جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

عدالتِ عظمی نے اپنے نوٹس میں کہا:جانوروں کے حقوق کا تحفظ ضروری،مگر انسان اور جانور کو ایک درجے میں نہیں رکھا جا سکتا
نئی دہلی:جانوروں کو قانونی افراد کا درجہ دینے کے مطالبہ پر سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسا کرنے سے جانوروں کو ظلم سے محفوظ رکھنے اور ان کے حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ اس معاملے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جانوروں کو ظلم سے بچانے کے لئے جو مطالبات کئے گئے ہیں، ان پر ضرور غور کیا جائے گا لیکن اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ اسے قانونی فرد کا درجہ بھی دیا جائے گا۔ ایک تنظیم کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت جانوروں، پرندوں اور آبی جانوروں کو شخصی حیثیت دے۔نیز ملک کے تمام شہریوں کو ان کا سرپرست قرار دیا جائے، تمام ریاستی حکومتوں سے جانوروں پر ظلم سے متعلق معاملات پر سخت کاروائی کرنے کو کہا جائے، جانوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پیداہونے والی تمام قانونی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ درخواست گزار ادارہ نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے اتراکھنڈ اور پنجاب میں ہریانہ ہائی کورٹ میں بھی اسی طرح کے احکامات دیئے گئے ہیں۔آج کا مقدمہ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور وی رام سبرامنیم کی بنچ کے ذریعے سناگیا۔چیف جسٹس نے درخواست دہندہ کے لئے پیش ہونے والے وکیل دیویش سکسینہ سے پوچھاکہ آپ ایک قانونی شخص کی حیثیت سے جانوروں کی حیثیت مانگ رہے ہیں، اگر آپ ان کے حقوق کے تحفظ کی بات کررہے ہیں تو اس کے لئے بہت سارے قوانین بنائے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون ان کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے لیکن ہم کسی شخص کی طرح قانونی حیثیت کے مطالبے کو سمجھنے سے قاصر ہیں، کیا آپ جانوروں کے نام پر بھی مقدمہ دائر کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو پھر جانوروں پر بھی مقدمہ چلایا جائے گا۔اس سوال کے لئے مکمل طور پر تیارنظر نہیں آرہے وکیل نے درخواست میں دائر مطالبہ کو دہرایا۔ وکیل نے اپنی باتیں سناتے ہوئے انسانوں اور جانوروں کو برابر قرار دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کیا کہہ رہے ہو؟ کیا آپ کے کتے کی آپ کی طرح ہی حیثیت ہے؟