جھارکھنڈ ہائی کورٹ کا ایک شاندار فیصلہ ـ ایم ودود ساجد

 

جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے جسٹس کیلاش پرساد دیو نے ایک عالم دین مولانا کلیم الدین مظاہری کو ایک انتہائی خطرناک مقدمہ میں ضمانت دیدی ہے۔مولانا کلیم الدین مظاہری 14مہینوں تک اس الزام میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے کہ وہ القاعدہ کے فعال ممبر ہیں۔پولیس نے انہیں نہ صرف القاعدہ کا ممبر بتایا تھا بلکہ ان کو جہادی بھی کہا گیا تھا۔ان پر بہت سی سخت دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ان پر الزام تھا کہ انہیں گجرات سے پیسے ملے اور انہوں نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔انہیں پہلے سے ماخوذ دو مسلم نوجوانوں کے بیان کی بنیاد پر پکڑا گیا تھا۔پولیس نے کہا تھا کہ ان دونوں نے مولانا مظاہری کے مکان پر ہی میٹنگ کی تھی۔

مولانا مظاہری پر UAPA اور دوسرے قوانین کے تحت جودفعات عاید کی گئی تھیں وہ یہ تھیں:

 

16 دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینا

17 دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے فنڈ جمع کرنا

18 دہشت گردانہ سازش کرنا

18 (بی) دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے بھرتی کرنا

19 مجرمانہ سرگرمیوں کے لئے لوگوں کو پناہ دینا

20 دہشت گرد تنظیم کا ممبر ہونا

21 دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے رقوم کا زیر تحویل ہونا

23 یہ دفعہ زیادہ سے زیادہ سزا دلوانے کے لئے ہوتی ہے

25 (بی) ہتھیار رکھنا

26 خفیہ کارروائیاں انجام دینا

34 ایک ہی مقصد کے تحت بہت سے لوگوں کے ذریعہ کوئی مستوجب سزاکام کرنا

35 ہتھیاروں کے ساتھ مجرمانہ کارروائیاں انجام دینا

35 (بی) مجرمانہ سازش کرنا

121 ملک کے خلاف جنگ چھیڑنا

121 (اے) ایسے جرائم کی سازش کرنا جو دفعہ 121کے تحت مستوجب سزا ہیں

124 (اے) ملک سے بغاوت کرنا

ہندوستان میں اتنی ساری دفعات کے بعد کیا کسی کا ضمانت پر چھوٹنا ممکن رہ جاتا ہے؟ اور وہ بھی ایسے میں جب UAPA کے تحت ایک سال تک عدالت سے رجوع کا حق ہی نہ ہو۔ہائی کورٹ کی یک رکنی بنچ نے جو تبصرہ کیا وہ بھی بہت اہم ہے۔عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر نہ تو اس کا کوئی ثبوت پیش کرسکا کہ مولانا مظاہری کا تعلق القاعدہ سے ہے اور نہ ہی وہ انہیں دئے گئے پیسوں اور ان کے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے استعمال کا کوئی ثبوت پیش کرسکا۔عدالت نے صاف کہا کہ پیش کرنا تو بہت دورتفتیشی افسر یہ ثبوت جمع ہی نہیں کرسکا۔

یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں یا حکومت کے مخالفوں کے خلاف یو اے پی اے کا سب سے زیادہ استعمال مودی حکومت کے دوران ہوا ہے۔۔۔۔۔NCRB نے 2018 میں جو رپورٹ پیش کی تھی اس کے مطابق 2016سے 2018 کے درمیان یعنی محض تین برسوں میں 3974 لوگوں کو UAPA کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ان میں سے محض 821 لوگوں کے خلاف ہی تین سال میں چارج شیٹ تیار ہوسکی۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ چارج شیٹ اسی وقت تیار ہوتی ہے جب ماخوذ فرد پر عاید الزامات کے حق میں پولیس ثبوت وشواہد جمع کرلیتی ہے۔

مولانا کلیم الدین مظاہری کے وکیل امت کمار داس نے عدالت میں قانون و دلائل کی روشنی میں بحث کی اور بتایا کہ پولیس 14مہینوں سے میرے موکل کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک ان کے خلاف ایک بھی ثبوت جمع نہیں کرسکی ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چونکہ میرے موکل ایک مولانا ہیں اس لئے پولیس نے انہیں جہادی بتادیا۔ جب جسٹس کیلاش پرساد دیو نے فیصلہ لکھا تو اس میں بطور خاص لکھا: کہ چونکہ پٹشنر مولانا ہیں اور ان کے خلاف پولیس کوئی ثبوت جمع نہیں کرسکی لہذا انہیں ضمانت پر رہا نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔عدالت نے یہ بھی لکھا کہ مولانا کلیم الدین مظاہری سعودی عرب حج کرنے گئے تھے اور باقاعدہ حکومت ہند سے منظوری لے کر گئے تھے۔ان کی وہاں کسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ انہیں کسی نے کوئی پیسہ دیا۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں اور بھی چند تفصیلات لکھی ہیں۔

نئی دہلی کے انڈین ایکسپریس اور کلکتہ کے ٹیلی گراف اخبارات کے علاوہ قانون کی رواں خبریں دینے والی ویب سائٹ لائیو لا نے بھی لفظ مولانا کا ذکر کئے جانے کو اہمیت کے ساتھ نشان زد کیا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ وکیل دفاع نے تو لفظ مولانا کا ذکر اس لئے کیا ہوگا کہ چونکہ یہ مولانا ہیں‘ان کے چہرے پر داڑھی ہے‘وضع قطع بھی پر اسرار ہے اس لئے میرے موکل کو غلط طورپردہشت گر دسمجھ لیا گیا۔لیکن عدالت نے لفظ مولانا پر زور دے کر یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ چونکہ مولانا بہت امن پسند‘دین پسند اور نیک ہوتے ہیں اس لئے ان پر بنیادی طورپر یہ الزام ہی غلط تھا۔

خدا جانے ابھی ملک میں اور کتنے بے قصور مسلمان اتنی سخت دفعات کے تحت جیلوں میں سڑ رہے ہوں۔ایک عرض مسلمانوں کی بڑی جماعتوں سے بھی ہے۔وہ اپنے اپنے طور پر کام کر رہی ہیں اس سے مجھے انکار نہیں ہے۔لیکن کرنے کا ایک بڑا کام یہ ہے کہ جب اس طرح کے الزامات سے کوئی بری ہوکر آتا ہے تو اس کی زندگی کے 14-15قیمتی سال برباد ہوچکے ہوتے ہیں۔فیصلہ میں بڑی اچھی اور دل کو چھولینے والی باتیں تحریرہوتی ہیں۔لیکن ان باتوں سے اس مظلوم کے برباد قیمتی سالوں کی تلافی نہیں ہوجاتی۔

جب 16مئی 2014کو گجرات کے مفتی عبدالقیوم منصوری سمیت 11 لوگ اکشر دھام حملہ کے مقدمہ میں سزائے موت پانے کے بعد سپریم کورٹ سے بری ہوئے اور سپریم کورٹ نے فیصلہ میں بہت شاندار باتیں تحریر کیں تو میں نے جمعیت علما سے کہا تھا کہ اس معاملہ میں پولیس والوں اور حکومت کے خلاف مجرمانہ دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیجئے اور ان رہاشدہ افراد کو معاوضہ دلوانے کی اپیل کیجئے۔

اگر اس طرح کے معاملات میں دوچار پولیس والوں کو بھی سزا مل گئی اور برباد شدہ وقت کی کچھ مالی تلافی ہوگئی تو کسی اور بے گناہ کو پھنساتے ہوئے پولیس والے اور خود حکومت دس بار سوچے گی۔واضح رہے کہ مفتی عبدالقیوم منصوری نے تو باقاعدہ اپنی لمحہ بہ لمحہ سرگزشت پر مبنی ایک کتاب بھی لکھی تھی۔اس کی بنیاد پر اور سپریم کورٹ کے سخت تبصروں کی روشنی میں پولیس افسروں پر مقدمات قائم کرائے جاسکتے تھے۔ سپریم کورٹ کے سخت تبصروں کی زد میں تو براہ راست نریندر مودی خود آرہے تھے کیونکہ ان لوگوں پر مظالم کے وقت وہی گجرات کے وزیر اعلی تھے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*