مرکزی کابینہ میں جے ڈی یو کوٹہ سے محض ایک وزیر بنائے جانے پر پارٹی میں مایوسی

پٹنہ: طویل انتظا ر کے بعد آج نریندر مودی کی کابینہ میں توسیع کر دی گئی ہے۔لیکن اہم حلیف جے ڈی یو کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گذشتہ بار کی طرح اس بار بھی صرف ایک شخص کو مرکزی وزارت میں جگہ دی گئی ہے۔جبکہ گذشتہ بار بھی وزارت کی تشکیل ہورہی تھی تو جے ڈی یو کو دو سیٹیں دی جارہی تھیں تو پارٹی کے سربراہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے وزارت میں شامل نہیں ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور مطالبہ تھا کہ سیٹوں کے حساب سے وزارت میں مناسب جگہ دی جائے اس بار بھی پارٹی کو زبردست مایوسی کا سامنا کرنا پڑاہے۔ تمام قیاس آرائیاں بے کار ہوگئیں۔ بہار سے این ڈی اے کی اہم حلیف جے ڈی یو کوٹہ سے پارٹی کے سربراہ آر سی پی سنگھ کوہی وزیر اعظم نریندر مودی کی نئی کابینہ میں شامل کیاگیا۔اس کے علاوہ بہار سے پشوپتی کمار پارس نے بھی مرکز میں وزیر کی حیثیت سے حلف لیا۔ آر سی پی سنگھ پانچویں نمبر پر حلف لینے آئے تھے۔ انہوں نے ہندی میں حلف لیا۔پارس نے بھی ہندی میں ہی حلف لیا۔ جے ڈی یو کی طرف سے وزارتی دوڑ میں سب سے آگے چل رہے راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ کو مایوسی ہاتھ لگی۔بہار سے وزارت میں جن لوگوں کو جگہ دی گئی ہے ان میں بیشتر پسماندہ برادری سے آتے ہیں۔جے ڈی یو کے قومی صدر آر سی پی سنگھ کل سے مسلسل دہلی میں خیمہ زن تھے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طورپرکہاتھا کہ اس بار جے ڈی یو کو مرکزی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔بہار سے آنے والے چہروں میں جو مرکزی کابینہ کا حصہ بنتے چلے گئے ہیں ، ان میں سے دو نام سب سے اہم ہیں۔ پہلا جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے رکن پارلیمنٹ اور مضبوط رہنما للن سنگھ ہیں ، اور دوسرا نام بہار کے سابق نائب وزیر اعلی سشیل مودی ہے۔ یہ قائدین ، جو بہار سے مرکزی وزیر بننے کی دوڑ میں سب سے آگے تھے ، کو ان کے بڑے سیاسی قد کے ذریعہ دوڑ سے باہر کردیا گیا۔ اس کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی کہ یہ دونوں آخری لمحے میں کیسے آؤٹ ہوئے؟للن سنگھ جے ڈی یو کے رکن پارلیمنٹ ہیں ، لیکن جے ڈی یو میں للن سنگھ کا قد صرف اتنا ہی نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ للن سنگھ کو جے ڈی یو میں قد کے معاملے میں نتیش کمار سے صرف ایک قدم نیچے کہا جاسکتا ہے۔