جسونت سنگھ:ماجرا پرور زندگی کا عبرت ناک اَنت- نایاب حسن

جسونت سنگھ(1938-2020) بھی آں جہانی ہو گئے۔ایک ماجرا پرور زندگی گزاری،مگر آخر میں ان کا واسطہ بھاجپا کی اس کھیپ سے پڑا،جس کی سربراہی مودی و امیت شاہ جیسے کائیاں لوگ کر رہے تھے،سو انھوں نے بھاجپا کی تاسیس و تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرنے والے کئی لیڈروں کو یا تو سائڈ لائن کیا یا انھیں سرے سے سیاست سے فارغ کردیا،مثلاً مرلی منوہر جوشی و اڈوانی وغیرہ کو الیکشن لڑنے کا موقع تو دیا اور وہ دوہزار چودہ میں کامیاب بھی ہوئے،مگر فی الحقیقت پارٹی اور حکومت کی کارروائیوں میں ان کا کوئی عمل دخل نہ رہا،وہ مارگ درشک منڈل میں ڈال دیے گئے،جیسے یونیورسٹیوں کے چانسلر ہوتے ہیں ،جیسے مدرسوں کے ارکانِ شوری اور سرپرست،جیسے رسالوں اور اخباروں کے مدیرانِ اعزازی ، یعنی ایسے لوگ جن سے صرف ’’برکت‘‘حاصل کی جاتی ہے۔
مگر جسونت سنگھ کو تو ٹکٹ بھی نہیں دیا گیا۔حالاں کہ جسونت سنگھ بھی وہ تھے،جنھوں نے بی جےپی کی بنیاد گزاری میں اہم رول ادا کیا،اٹل بہاری واجپئی کے معتمدوں میں رہے،پانچ بار(1980-2004) راجیہ سبھا کے رکن رہے اور چار بار(1990, 1991, 1996, 2009)لوک سبھا کے ایم پی رہے۔این ڈی اے کی ابتدائی حکومتوں میں خزانہ،دفاع اور امور خارجہ جیسی کلیدی وزارتیں سنبھالیں،پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئر مین رہے،2004سے2009کے عرصے میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر رہے اور2012 میں اپوزیشن پارٹیوں نے انھیں نائب صدر کا امیدوار بنایا ۔پلین ہائی جیکنگ اور قندھار کا مشہور واقعہ ان کے وزیر خارجہ رہنے کے دوران ہی پیش آیا تھا۔
جسونت سنگھ سابق فوجی تھے اور ان کی ایک قابلِ قدر اکیڈمک شخصیت بھی تھی۔ہندوستان کی ماضی و حال کی تاریخ پر ان کی نظر گہری تھی اور مستقبل کے تئیں بھی پارٹی پالیٹکس سے اوپر اٹھ کر ایک واضح نظریہ رکھتے تھے۔ عصرِ حاضر کی سیاسی جماعتوں خصوصاً بی جے پی میں ایسے فاضل لوگ شروع سے ہی بہت کم رہے ہیں۔ 1996سے2013کے دوران انھوں نے لگ بھگ ایک درجن کتابیں لکھیں،ان میں سے زیادہ تر ہندوستانی سکیورٹی و دفاع کے موضوعات پر ہیں،منشی دیوی پرساد کے ذریعے مغلیہ دور کے دو اہم اشخاص بیرم خاں و عبدالرحیم خان خاناں کی سوانح کو ازسر نو مرتب کیا،جو 2006میں روپا پبلی کیشنز سے شائع ہوئی ہے۔
2004میں پہلی بار اور2009میں لگاتار دوسری بار بی جے پی کی شکست کے بعد جسونت سنگھ نے پارٹی کے مرکزی ڈھانچے میں اصلاح کی بانگ بلند کی اور کہا کہ پارٹی کی ہار کی وجوہات کو جاننے کے لیے داخلی سطح پر صحت مند مذاکرہ و مباحثہ کی ضرورت ہے۔ان کی یہ بات پارٹی کے کلیدی منصب داروں کو زیادہ اچھی نہیں لگی اور انھیں ترچھی نظروں سے دیکھا جانے لگا۔پھر یوں ہوا کہ اسی سال جسونت سنگھ کی محمد علی جناح اور تقسیمِ ہند کے حوالے سے Jinnah: India, Partition, Independenceنامی ساڑھے چھ سو صفحات کی ایک ضخیم کتاب شائع ہوئی۔ ایک سرگرم سیاسی رہنما ،جو حکومتِ ہند کی اہم پالیسی سازیوں کا حصہ رہا ہو اور دفاع و خارجہ امور کا وزیر رہ چکا ہو،ایسی شخصیت کی جانب سے تقسیمِ ہند کے جائزے پر مشتمل کتاب کی تصنیف غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی اور جسونت سنگھ پہلے سے بھی اپنی علمی شناخت اور بی جے پی میں ہونے کے باوجود قدرے معتدل سیاسی و سماجی افکار کے حامل لیڈر کی حیثیت سے متعارف و مشہور تھے،سو ان کی اس کتاب کے منظر عام پر آتے ہی دو قسم کے ردعمل بہت تیزی سے اور بہت زیادہ آئے۔ایک تو تعریفی و توصیفی تھا،جو تاریخ و تقسیمِ ہند سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کی طرف سے آیا اور دوسرا خود ان کی اپنی پارٹی کا ردعمل تھا۔پہلے سے ہی وہ پارٹی کے سرکردہ عہدے داروں اور سنگھ کی نظروں میں کھٹک رہے تھے،اب انھوں نے جناح پر کتاب لکھ کر گویا ایک اور ممنوعہ حرکت کا ارتکاب کیا،بی جے پی تو اڈوانی جیسے تب کے نمبر دو کے آدمی کو صرف اس وجہ سے ذلیل کر چکی تھی کہ انھوں نے 2005میں دورۂ لاہور کے دوران محض اظہارِ مروت کے طورپر جناح کے لیے چند نرم الفاظ بول دیے تھے اور جسونت سنگھ تو پوری ایک کتاب کا ٹائٹل جناح سے منسوب کر گئے تھے،سو آناً فاناً میں بی جے پی نے پالیمنٹری بورڈ کی میٹنگ بلائی اور اس میں نہ صرف جسونت سنگھ کی اس کتاب کی مذمت کی گئی؛بلکہ انھیں بی جے پی کی پرائمری ممبر شپ سے بھی بر خاست کر دیا گیا،جس کا اعلان اس وقت کے بی جے پی صدر راجناتھ سنگھ نے شملہ میں پریس کانفرنس کے ذریعے کیا تھا۔حالاں کہ اس کے چند ماہ بعد2010میں ہی انھیں پارٹی میں واپس بھی لے لیا گیا تھا،مگر اب ان کی حیثیت تقریباً’اچھوت‘کی ہوگئی تھی،وہ بتدریج یشونت سنہا،ارون شوری،اڈوانی و مرلی منوہر جوشی کی صف میں ڈھکیلے جارہے تھے۔اس کا علانیہ اظہار 2014میں اس وقت کیا گیا،جب انھیں لوک سبھا الیکشن کی امیدواری سے محروم کردیا گیا،تب جسونت سنگھ نے درد و کرب کے احساس کے ساتھ بی جے پی کو خیر باد کہا اور آزاد امیدوار کی حیثیت  سے انتخاب لڑا،مگر کامیابی نہیں ملی۔اُسی سال اگست کے مہینے میں وہ باتھ روم میں گر پڑے،جس کی وجہ سے سر میں شدید چوٹ لگی اور اس کے بعد سے تاحال وہ کومے میں تھے،آج آرمی ہاسپٹل،نئی دہلی میں ان کی سرگرم و ہنگامہ خیز زندگی عبرت انگیز گمنامی کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔ان کی وفات پر وزیر اعظم سمیت بی جے پی کے دیگر وزرا اور رہنما اظہارِ افسوس کر رہے ہیں،مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ انھیں تو یہ لوگ دس سال پہلے ہی مار چکے تھے۔
کچھ باتیں جسونت سنگھ کی جناح والی کتاب پر بھی کرلوں کہ دو تین ماہ پہلے ہی میں نے یہ کتاب پڑھی ہے۔اس کتاب کے قارئین کا عمومی تجزیہ یہ ہے کہ جسونت سنگھ نے تقسیمِ ہند کے واقعے کا غیر جانبدارانہ و معروضی تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ درست بھی ہے۔کتاب کی ابتدا ہندوستان اور اسلام کے باہمی تعارف و ارتباط کی تاریخ سے ہوئی ہے اور اس کے بعد محمد علی جناح کے شخصی کوائف،پھر 1920سے 1947تک کے سیاسی حالات،ان کے پس منظر اور ان میں جناح،لیگ اور کانگریس کے کرداروں کا جائزہ لیا گیا ہے۔انھوں نے جہاں جناح کی شخصیت کے مختلف پہلووں کا احاطہ کرتے ہوئے تاریخی واقعات کی روشنی میں ان کے ہندومسلم اتحاد کے سب سے بڑے داعی ہونے سے خالص مسلم یا مسلمانوں کے لیڈر ہونے کے دعوے تک کے سفر کو مرحلہ وار بیان کیا ہے ،وہیں کانگریس کے مرکزی رہنما گاندھی،نہرو،پٹیل وغیرہ کی شخصیتوں کا بھی غیر جانب دارانہ مطالعہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔مجموعی طورپر اس کتاب کے مطالعے سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہے،وہ یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے لیے محض جناح یا لیگ کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا،اس کے لیے گاندھی و نہرو وغیرہ بھی برابر کے ذمے دار ہیں،کانگریس نے ایسے حالات پیدا کیے کہ عملی طورپر پکا سیکولر جناح سیاسی معنوں میں کٹر فرقہ پرست اور مسلمانوں کا یکہ و تنہا لیڈر بن گیا اور نوبت ہندوستان کی تقسیم در تقسیم تک پہنچ گئی۔اس کتاب میں متحدہ قومیت اور دو قومی نظریے پر بھی تاریخی نوعیت کی اہم گفتگو کی گئی ہے۔ہندوستان سے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق کے پس منظر پر جسونت سنگھ نے ایک منفرد بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے،جو عام مسلم مؤرخین سے الگ ہے،اس سے کلیتاً اتفاق نہیں کیا جاسکتا،مگر اس میں معقولیت کے بھی کچھ پہلو ہیں۔
یہ کتاب انگریزی میں 2009میں شائع ہوئی تھی اور اسی سال اردو میں بھی’’جناح-اتحاد سے تقسیم تک‘‘کے نام سے شائع ہوئی۔ اردو ترجمے کی ضخامت ساڑھے چار سو صفحات ہے اور ترجمہ نگار فرحت احساس ہیں ، شریک مترجمین میں مسعود ہاشمی،سہیل انجم،اسما سلیم اور نظرِ ثانی کنندہ میں پروفیسر اختر الواسع کے نام ہیں،مگر غالباً جلدی چھاپنے کے چکر میں ترجمے کی صحت حتی کہ پروف کی غلطیوں کی اصلاح پر بھی کماحقہ توجہ نہیں دی گئی،جس کے نتیجے میں اتنی عمدہ کتاب کا نہایت پیچیدہ اور الم غلم قسم کا ترجمہ شائع ہو گیا ہے،لگ بھگ ہر سطر دو سطر بعد پروف کی فاش غلطیاں اس کتاب کے مطالعے کو صبر آزما بنا دیتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ بعد میں اس کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا یا نہیں اور ترجمہ و پروف کی غلطیوں کی اصلاح ہوئی یا نہیں۔