جواہر لعل نہرو کی نظر میں آر یائی کون تھے؟

(ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پڈت جواہر لعل نہرو کا اپنی بیٹی اندرا کے نام لکھا ہوا ایک اہم خط،جس میں آریا ئی لوگوں کی قدیم تاریخ کا تذکرہ کیا گیا ہےـ یہ خط اور بھی کئی معنوں میں اہم ہے۔)

ترجمہ:سیدکاشف

آریائی لوگ ہندوستان میں تقریبا پانچ یا چھ ہزار سال قبل آئے ہوں گے۔ ممکن ہے اس سے بھی زیادہ۔ بلا شبہ وہ لوگ اچانک سے اور اکٹھے نہیں آئے۔ یکے بعد دیگرے، قبیلوں، کنبوں اور خاندانوں کی ہجرت کا سلسلہ سیکڑوں سالوں تک چلا ہوگا۔ ان کے قافلے کے بارے میں تصور کرو۔ وہ کیسے اپنے گھریلو سازوسامان جانوروں کی پیٹھ پر لادے ہوئے میلوں چلتے جار رہے ہوں گے۔ وہ سیاح نہیں تھے۔ انہیں واپس نہیں جانا تھا۔ وہ یہاں رہنے آ رہے تھے۔ انہیں لڑنا تھا، زندہ رہنا تھا اور پھر آخر کار یہیں مرجانا تھا۔ جیسا کہ ہم نے تمہیں بتایا ہے، ان میں سے زیادہ تر لوگ شمال-مغرب کی پہاڑیوں کی جانب سے آئے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ کچھ سمندر کے راستے بھی خلیج فارس سے آئے ہوں گے۔ اپنی چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں سوار ہو کر وہ دریائے سندھ کے کنارے پر پہنچے ہوں گے اور پھر یہیں اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہوگا۔
یہ آریائی لوگ کیسے تھے؟ ان کی لکھی ہوئی کتابیں ہمیں ان کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہیں۔ جیسے کہ وید کی کتابیں۔ یہ دنیا کی قدیم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہیں۔ شاید انہوں نے یہ کتابیں لکھی نہیں تھیں ۔آریائی لوگ انہیں زبانی یاد کرلیتے تھے اور پھر ایک دوسرے کو سناتے تھے۔ یعنی وہ ایک سے دوسرے تک زبانی منتقل ہو تی رہیں۔ وہ اب خوبصورت سنسکرت میں لکھی ہوئی دستیاب ہیں۔ تم اسے گنگنا سکتی ہو۔
آج بھی اگر کوئی سنسکرت کا جانکار، جس کی آواز سریلی ہو، وید کی تلاوت کرتا ہے، تو ہمیں نہایت مسرت کا احساس ہو تا ہے۔ ہندوؤں کے یہاں وید کو ایک مقدس کتاب کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وید کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے علم۔ یعنی نالج۔ لہذا ہمیں یہ پتہ چلا کہ وید میں علم کا خزانہ ہے، جسے اس دور کے دانشوروں (جنہیں ہم رشی اور منی کے نام سے جانتے ہیں) نے یکجا کیا تھا۔
ان کے پاس آج کی طرح ریلوے، ٹیلی گراف اور سنیما نہیں تھے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ بیوقوف تھے۔ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اس زمانے کے دانش ور آج کے دانش وروں سے زیادہ ذہین تھے۔ بہر حال وہ زیادہ ذ ہین تھے یا کم، یہ اہم نہیں ہے۔ انہوں نے جو کتابیں لکھیں وہ حیرت انگیز ہیں۔ آج بھی لوگ ان کی ستائش کرتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں۔ بلکہ انہیں مقدس تسلیم کرتے ہیں۔ اسی بات سے یہ عیاں ہو جا تا ہے کہ وہ کتنے مہان رہے ہوں گے۔
جیسا کہ میں نے تمہیں بتا یا ہے، یہ وید ایک بار میں نہیں لکھے گئے۔ انہیں لوگوں نے زبانی یاد کیا۔ اور پھر یہ ایک نسل سے دوسری نسل تک زبانی منتقل ہو تا رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی قوت یاد داشت بہت مضبوط رہی ہوگی۔ ہم میں سے کتنے لوگ پوری کی پوری کتاب زبانی یاد کر سکتے ہیں؟
وہ زما نہ جب وید لکھا گیا اسے ہم ویدک پیریڈ کہتے ہیں۔ پہلا وید "رگ وید” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں صرف حمد و ثنا ہیں، جو آریا ئی لوگ گا تے تھے۔ آریائی لوگ یقینا بہت سادہ دل اور خوش مزاج رہے ہوں گے۔ وہ جب خوش ہوتے ہوں گے، تب یہ خوبصورت گیت بنتے ہوں گے اور پھر اپنے خدا (جس کی وہ عبادت کرتے ہوں گے) کے حضور میں گنگنا تے ہوں گے۔
انہیں اپنے اور اپنی نسل پر بہت فخر تھا۔ لفظ آریا کا مطلب ہی ہے ایک شریف آدمی، ایک اعلی درجے کا شخص۔ انہیں آزادی بہت عزیز تھی۔ وہ آج کے ہندوستانیوں (جو ان کی اولاد ہیں) کی طرح نہیں تھے، جنہیں آزادی کی اہمیت کا احساس کافی دیر سے ہوتا ہے۔ آریائی لوگوں کو موت منظور تھی، مگر بے عزتی اور غلامی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں تھی۔
وہ اچھے جنگ جو تھے۔ انہیں سائنس کا علم بھی تھا۔ وہ کھیتی باڑی بھی جانتے تھے۔ ندیاں جو انہیں پانی دیتی تھیں، ان کے لئے بہت اہمیت کی حامل تھیں، کیونکہ انہی کی مدد سے ان کی کھیتی پروان چڑھتی تھی۔ گائے اور بیل بھی کھیتی میں ان کے لئے بڑے مددگار ثابت ہوتے تھے۔ روز مرہ کی زندگی میں بھی ان کی اہمیت کم نہیں تھی۔
گائے سے وہ دودھ حاصل کرتے تھے۔ لہذا گائے کی اہمیت دو بالا تھی۔ وہ خاص طور پر ان جانوروں کی دیکھ بھال کرتے اور ان کے تعریف میں گیت بھی گنگناتے۔ لیکن صدیاں گزرنے کے بعدلوگوں نے گائے کی دیکھ بھال کی اصل وجہ کو فراموش کر تے ہوئے اس کی عبادت کرنا شروع کردی، گویا یہ ان کا دینی فریضہ ہو۔
چونکہ آریاؤں کو خود پر بہت فخر تھا، لہذا انہیں یہ خوف تھا کہ ہندوستان کے دوسرے باشندوں کے ساتھ ان کا خلط ملط نہ ہو جائے۔ لہذا انہوں نے اپنے لئے چند قا نون وضع کئے۔ جیسے کہ ایک آریائی غیر آریائی سے شادی نہیں کر سکتا۔ کافی عرصے بعد یہی چیز ذات پات کے نظام کی شکل اختیار کر گئی۔ یہ اب یقینا مضحکہ خیز ہے۔ کچھ لوگ تو دوسروں کو چھونے یا ان کے ساتھ کھانا کھانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ خیر، اچھی بات ہے کہ اب یہ چیز رفتہ رفتہ کم ہورہی ہے۔

(بہ شکریہ دی وائر اردو)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*