لائقِ اعزاز کرتا ہوں
خدا کا نام لے کر کام کا آغاز کرتا ہوں
عمل پیرا میں جب ہوتا ہوں اپنے رب کی مرضی پر
سکون و امن سے دنیا کو سرفراز کرتا ہوں
ساتھ ہی نذرانہ نعت کے دو شعر:
تابانی حیات ملی آپ کے طفیل
ظلمات سے نجات ملی آپ کے طفیل
دونوں جہاں میں ہوگئے ہم جس سے سرفراز
ایک ایسی ہم کو بات ملی آپ کے طفیل
عزیر بگھروی مرحوم اپنا ایک خاص مزاج اور نظریہ رکھتے تھے اور آخر تک وہ اپنے نظریات پر پوری طرح قائم رہے، اپنے اشعار میں ان کا کھل کر اظہار کرتے رہے اس پر بعض اہلِ نقد کی جبینوں پر شکنیں بھی آئیں مگر عزیز صاحب نے ان کا اثر لئے بغیر اپنی تعین کردہ منزل کی طرف سفر جاری رکھا –
ان کا وسیلۂ اظہار بالعموم غزل رہا، یوں دوسری اصناف پر بھی انہیں دسترس حاصل تھا پھر بھی ان کا واضح رجحان غزل کی طرف ہی رہا۔
غزل چونکہ اب "تنگیِ داماں” کے احساس سے یا یوں کہئے کہ حصار سے نکل آئی ہے اور اس کا دامن بہت وسیع ہو گیا ہے اور اس میں ہر طرح کے خیالات پیش کرنے کی گنجائش ہے اس لئے آج کل بیشتر شعرا اس کواپنے اظہار کا وسیلہ بنائے ہوئے ہیں۔ واقعہ بھی یہی ہے کہ اگر بات سلیقے سے کہی گئی ہو شعر کی نزاکتوں کا عرفان ہو اور فنکار اپنے تخلیقی تجربے اور مشق کے اعتبار سے باشعور ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ کسی بھی نظریاتی احساس کو اپنے اسلوب و انداز میں پیکرِ شعری عطا نہ کر سکے-
عزیز بگھروی مرحوم کے یہ شعر اس بات کا ثبوت ہیں:
ہو تیرے فن میں اس کے سخن کی خوشبو
رنگ اس کا تیرے انداز ہنر میں آئے
کھڑے تھے اہل ہنر گردنیں جھکائے ہوئے
ترا تراشا ہوا شاہکار سامنے تھا
ان کی غزل کا لہجہ توانا اور پر شوکت ہے اور اس لہجے میں ہمیں علامہ اقبال کی صدائے بازگشت صاف سنائی دیتی ہے:
دل میں آیا ہی تھا تجدید محبت کا خیال
آنکھ سے آنسو گرا شرح تمنا کر گیا

ایک مہتاب ہے یادوں کے افق پر روشن
ایک چہرہ ہے جو آنکھوں سے نہ دیکھا جائے
عام طور پر مقصدی شعرا کے یہاں بے کیفی اور روکھا پن محسوس ہوتا ہے، مگر عزیز بگھروی مرحوم کے لئے یہ بات نہیں کہی جا سکتی:
رہنا ہے تجھ سے دور قیامت سے کم نہیں
بسنا بھی اک عذاب تیرے گھر کے سامنے
درد کے شعلوں میں جلنا تو ضروری تھا عزیز
تم نے نظریں جو ملائیں بتِ طناز کے ساتھ
پرسشِ بیمار غم کا شکریہ
اس عنایت اس کرم کا شکریہ
وہ وقت کی نبض کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ ان کی شاعری میں وقت کی دھڑکن کی زور دار آواز سنائی پڑتی ہے۔
یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
جدید خاکے ابھر رہے ہیں، قدیم نقشے بدل رہے ہیں
زباں پہ امن و اماں کی باتیں، دلوں میں فتنے پل رہے ہیں
اور:
نفرت کا زہر گھول دیا کس نے شہر میں
خندہ لبوں کے شعر بھی غم ناک ہو گئے
وہ سوچتے تھے کہ فتنہ و شر کے ذریعے قتل و غارت گری کا بازار ملک میں یوں ہی گرم رہا تو ایک دن اللہ کا قہر نازل ہو کر رہے گا:
نا حق قتل عام کیا ہے خون کی بارش برسے گی
ظلم بھی ایسا ظلم ہوا ہے خون کی بارش برسے گی
فتنہ و شر سے بھر جاتا ہے شہر کا جب سارا ماحول
پاک صحیفوں میں لکھا ہے خون کی بارش برسے گی
امن و سکوں سے بستی کا رشتہ کیا ہے نسبت کیا
جس بستی میں ظلم روا ہے خون کی بارش برسے گی
وہ قلم کو اللہ کی امانت مانتے تھے، اسی لئے فرمایا کرتے تھے کہ اگر قلم کواللہ کی امانت مانتے ہوئے اس کا استعمال کریں گے تو ایسی باتیں اور چیزیں سامنے آئیں گی جو انسانیت کی خدمت کے لئے کام آئیں گی، اگر اس سے ہٹ کر بات کریں گے تو خود بھی گمراہ ہوں گے ، دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ انسانیت کے لئے خطرہ اور قوم و ملت کے لئے مصیبت بن جائیں گے، ان کا یہ شعر اس بات کی عکاسی کرتا ہے:
کون سوچوں کو عطا کرتا ہے لفظوں کا لباس
اور ان لفظوں کو پھر جادوگری دیتا ہے کون؟
عزیز صاحب کو اردو کی مسکنت اور بد حالی کا بے حد غم تھا۔ ان کا یہ شعر تصویر درد ہے :
تحریر زخم زخم ہے، تو لہجہ لہو لہو
مجروح انگ انگ ہے اردو زبان کا
قلم سے جہاد کرنے والے کہنہ مشق، خوش فکر اور ہنر کی تقدیس رکھنے والے عزیز بگھروی 24 اکتوبر 2004 کو اس دار فانی سے کوچ کر کے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے اور ادبی دنیا کو یہ احساس ہمیشہ کے لئے دے گئے
:
کل مرے نقش تھے اس بزم جہاں کی زینت
آج پڑھتے ہیں مجھے لوگ خبر کی صورت

ہو گئے زندگی سے بہت دور ہم
زندگی کی حکایات کہتے ہوئے