Home نقدوتبصرہ جون ایلیاکا تصورِ خدا: تفہیم و تعبیر -ڈاکٹر شہزادانجم برہانی

جون ایلیاکا تصورِ خدا: تفہیم و تعبیر -ڈاکٹر شہزادانجم برہانی

by قندیل
            Mob. 8770786313
بہت کم فنکار ایسے ہوتے ہیں جنہیں ان کے فن اور شخصیت کے امتزاج کے حوالے سے یکساں پذیرائی اور محبتیں نصیب ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جون ؔایلیاایسے ہی فنکاروں میں اپنی انفرادی وامتیازی شان، قبولیت اور ہردلعزیزی رکھنے والے فن کار ہیں۔ ان کی زندگی، فکری رویوں کی کشاکشیں، اداسیوں، مبہم وپیچیدہ سوالوں کے جوابات کی تلاش، وجود، عدم، خدا اور کائنات کے لاینحل مسائل سے نبروآزما ان کا علمی تجسس وغیرہ ایسے موضوعات ہیں، جنہوں نے جون ؔایلیاکو سراپا حیرت واستعجاب کا مجسمہ بنادیا تھا۔ علمی اور فکری نتائج کا اظہار جہاں جون ؔایلیانے اپنے نثر پاروں میں کیا ہے وہیں ان کی شخصیت اور فکر کا پرتو ان کی شاعری میں فنی سطح پر ایک فلسفیانہ اور جارحانہ انداز میں بکھراپڑا ہے۔ انسانی نفسیات کا گہرا شعور اور بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ انسانی نفسیات میں ہونے والی تبدیلیوں کا ادراک جون ؔکو حاصل تھا۔ ان کے احساسات کی پیچیدگی اور جذبات کی ژولیدگی کے مدِنظر شاعری میں محسوساتی سطح پر جن Complexes کو بروئے کار لایاگیا ہے انھیں جونؔ کی زبان دانی اور فن پر مکمل دسترس اور فنی تکنیک کے استعمال نے اس قدر جاذب بنادیا ہے کہ جونؔ کے شعروں اور خیالات وجذبات کے اثر سے حواس کو محفوظ رکھ پانا ممکن نہیں رہتا۔
عشق ومحبت کے معاملے میں بھی وہ محبوب کے حق میں ظالم اور ستم پرور ہی ثابت ہوئے۔ آج ان کے بیشتر اشعار معاملاتِ عشق ومحبت کے حوالے سے زبان زدِ خاص وعام ہوچکے ہیں۔ جن کی نشتریت اور اچھوتے طرزِ اظہار نے اُردو شاعری یا غزل کی روایت کو توڑنے کے ساتھ ہی معاصر عہد کے انسانوں کے احساسات اور نفسیات کا احاطہ بھی کرلیا ہے۔ ٹکنالوجی کے اس عہد میں جتنی مقبولیت جونؔایلیا کو اُردو زبان اور دوسری زبانوں کی نئی نسل کے درمیان حاصل ہوئی، وہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اس سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتاکہ جونؔکی فکر اور ان کے طرزِ اظہار کو مقبول کرنے میں ان کی جادوئی اور جنونی شخصیت کا بھی حصّہ ہے، فن اور شخصیت کا امتزاج ہی دراصل جونؔ کی ہردلعزیزی کا راز بھی ہے۔
جونؔایلیا کی شاعری کے مختلف انفرادی رنگوں میں جو سب سے اہم فلسفیانہ خیالات و سوالات زیربحث آئے ہیں وہ وجود، عدم، ہست وبود، یقین وگمان، لمحہ، پل، حال (حالت) وغیرہ سے متعلق ہیں۔ انہی علمی اور فلسفیانہ فکر ی نتائج کے زیرِاثر جونؔ کے یہاں وجود کے انہدام اور اپنے تئیں خود کو تباہ وبرباد کرلینے کا رومانی رویہ بھی پیدا ہوا ہے:
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں
ہورہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں
جونؔ ایلیاکی شاعری کے مختلف رنگ ہیں اور انہیں کسی ایک مضمون میں نباہ پانامشکل نظر آتا ہے، کیوں کہ انفرادی اور باغیانہ روش کے پیشِ نظر ان کی شاعری کا ہر پہلو الگ سے گفتگو اور بحث کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ مضمون بھی جونؔ کے فلسفیانہ غوروفکر اور ان کے علمی معاملات کے حوالے سے وجودِ باری تعالیٰ اور عظیم کائنات میں انسانی وجود کی معنویت پر بحث طلب اشعار کے مدنظر قلمبند کیا گیا ہے۔ خدا کے وجود اور اس کے موجود ہونے کی بحث کو جونؔایلیا نے اپنے پہلے مجموعہ ’’شاید‘‘ میں اٹھایا ہے۔ جہاں تک ان کی شاعری بالخصوص غزل میں اس طرح کے اشعار اور سولاات زیرِبحث آئے ہیں وہ شاعریافنکار کی جرأتِ رندانہ کے برخلاف ایک گہرے علمی اور فلسفیانہ اصول وضوابط کا نتیجہ قرار پاتے ہیں۔ خدا کے موجود ہونے اور اس کے قادرِ مطلق ہونے اور خدا کے وجود سے متعلق مغربی دانشوروں اور فلاسفہ نے عجیب وغریب مباحث اور دلائل پیش کی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جونؔایلیا کے یہاں ذات مطلق کے معاملے میں گہرے علمی یا نظریاتی مباحث کا کوئی نتیجہ بھی موجود ہے یا محض ان کے مزاج اور منفرد اندازِ نظر نے انہیں اس حوالے سے فکری طور پر برانگیختہ کیا تھا۔
جونؔایلیا کی شاعری کے مطالعہ کے دوران اندازہ ہوتا ہے کہ ہم ایک آزمودہ کارصوفی یا فلسفی کی باتیں سن رہے ہیں، جو ذات وکائنات کے ہر رشتے اور حیات و کائنات کے معاملات سے ناخوش وبے زار ہے۔ عجیب قسم کی اداسی اور بے چینی اسے ہر لمحہ مضطرب وبے چین رکھتی ہے۔ وہ اہلِ زمانہ سے شکوہ گذار اور اپنے وجود کی لایعنیت کو کوئی معنی دینے اور اس وسیع وبسیط کائنات کے حوالے سے خالق ومخلوق کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے سلسلے میں ناکام ہے یا پھر اسے وہ ادراک بھی حاصل ہے، جس نے اسے ہرچیز سے بے نیازو بے زار کردیا ہے۔ جونؔ کے یہاں خدا اور اس کے متعلقات کے باب میں جو نتائج سامنے آتے ہیںان سے پتہ نہیں چلتا کہ وہ ذات باری تعالیٰ کی معرفت کا نتیجہ ہے یا پھر اس اسرار کے مختلف انجام اور پیچیدگیوں نے انہیں ہرچیز سے متنفر کردیا۔ جونؔایلیا کے ایسے اشعار پر گفتگو کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن سے قیاس لگایاجاسکتا ہے کہ انہی بنیادوں پر شاید جونؔایلیا نے خدا کے رد اور انکار کا سلسلہ دراز کیا تھا:
ہم کو ہرگز نہیں خدا منظور
یعنی ہم بے طرح خدا کے ہیں
ہم کہ ہیں جونؔ حاصل ایجاد
کیا ستم ہے کہ ہم فنا کے ہیں
             یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے خدا کے وجود یا اس کے موجود ہونے کا انکار کیا وہ تمام لوگ ذاتِ مطلق کی معرفت اور اس کی قدرت کے کماحقہ جاننے والے تھے۔ ان کا علم خدا کو ماننے والے لوگوں سے بہت زیادہ تھا یعنی خدا کے انکار سے قبل اس کے اقرار کے رازہائے سربستہ سے مکمل آگہی کے بعد ہی ان کے نتائج نے ذہن کو خدا کے انکار کی طرف پھیرا تھا۔ پتہ چلاکہ وہی شخص یہ جرأت کرسکتا ہے جس نے اپنے علمی سرچشموں اور مدبرانہ نتائج کے طور پر خداشناسی کا حق ادا کیا ہو۔ مغرب میں بڑے شاعر اور فلسفی اس نہج سے ہوکر خداکے قادرِ مطلق ہونے اور اس کے وجودکے بارے میں انکار کی جرأت کرسکے۔ جونؔایلیا کا پہلا شعر اسی حوالے سے سامنے آتا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ ہم اس درجہ خدا کے ہوکر رہ گئے ہیں کہ ہم نے اسے رد کردیا اور اسے تسلیم کرنے سے باز آئے مگر جون ؔکی فکر کا حوالہ اس موضوع پر ان کے دیگر شعر نہیں بنتے۔ جونؔایلیا کا دوسرا شعر جہاں انسان کو کائنات کی تخلیق کا بنیادی حوالہ بناتا ہے۔ وہیں اس کی فناپذیری شاعر کے نزدیک تشویش ناک صورت اختیار کرلیتی ہے اور وہ گویا ہوتا ہے کہ ہم ہی کائنات کی تخلیق کی بنیاد تھے اور ہمیں ہی فنا ہوجانا ہے۔ یہ ایسا نکتہ ہے جس کی بنیاد پر قیاس کیاجاسکتا ہے کہ اسی لئے جونؔ ایلیا کا نظریہ خدا کے قادرِمطلق ہونے یا اس کے موجود ہونے کے سلسلے میں مشتبہ قرار پایا۔ خدا کی تخلیق کردہ کائنات کی ہر شئے کے زوال آمادہ تصور اور خود انسان جو تخلیق کائنات کا بنیادی سبب ہے اس کی لایعنیت اور بے وقعت ہستی کے احساس اور تجربہ کے نتیجہ میں جونؔ نے خدا پر سوالات قائم کرنا شروع کردیے:
یہ جہاں جونؔ اک جہنم ہے
یاں خدا بھی نہیں ہے آنے کا
مال بازار زمیں کاتھا میں جونؔ
آسمانوں میں مرا سودا ہوا
میں ہوں بھی یا نہیں ہوں عجب ہے مرا عذاب
ہر لمحہ ’یا‘ کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
درجہ بالا تینوں شعر جونؔ ایلیا کی فکر کے مختلف حوالے ہیں۔ جہاں دنیا کی بے ترتیبی اور اس کے جہنم زار ہونے کے ضمن میں خدا کا اس خطۂ ارض سے اجتناب سامنے آتا ہے تو وہیں دوسرے شعر میں وہ آفاقی وجود کو موضوع بناتے ہیں۔تیسرا شعر ان کی فکر اور نتائج کی لاحاصلی کا غماز ہے۔ یہ لاحاصلی بھی جونؔ کے لئے اطمینان کا سبب اس وقت بن جاتی ہے جب وہ دوسرے لوگوں کو اس سےمستثنیٰ پاتے ہیں۔ اس ایک Commitmentکو جونؔ نے نباہنے کی کوشش کی ہے اور جو ان کی شاعری کا بیشتر فکری پس منظر بھی ہے۔
جونؔ ایلیا کی شاعری کا سب سے اہم وصف طنز ہے۔ ان کا لہجہ کاٹ دار اور زہر میں ڈوبے ہوئے تیر سے کم نہیں ہے۔ جونؔ کی انفرادیت کا سب سے اہم ترین پہلو طنز کو بھی قرار دیا جانے چاہئے۔ غزل کی روایت کے برخلاف جونؔ نے عشقیہ شاعری کے ذیل میں بھی محبوب اور عاشق کے حوالے سے جو مضامین پیش کئے ہیں وہ اپنی تمام تر فنی اور لسانی خوبیوں کے ساتھ ہی اُردو میں نئے احساسات اور تجربات کا اضافہ ہیں۔ اس معاملے میں بھی جونؔ نے طنز کا تخلیقی استعمال پوری اٹھان کے ساتھ کیا ہے۔ اس پیرایۂ اظہار، اسلوب اور طنز کے حوالے سے ان کا مدِمقابل کوئی دوسرا نظر نہیں آتا، یہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔ یہاں خدا کے وجود اور اس کے عقیدے سے متعلق جونؔ کے یہاں جونشتریت اور طنز کا پیرایہ موجود ہے، اسے دیکھنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا:
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا
کون آشوب گر دیر و حرم ہے یعنی
جو یہاں ہے نہ وہاں ہے تننا ہو یا ہو
حاصلِ کن ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
ہے خدا بھی عجیب یعنی جو
نہ زمینی نہ آسمانی ہے
جو کہیں بھی نہ ہو کہیں بھی نہ ہو
آپ اس کو خدا سمجھ لیجئے
ہے خدا پر ہی منحصر ہر بات
اور آفت یہ ہے خدا ہی نہیں
مندر ہو، مسجد یا دیر، سب کا بھلا ہو سب کی خیر
ہے یہ انسانوں کی سیر، سب کا بھلا ہو سب کی خیر
ان شعروںسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عقیدۂ خدا کے تعلق سے مسخرہ پن بھی اپناتے ہیں اور وجود مطلق کے ذیل میں ان کے یہاں طنز بھی موجود ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اتنی بڑی حقیقت یا تصور کو موضوع بناتے وقت جونؔ نے اسے محض طنز اور تضحیک تک ہی محدود رکھا ہے اور یہ کہ تصورِ خدا کے بارے میں کسی بڑے فکری نتیجہ کا پیش خیمہ ان کے تصورات کو قرار نہیں دیاجاسکتا۔ اس حقیقت سے بھی انکار مشکل ہے کہ جس موضوع کو جونؔ ایلیا نے اپنی انفرادی فکر اور جذبہ کے ساتھ بہم آمیز کرکے پیش کیا ہے وہ کوئی آسان بھی نہیں اور یہ کہ اس معاملے میں بھی جونؔ ایلیا کی یکتائی اور فن کاری مسلم ہے۔ جونؔ کے یہاں اس وسیع تصور اور ذاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں المیہ بھی موجود ہے۔ وہ خدائے مطلق کے حقیقی وجود یا تصور کی لاحاصلی پر اداس بھی ہوجاتے ہیں:
بڑا بے آسراپن ہے سو چپ رہ
نہیں ہے یہ کوئی مژدہ خدا نئیں
رائیگانی کا دکھ ،اظہار کا یہ پیرایہ اختیار کرتا ہے:
ذکر چھیڑا خدا کا پھر تونے
یاں ہے انساں بھی رائیگاں چپ رہ
اتنا خالی ہے اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں
اہر من ہو خدا ہو یا آدم
ہوچکا سب کا امتحاں چپ رہ
               جونؔ ایلیا کی فکری اور تخلیقی جہتوں کے پیشِ نظر یہ تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ انہوں نے منفرد طرزِ ادا اور قطعی مختلف انداز وبیان اور احساسات کی پیچیدگی کے ذریعہ اپنا لہجہ نہ صرف یہ کہ الگ کیا۔بلکہ ان کا Commitment بھی انہیں اپنے معاصرین شعرااور غزل کی روایت سے الگ تھلگ اور نمایاں ترین حیثیت و وقار عطا کرتا ہے۔ بھلا یہ مندرجہ ذیل تصور یا Commitment اُردو میں کسی شاعر کے یہاں آپ کو نظر آئے گا جب وہ کہتے ہیں:
میں تو خدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
ہر لمحہ ’لا‘ کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
یہی ایک لفظ ’لا‘ اپنے اندرجہانِ معنی کے سراغ پوشیدہ رکھتا ہے۔ اپنی اس نظریاتی کشمکش اور اس کے برملا اظہار کے ساتھ ہی جونؔ ایلیا کو احساس تھا کہ ان کے فلسفیانہ خیالات اور نظریات کی کشمکش کا اظہار قارئین اور سامعین کے لئے یا تصورِ خدا کے بارے میں موجود اجتماعی شعور اور لاشعور پرگراں گذر رہا ہے مگر اس کے باوجود بھی وہ اپنے موقف پر برقرار رہے اور مسلسل رد اور اثبات کا سلسلہ ان کے یہاں قائم رہا۔ اس وابستگی کے ساتھ ہی ان کا احساس بیدار تھا اور ان کے تجربات کی شکست وریخت کا سلسلہ جاری وساری بھی:
ہم نے خدا کا رد لکھا نفی بہ نفی لا بہ لا
ہم ہی خدا گزید گاں تم پر گراں گزر گئے

You may also like