’’فورم فار انٹلکچول ڈسکورس ‘‘اور’’ دی وِنگس فاؤنڈیشن‘‘ کے زیر اہتمام ماسٹرجاوید اقبال کی رحلت پر تعزیتی نشست کا انعقاد

 

حضرت الحاج ماسٹر جاوید اقبال علیہ الرحمہ ایک مثالی استاد، لائق منتظم، آٹھ کتابوں کے مصنف، درجنوں مساجد کے بانی، مشہور و معروف بزرگ حضرت حکیم تجمل حسین کے مرید خاص اور حضرت مولانا غلام محمد یحییٰ علیہ الرحمہ، خانقاہ صوفیہ ، بیگنا کے خلیفہ تھے۔ ان کے سانحۂ ارتحال سے سیمانچل نے ایک عظیم الشان شخصیت کو کھو دیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے فورم فار انٹلکچول ڈسکورس اور دی وِنگس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ڈائنامک انگلش انسٹی ٹیوٹ ،بٹلہ ہاؤس ، نئی دہلی میں منعقدہ تعزیتی جلسے میں کیا ۔
فورم فار انٹلکچول ڈسکورس کے جنرل سکریٹری منظر امام نے جاوید اقبال کی علمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آٹھ کتابیں ’’نگارشات جاوید (۲۰۱۲)، لمحات جاوید (۲۰۱۴)، بیگنا کے دو ولی (۲۰۱۵)، ارض مقدس (۲۰۱۵)، نقوش جاوید (۲۰۱۷) ، جنگ آزادی کے دو گمنام مستان (۲۰۱۸) خواب اور تعبیر (۲۰۲۰) اور زیارت (۲۰۲۰) شائع ہو چکی ہیں اور ایک کتاب غیر مطبوعہ ہے ۔
مشہور ادیب و نقاد حقانی القاسمی نے کہا کہ جاوید اقبال کی رحلت سے سیمانچل کی حاشیائی بستی نے ایک علمی اور روحانی شخصیت کو کھو دیا ہے۔ یہ اگلی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرحوم کے مشن کو آگے بڑھائیں ۔
سینیئر صحافی اور ماہنامہ یوجنا کے مدیر عبد المنان نے گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاوید اقبال کی شخصیت میں عظمت کے تمام عناصر موجود تھے۔ وہ سراپا خلوص و محبت تھے۔ جنون اور اولوالعزمی کا یہ عالم تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آٹھ کتابیں تصنیف کر لیں ۔
تعزیتی جلسے کی صدارت کرتے ہوئے مشہور عالم اور شاعر مولانا اسحاق عادل نے کہا کہ جاوید اقبال صاحب حد درجہ خوش خلق، منکسرالمزاج ، سادہ طبیعت اور نیک آدمی تھے۔ انھیں بزرگان دین سے والہانہ تعلق تھا ۔مشہور سماجی رہنما فیاض عالم نے کہا کہ جاوید اقبال صاحب کی زندگی ،شخصیت اور خدمات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہمدرد یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار سرفراز احسن نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جاوید اقبال جیسی عظیم شخصیات کے نقش قدم پر چل کر ہی ملک و قوم کی فلاح و بہبود ممکن ہے۔ دی وِنگس فائونڈیشن کے بانی صدر اور ڈائنامک انگلش انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انوا رالحق نے ڈاکٹر جاوید اقبال کو تعلیم و تربیت کا حسین سنگم قرار دیا۔ ڈاکٹر نعمان قیصر نے کہا کہ جاوید اقبال کی شخصیت نہایت متاثر کن تھی ، ان سے جو ایک بار ملتا ہمیشہ کے لیے انھیں کا ہو جاتا ۔ اس موقع پر توقیر عالم جامعی ، مجاہد اختر ناز، پرنسپل نسیم حیدر، ماسٹر انوارالٰہی ، قمر الحسن ، عمار احمد جامی ، غفران اختر، ماسٹر مظہر عالم، افتخار الزماں اور سبحان کے علاوہ دیگر معززین بھی موجود تھے ۔ تعزیتی جلسے کا اختتام دعائے مغفرت پر ہوا۔