جواں سال قاری حبیب الرحمن کی رحلت:ایک مرگ ناگہانی اور ہے ـ ڈاکٹر جسيم الدين

 

گیسٹ فیکلٹی شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی،دہلی

مفتی عبد الواحد قاسمی کی معرفت جیسے ہی یہ جانکاہ خبر موصول ہوئی کہ میرے ہم وطن (ددری،ضلع سیتامڑھی بہار) اور جامعہ عربیہ بیت العلوم جعفر آباد دہلی کے استاذ مولانا جمشید عالم صاحب کے بڑے صاحبزادے قاری حبیب الرحمن امام جامع مسجد نریلہ دہلی کی ناگہانی موت ہوگئی سکتے میں آگیا، کسی طرح ہمت کرکے مولانا جمشید صاحب سے رابطہ کیا اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے مولانا سے صبر وضبط اور رضا بہ قضا کی گزارش کرتے ہوئے نماز جنازہ کی تفصیلات طلب کیں، مولانا بھی بہ مشکل ہی یہ بتاسکے کہ کل (اتوار) کو نور مسجد پچیس فٹا روڈ مصطفی آباد میں بعد نماز ظہر نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور یہیں کے قبرستان میں تدفین ہوگی ـ مولانا سے اس مختصر سی بات کی روشنی میں انتقال اور نماز جنازہ و تدفین سے متعلق خبر بناکر سوشل میڈیا اور انقلاب کو دے دی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس جانکاہ خبر کی رسائی ہوجائےـ

اتوار کی صبح میں بھی اوکھلا سے جواں سال کی نماز جنازہ و تدفین میں شرکت کے لیے مصطفی آباد کا رخ کیا، یہاں پہنچ کر مسجد نور کے دروازے پر مولانا جمشید عالم صاحب سے سلام مصافحہ ہوا، نہ تو میرے اندر کچھ کہنے کی ہمت تھی اور نہ ہی مولانا اس پوزیشن میں تھے کہ کچھ بول سکیں، حالانکہ مولانا کی گاہے بگاہے جب بھی ملاقات ہوئی نہایت خندہ پیشانی سے ملتے ہر بات پر زیر لب مسکراہٹ ہوتی، لیکن آج مولانا غم و اندوہ کا مجسمہ بنے ہوئے تھے، باپ کا جنازہ بیٹے کے لیے جتنا جاں گسل ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ جاں گسل جواں سال بیٹے کا جنازہ ہوتا ہے اس کا عملی اندازہ مجھے آج ہوا کہ نماز جنازہ کی تکبیروں کی ادائیگی میں مولانا جمشید عالم صاحب کی آواز جس طرح روندھی ہوئی نکلی اس نے دوران نماز جنازہ ہی آنکھوں سے اشکوں کے سیلاب بہادیے، موت و حیات کا ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے، جو بھی آیا ہے اسے جانا ہے لیکن طبعی موت اور زندگی کی بہاروں کو گزار کر جانے پر انسان اس طرح رنجور نہیں ہوتا جس طرح ایک مرگ ناگہانی اور وہ بھی جواں سال بیٹے کی موت سے ہوتا ہے ایسے بیٹے کی رحلت سے سارا وجود متزلزل ہوجاتا ہے جس نے ہر خاص وعام کے دل میں اپنی سادگی اور خوش مزاجی سے جگہ بنالی ہو، نرم گفتاری اور حلم وبردباری جس کے رگ وپے میں سرایت کی ہوئی ہو، کسی سے معمولی سی رنجش وکبیدگی کو دل میں جگہ نہ دی ہو، آج ان کے جنازے کے تخت کو کاندھا دینے کے لیے ایک ہجوم جس طرح ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہا تھا وہ اس کا واضح ثبوت ہے کہ واقعی وہ رحمن کے کلام کے حافظ وقاری ہونے کے ساتھ جس طرح حبیب الرحمن تھے ایسے ہی مُحَبَّبُ الناس بھی تھے. ایک تو مولانا جمشید صاحب کی بے مثال تربیت کا وہ عملی نمونہ تھے ہی، اپنے حسن اخلاق اور کردار کی عظمت کا اپنے ہم نشینوں کو گرویدہ بنالیے تھے، اخلاقی قدروں کے زوال کے اس دور میں اس طرح کا مطیع و فرماں بردار اولاد نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہےـ

نماز جنازہ کے بعد قبرستان کی طرف بڑھے یہاں بھی عوام و خواص کا جم غفیر تھا، علاقے کے علماء وحفاظ کے علاوہ عوامی نمائندے بھی موجود تھے. یہاں مجھے اپنے گاؤں کے متعدد احباب واقارب سے بھی ملاقات ہوگئی جن میں مقیم پھوپھا، داؤد پھوپھا کے صاحبزادے تمنے بھائی، خورشید بھائی، جمعیۃ علماء کے ناظم نشر واشاعت مولانا عظیم اللہ قاسمی، آل انڈیا دینی مدارس بورڈ کے سربراہ مولانا یعقوب بلند شہری، مصطفی آباد کے ایم ایل اے حاجی یونس صاحب اور میرے میزبان عزیزی مشیر سلمہ بطور خاص قابل ذکر ہیں. تدفین کے بعد مجھے آفس بھی آنا تھا اس لیے مولانا جمشید صاحب ایک بار اور تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے اجازت چاہی اور غم و اندوہ کی کیفیت کے ساتھ یہاں سے واپسی ہوئی، اس مرد جوان کی موت نے مجھے بھی ہلادیا، آج میں پھر اسی طرح رنجور و مقہور ہوگیا جیسے 9 جون 2020 کو اپنے استاذ محترم پروفیسر ولی اختر سابق صدر شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی کی مرگ ناگہانی سے ہوا، جس طرح میرے استاذ محترم کی وفات کا سانحہ دشوار گزار رہا، ایسے ہی آج میں اس مرد جوان جس کی عمر کوئی بیس بائیس سال رہی ہوگی، ڈیڑھ سال قبل ہی رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے، زندگی کے لمحات خوشگوار تھے، لیکن اچانک معمولی نیند کی آغوش میں جاتے ہی ابدی نیند سو گئےـ

یہ سال میرے لیے بھی "عام الحزن” ہے، میں نے کئی اپنے بے مثال مربی وبہی خواہ کو کھودیا. رب سے یہی دعا ہے کہ سفر آخرت پر روانہ ہونے والے تمام اساتذہ واقارب کو جنت الفردوس عطا فرمائے اور دنیا کی بے ثباتی سے ہم سبھوں کو سبق لینے کی توفیق عطا فرمائے.

ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام

*ایک مرگ ناگہانی اور ہے