جاوید احمد غامدی اور ان کا لٹریچرـ غلام نبی کشافی

جاوید احمد غامدی ( پیدائش 1951ء ) دور جدید کے ایک ایسے دانشور کا نام ہے ، جو اپنے مخصوص لب و لہجہ اور بیانات کے ذریعہ نوجوانوں کی ایک خاصی بڑی تعداد پر کئی طرح کے مسائل کو لیکر گہرے اثرات ڈالنے کی ناکام کوشش میں جٹے ہوئے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ اگر اس وقت غامدی صاحب کو کوئی جانتا ہے ، تو وہ صرف ان کے بیانات کے ذریعے ہی جانتا ہے ، جو زیادہ تر ان کے تفردات یا طبع زاد خیالات پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کے بیشتر بیانات میں انکارِ حدیث اور تاویلاتِ باطلہ کے اثرات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں اور ان کی بعض تاویلات و توجیہات اس قدر مغالطہ انگیز ہوتی ہیں کہ وہ انحرافاتِ دینی کے دائرے میں آتی ہیں ، اگرچہ میں نے اس کی کئی مثالیں اپنے دوسرے مضامین میں دی ہوئی ہیں ، لیکن یہاں پر اس طرح کی مثالیں پیش کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔
لیکن اگر غامدی صاحب کا لٹریچر دیکھا جائے ، تو اس میں کوئی علمی ، فکری یا کسی نئی سوچ کی کشش بالکل بھی نہیں پائی جاتی ہے ، مثال کے طور پر ان کی تفسیر ” البیان ” میں صفر کے درجے میں بھی کسی طرح کی انفرادیت کی شان موجود نہیں ہے ، اگرچہ 5 جلدوں کی اس تفسیر کا ٹائٹل بہت خوبصورت ہے اور کسی الماری میں سجاوٹ کے طور پر سیاہ رنگ کی جلد کے ساتھ یہ تفسیر دکھنے میں بہت ہی اچھی لگتی ہے ، لیکن اس تفسیر میں کوئی علمی اور تحقیقی مواد کچھ بھی نہیں ہے ، بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس تفسیر کو مرتب کرتے وقت غامدی صاحب کی میز پر مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر ” تدبر قرآن ” کے علاوہ کوئی دوسری تفسیر مطالعہ و تحقیق کی غرض سے نہ رہی ہوگی ، باوجودیکہ ان کی پیٹھ اور کرسی کے پیچھے بیشمار کتابیں نظر آتی ہیں اور جن قدیم مصنفین کے افکار و نظریات کے وہ شدید نقاد ہیں ، ان کی تحقیقات کی عمارت کو ڈھانے کی تحریک چلا رہے ہیں اور صحیح بخاری کی سیکڑوں احادیث ، خاص کر پہلی غار حرا والی حدیث کو من گھڑت کہانی بتانے والے کو یہ معلوم ہے کہ اگر ان قدیم کتابوں کو اپنی الماریوں میں نہیں سجائیں گے تو پھر لوگ ان کو عالم نہیں ، بلکہ کسی اخبار کا ایڈیٹر یا کسی پولیس تھانہ کا منشی جی سمجھیں گے ، جس کے سامنے فائلوں اور کاغذات کے ڈھیر لگے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اصل میں اس طرح کے نام نہاد دانشورانِ دہر کا مطالعہ و تحقیق صریحاً منافقت اور دجل و فریب پر مبنی ہوتا ہے ۔
غامدی صاحب کی تفسیر میں جگہ جگہ ” استاذ امین احسن اصلاحی ” کے الفاظ نظر سے گزرتے ہیں اور مولانا اصلاحی کی تفسیر سے کثرت سے اقتباسات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غامدی صاحب کی اس تفسیر کا ماخذ واحد یہی تفسیر ” تدبر قرآن ” ہے ، اس کے سوا کوئی دوسری تفسیر نہیں ۔ میرے خیال میں اگر غامدی صاحب اپنے نام سے تفسیر لکھنے کے بجائے ” تدبر قرآن ” کی تلخیص لکھتے تو زیادہ بہتر ہوتا ۔
اسی طرح ان کی تین اور کتابیں ” میزان ” یا ” برہان ” اور ” مقامات ” بھی ہیں ، لیکن شاید ہی ان کے حلقے کے لوگ ان کتابوں کو پڑھ کر متاثر ہوئے ہوں گے ، کیونکہ ان کتابوں میں وہ علمی شان و شوکت بالکل بھی نہیں ہے ، جو ایک مفسر قرآن یا مفکر کے لٹریچر میں نظر آنی چاہئے تھی ۔ اس لئے اگر دیکھا جائے تو غامدی صاحب لٹریچر کے میدان میں ایک ناکام اور فلاپ مصنف کے طور پر نظر آتے ہیں ۔
غامدی صاحب کی زبان بہت تیز اور روانی کے ساتھ چلتی ہے ، چونکہ جس انسان کو زبان و ادب پر غیر معمولی عبور و مہارت حاصل ہو ، تو ایسے شخص کے لئے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا ، آپ دیکھئے کہ غار حرا والی حدیث کو حال ہی میں غامدی صاحب نے جاہلانہ تحقیق کا سہارا لیکر اسے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ من گھڑت اور صوفیوں کی افسانوی کہانی قرار دیا ہے ، لیکن اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا کوہ طور پر چالیس دن تک عبادت و ریاضت میں رہنا اور پھر تورات کے نزول کا واقعہ قرآن میں نہیں ہوتا ، تو معلوم نہیں کہ غامدی صاحب اس واقعہ کو اسرائیلی خرافات کے کس خانے میں ڈال کر کیا کیا ہفوات اپنی زبان سے پھینک دیتے کہ اس چالیس دن کے سفر میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر کیا پیتے تھے ، کیا کھاتے تھے ، کیا پہنتے تھے ، بول و براز اور طہارت و غسل کا کیا انتظام ہوتا تھا ؟ وغیرہ سوالات اٹھا کر اس واقعہ کو اپنی شر انگیز ذہانت سے بے اصل اور من گھڑت کہانی قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور کوئی جھجھک بھی محسوس نہیں کرتے ، کیونکہ آج کل وہ اسی طرح کے پھینکا پھینکی کے کام میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
اب جب غامدی صاحب بھی فتح اللہ گولن کی طرح امریکہ کی رنگین دنیا میں تشریف فرما ہو کر خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ، تو وہ اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے اپنے بیانات اور اپنے من پسند و منتخب سوال و جواب کی ویڈیوز بنا کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کہیں وہ اپنے نام نہاد لٹریچر کے ساتھ اپنی موت آپ نہ مرجائیں ، اس لئے وہ اب اپنی زندگی کو اپنی ویڈیوز کے ساتھ ہی جینا چاہتے ہیں ، فی الحال تو وہ مزے کی زندگی جی رہے ہیں اور امریکہ کی مٹی سے آب و دانہ بٹور رہے ہیں ۔
میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ غامدی صاحب کو اپنی ستر سالہ زندگی کے اس آخری پڑاؤ پر دین کی صحیح سمجھ اور ہدایت سے نوازے ، اور روز نت نئے ہفوات بکنے سے پرہیز کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، تاکہ ان کے دام فریب میں آنے والے نوجوان راہ حق کی طرف لوٹ آئیں اور ان کو پھر سے قرآن و حدیث کے مطابق عمل کرنے کی توفیق نصیب ہو ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*