Home قومی خبریں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جشن یوم سر سید روایتی جوش و خروش کے ساتھ منعقد

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جشن یوم سر سید روایتی جوش و خروش کے ساتھ منعقد

by قندیل

علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بانی سرسید احمد خاںـؒ کے 205 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد ہونے والی یوم سرسید کی تقریبات کا اہتمام دو سال کی کووِڈ پابندیوں کے بعد آج روایتی جوش و خروش کے ساتھ مہمانوں اور شرکاء کی بھرپور موجودگی میں کیا گیا۔ مخصوص مدعو مہمان ، روایتی انداز میں وی سی لاج سے بگھی پر سوار ہوکر یونیورسٹی کے رائیڈنگ اسکواڈ کے ہمراہ گلستان سید پہنچے، جہاں رائیڈنگ اسکواڈ کے طلباء کی ٹیم انہیں اسٹیج تک لے گئی۔جشن یوم سرسید کی یادگاری تقریر کرتے ہوئے مہمان خصوصی پروفیسر طاہر محمود (سابق چیئرمین، قومی اقلیتی کمیشن) نے اے ایم یو برادری کو سرسید کی عقلیت، جدیدیت، روایات اور ہمدردی کے جذبہ کو ملک اور دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہاکہ اردو کا تحفظ اور ترویج بھی سرسید کی میراث کا ایک اہم حصہ ہے جس پر ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔انہوں نے سرسید کے افکار اور ان کے پیغام پر گہری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا جو علامہ اقبال کے کلام سے ان کی ایک نظم ’’سید کی لوح تربت‘‘ سے ظاہر ہوتی ہیں۔ پروفیسر طاہر محمود نے کہاکہ علامہ اقبال نے سرسید کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا تھا، ’مدعا تیری اگر دنیا میں ہے تعلیم دین، ترکِ دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں‘۔ اس تناظر میں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سرسید معاشرے کو بیدار کر رہے تھے اور نئے نظامِ تعلیم کے لیے اُس دور میں قائل کر رہے تھے جب نظامِ تعلیم کے عقلی اور روایتی پہلو آپس میں جڑے ہوئے تھے اور اس نے مذہبی تعلیم کی شکل اختیار کر لی تھی۔انھوں نے کہا ”سرسید نے مشرقی اور مغربی دنیا کے درمیان خلیج کو ختم کرنے میں ایک بہت ہی مؤثر کردار ادا کیا۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بڑھنے اور باقی دنیا سے ہم آہنگ رہنے کے لیے معاشرے میں کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی روایت اور جدیدیت کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے وقف کر دی اور روایتی مشرقی اور مغربی تعلیم کے لیے جدوجہد کی۔خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ سرسید کے سیکولرزم اور جامعیت کے نظریات اے ایم یو کے کام کرنے کے طریقے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی وسیع مشرب رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال ہے اور اس کے دروازے اپنے آغاز سے ہی تمام کمیونٹیز کے طلباء کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔وائس چانسلر نے کہا کہ ہم نے کیمپس میں امن و ہم آہنگی کو برقرار رکھا ہے اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اتحاد و اتفاق پر زور دیتے ہوئے چیلنجوں، مسائل اور بحرانوں پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اے ایم یو ترقی کررہا ہے۔ پی ایم مودی نے صد سالہ تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے اے ایم یو کو ’مِنی انڈیا‘ کہا اور قوم کی تعمیر میں یونیورسٹی کے تعاون کی تعریف کی۔ وزیر اعظم کی شرکت کے علاوہ، پچھلے پانچ برسوں میں اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند اور دیگر افراد کی یونیورسٹی کے مختلف پروگراموں میں شرکت ہوئی۔پروفیسر منصور نے مزید کہاکہ کووڈ وبا کے باوجود اے ایم یو میں ریکارڈ تعداد میں نئے کورسز، کالجز اور شعبے شروع ہوئے۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے بڑھتے ہوئے تعلیمی معیار کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کہاکہ اے ایم یو کو نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (نیک) نے اے پلس گریڈ عطا کیا ہے اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کو بھی نصاب تعلیم میں تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔وائس چانسلر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم یہاں اپنے فعال اور مثالی کردار کے حامل محسن، سر سید کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں تو ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ انھوں نے قوم اور سماج کی تقدیر کیسے سنواری۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل انسان اور جدید ہندوستان کے ممتاز معمار تھے۔وائس چانسلر نے زور دے کر کہا کہ سرسید کو صرف اس کالج کے بانی کے طور پر ماننا جو ایک یونیورسٹی بنا، ایک بہت سادہ سی بات ہے۔ سرسید جس عہد میں پلے بڑھے اور جن حالات کا انھوں نے سامنا کیا اس کو ذہن میں رکھنا اور کس طرح وہ انیسویں صدی کے نوآبادیاتی ہندوستان کے سماجی و ثقافتی جال سے باہر نکلے اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ سرسید نے جو کچھ کیا اس کی تفہیم و ادراک کے لیے ہمیں اس حقیقت کو دیکھنا ہوگا کہ وہ 1817 میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو مغل دربار کے قریب تھا۔ روایتی پرورش نے انھیں 1857 میں تباہی کے دہانے پر پہنچ جانے والے مسلمانوں کے کاز کو بلند کرنے اور ہندوستان میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان اتحاد کے لیے بھی سینہ سپر ہونے سے نہیں روکا ۔پروفیسر منصور نے تعلیم، آزادانہ جستجو، رواداری، بین المذاہب افہام و تفہیم اور قومی اتحاد کے لیے سرسید احمد خاں کے پیغام کو عام کرنے پر زور دیا۔ وائس چانسلر نے اس موقع پر یہ اعلان کیا کہ منگل کو یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔مہمان خصوصی پروفیسر طاہر محمود اور وائس چانسلر پروفیسر منصور نے برصغیرہند میں مسلمانوں کی تاریخ اور جنوبی ایشیا و اسلام پر علمی و تحقیقی خدمات کے لئے باربرا ڈیلی میٹکاف (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس، امریکہ میں تاریخ کی پروفیسر ایمریٹس) کو دو لاکھ روپے نقد انعام پر مشتمل ’انٹرنیشنل سر سید ایکسیلینس ایوارڈ‘ پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خاص طور سے تعلیمی طور پر پسماندہ اقلیتوں اورعام طور سے دیگر کمزور طبقات میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے مشہور ادارے ’مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن‘ کو ’نیشنل سر سید ایکسیلینس ایوارڈ‘ سے نوازا۔ اے ایم یو رجسٹرار مسٹر محمد عمران (آئی پی ایس) نے ایوارڈ یافتگان کے سپاس نامے پڑھ کر سنائے۔ یادگاری تقریب میں مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کرتے ہوئے مسٹر چندن سنہا (آئی اے ایس آفیسر اور ڈائریکٹر جنرل، نیشنل آرکائیوز آف انڈیا) نے کہا : یہ سالانہ تقریب صرف سر سید احمد خاں اور ان کی خدمات کو یاد کرنے کا موقع نہیں ہے، بلکہ یہ پیچھے مڑکر دیکھنے کا بھی موقع ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کہاں سے شروع ہوئی اور یہ کس طرف جارہی ہے، یہ موقع ہے کہ ہم اپنا جائزہ لیں اور نہ صرف اس بات کو یقینی بنائیں کہ قدیم روایات کو ترک نہ کیا جائے بلکہ مستقبل کے تقاضوں کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے یونیورسٹی کے اساتذہ اور افسران کے ہمراہ سرسید کی تربت پر چادر پوشی کے ساتھ گلہائے عقیدت پیش کئے ۔وائس چانسلر نے سرسید ہاؤس میں سرسید علیہ الرحمہ سے متعلق کتابوں اور تصویروں کی نمائش کا بھی افتتاح کیا۔ اس نمائش کا اہتمام مولانا آزاد لائبریری اور سرسید اکیڈمی نے مشترکہ طور پر کیا ۔

You may also like

Leave a Comment