جنگ آزادی اور مسلمان(1857 تا 1947) ۔ پروفیسر محمد سجاد

شعبۂ تاریخ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائ میں معاف
آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

وطن عزیز، ہندوستان جنت نشان کی آزادی کے75 برس مکمل ہونے کے موقع اور موضوع کے تعلق سے چند اہم شخصیات اور تنظیموں یا جماعتوں کے کارناموں کا زیادہ ذکر نہ کر کے اس موضوع سے متعلق چند اہم تحقیقات کا ایک عمومی جائزہ لیتے ہوئے، اہل علم و دانش کی اس محفل میں چند نکات کچھ اس طرح سے رکھے جائیں کہ ان باتوں، نظریوں، عوامل (processes) پر اختلاف و اتفاق کی ایک بحث چھیڑی جا سکے۔ بہ الفاظ دیگر، ہم چاہتے ہیں کہ جنگ آزادی میں مسلمانوں کے رول کو کچھ اس طرح دیکھنے کی کوشش کی جائے جس سے ہم یہ سمجھ پائیں کہ آج کی بھگوائی جارحیت سے مقابلے کے لئے جس سیکولر سیاست کی ضرورت ہے اس کے لئے مسلمانوں کی سیاسی و دانش وارانہ رہنمائی کون سی حکمت عملی اختیار کرے، تو بہتر ہوگا۔ یعنی self pity کے بجائے خود احتساب کے عمل پر بھی توجہ مبذول ہو! اور خود احتساب کو self flagellation مان کر خارج از بحث نہ کیا جائے!
اس اہم، چیلینجنگ اور مشکل کام میں، ظاہر سی بات ہے کہ مجھ جیسا کم علم شخص بہت کوشش کر کے بھی، کوئی خاص بات کہہ پانے میں شاید ہی کوئی کامیابی حاصل کر سکے۔ لیکن ، کوشش، ادنی ہی سہی، سامعین کے پیش نظر ہے۔

یہ بات تو، اب کم علم رکھنے والے لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ برطانوی نو آبادیاتی غلبہ کو چیلنج، اور اس کی مزاحمت کرنے کی کوشش جب1857 میں، بعض وجوہات کی بنا پر ناکام ہو گئ، تو فطری یا ناگزیر طور پر خود احتسابی کے عمل کا ایک دور شروع ہوا۔ پلاسی (1757) سے 1857 کے درمیان یہ واضح ہو چکا تھا کہ بھارت کی علاقائ ریاستیں جن تاجروں اور بینکروں پر منحصر تھیں، وہ دیسی طاقتیں اب یوروپی کمپنیوں سے سانٹھ گانٹھ کر چکی تھیں۔ تجارت، ملٹری، ٹکنالوجی، اور جدید علوم، سبھی میدانوں میں یوروپ اب سبقت لے چکا تھا۔ ہندوستانی مغل، ترکی عثمانیہ، اور ایران کے صفوی حکمرانوں کا زوال ہو چکا تھا۔
لہٰذا بھارت میں راجہ رام موہن رائے (1772-1833) سے ایک سلسلہ شروع ہوا کہ آیا بھارت کی تہذیب، ثقافت، تمدن، فلسفہ، مذہب، سماجی ڈھانچے، وغیرہ، میں ایسی کون سی کمیاں مضمر ہیں، صورت خرابی کی، جن کو دور کرنے کے بعد ہی برطانوی طاقت کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ شہری بنگال کے بھدرلوک خواص کے درمیان ایک اصلاحی مہم کا آغاز ہوا، جسے بعض لوگ بنگال Renaissance بھی کہتے ہیں۔(حالاں کہ یوروپ کے Renaissance سے اس کا مقابلہ نامناسب اور بحث طلب ہے)۔
بہر کیف! اس بنگال نو جاگرن میں ستّی پرتھا اور بیوہ عورتوں کی بدحالی، چھوا چھوت، بچیوں کے جنم سے قبل قتل، کم عمر بچیوں کی شادیاں، کثیرالازدواجیت، وغیرہ، جیسی روایات کے خلاف احتجاج شامل تھا۔ مذہبی علوم کو عام ورناکیولر زبانوں میں منتقل کر کے مذہبی پیشواؤں کے غلبہ یا monopoly کو ختم کرکے، ان علوم کے democratisation کی کوشش بھی شامل تھی۔
اس تعلق سے نراد چودھری (1897-1999) نے درست ہی کہا تھا کہ بنگال نو جاگرن کی مہم ایک ایسی دعوت عام تھی جس تقریب میں مسلمانوں کو دعوت ہی نہیں دی گئی۔
اس طرح، بنگال کے مبینہ نوجاگرن کے تقریباً آدھی صدی بعد سر سید کی تحریک کا آغاز ہوا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان جدید تعلیم یافتہ مڈل کلاس تیار ہونے میں آدھی صدی کا یہ تفاوت، آگے کا تاریخی سفر طے کرنے میں بہت سے مضمرات کا حامل ثابت ہوا!
بنگال کے نواب عبداللطیف (1828-1893) کی محمڈن لٹریری سوسائٹی (1863) کے علاوہ سر سید کی تحریک نے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا۔ یوں تو سرسید کی مذہبی اصلاحات کو قبول نہیں کیا گیا، اور اب تک انہیں قبول نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن جدید تعلیم کی معرفت برطانوی سرکار کی عدالت و حکومت میں نوکریاں حاصل کرکے مستقبل کو بہتر بنانے کی غرض سے سرسید کی تعلیمی تحریک کو ایک طبقہ نے کسی قدر قبول کر لیا۔
اس حوالے سے، موٹے طور پر، دیوبند کی احیاپرستی اور علی گڑھ کی اصلاح پسندی کی روش، یعنی دو فکری دھارے ابھرے۔ دیوبند تحریک بر صغیر کے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو بچانے پر آمادہ ہو گئی، جب کہ علی گڑھ نے انگریزوں سے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔
مناسب جان پڑتا ہے کہ، جدیدیت کا مقابلہ ان دونوں مکتبہء فکر نے، کس طرح کرنے کی کوشش کی، اس کا ایک خلاصہ یہاں پیش کیا جائے۔
اس سلسلے میں برینن ڈی انگرام کے ایک تحقیقی مضمون (2015، اکادمک جریدہ، ساؤتھ ایشیا) کا خلاصہ پیش کیا جائے۔
انگرام نے سر سید (1817-1898) اور مولانا اشرف علی تھانوی (1868-1943) کے خیالات اور تحریروں کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔ جس میں رسم و رواج، اصلاح، ترقی، عادات و اطوار، قوم، زوال، تعقل، تقوی، روایت، تہذیب، تمدن، وغیرہ، کے سوال اور اصطلاحوں پر ایک بحث کی ہے۔
سر سید نے "مہذب تعقل پسندی”، اور تھانوی نے "معتدل تقوی”، کو مرکز میں رکھ کر "عوام” سے خطاب کیا۔ دونوں لوگ، بنیادی طور سے، شمالی ہند کے اردو سمجھنے والے مسلمانوں سے مخاطب تھے۔
انگرام کے دیگر موقف سے قطع نظر، چند باتیں، اس مضمون میں، یہ بھی ہیں:

1۔ تحریک 1857 کے بعد حالی (1837-1914) سے لے کر اقبال (1877-1938) تک نے، زوال کو ہی بر صغیر کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا۔ محض سیاسی اقتدار کا زوال ہی نہیں، بلکہ، تعلیمی، دانشورانہ، مذہبی و مالیاتی زوال بھی۔ (ظاہر سی بات ہے، یہ نہایت ہی قلیل آبادی والے ایک مخصوص طبقہ کے مسلمانوں کے زوال کی بات تھی!)
2۔ اس زوال کا سبب رسم میں ڈھونڈا جانے لگا۔ رسم کاتعلق، پیدائش، ختنہ، عقیقہ، شادی، صوفیا کے مزار پر حاضری، موت، جیسے موقعوں پر رائج کچھ عمل سے تھا۔
3۔ سادہ اور برجستہ اردو نثر میں تحریر و تقریر کی معرفت قومی ترقی کی بات شروع ہوئ۔ اس میں اخبارات و رسائل کو بھی خصوصی اہمیت دی گئ۔
سر سید نے علما و رؤسا، کے بجائے، قصباتی متوسط طبقہ/درجہ سے خطاب کیا۔ [ویسے بھی سر سید کے مذہبی اصلاح کے معاملے پر مولانا قاسم نانوتوی (ف 1880) نے اپنا سخت مخالف موقف پہلے ہی رکھ دیا تھا، اور سر سید کو بھی اپنے اس پروجیکٹ کو چھوڑ دینا پڑا تھا]؛
[متوسط درجہ / طبقہ کی "وضاحت” میں حالی نے ایک نظم بھی 1891 میں تخلیق کی تھی۔ اور اس نظم کے فٹ نوٹ میں نثری توضیح بھی کی تھی، جس کا مخصوص حوالہ، برینن انگرام نے نہیں دیا ہے]؛
اور اسی لئے، دہلی و لکھنؤ کے اعلی طبقے پر ان اصلاحی باتوں کا اثر بہت کم پڑا تھا۔
سر سید اس متوسط طبقہ /درجہ کے پڑھے لکھے شمالی ہند کے مسلمانوں سے زیادہ مخاطب تھے، جو، مذہبی جوش میں، مناظرہ بازی میں اپنا وقت برباد نہیں کر رہے تھے۔ اسی لئے سر سید نے مجلسوں میں، بحث و تکرار سے پرہیز کی بات کی تھی۔ کیوں کہ وہاں ہر طرح کے خیالات کے لوگ ہوتے ہیں۔اور پرچوں کے معرفت لکھ کر عوام سے مخاطب ہونے کی بات کی تھی۔ اور ان طریقوں سے جمہور کی رائے ہموار کرنے کی ترغیب دی۔ آزادئ رائے، اور قوت استدلال کی اہمیت پر بھی زور ڈالا۔ عادات ورسوم کا تنقیدی محاسبہ کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسروں کی، بے سوچے، تقلید، کے بجائے اپنی مدد آپ (سیلف ہلپ) کی بات کی۔
سر سید بنیادی طور سے جان اسٹوارٹ مل کی کتاب، آن لبرٹی( 1859)، سے بہت متاثر تھے۔
4۔ مولانا تھانوی بھی اجداد کی عقل پر سوال کھڑے کر کے، رسوم و رواج میں اصلاح کی بات کرتے ہیں، جس کی توضیح، اپنی کتابیں، اصلاح الخیال (1901) اور، بہشتی زیور (1905)، میں کی ہے۔
(گو کہ مبارک علی نے اپنے مضمون، “ معاشرہ، عورت اور بہشتی زیور”، میں بجا فرمایا ہے کہ، “ عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مولانا نے بہشتی زیور کے دس حصے لکھے تاکہ ان کے مطالعے کے بعد عورت مرد کی افضلیت کو تسلیم کرے اور اپنی غلامی پر نہ صرف قانع ہو بلکہ اسے باعث فخر سمجھے۔ اس کتاب میں عورت کو اچھا غلام بنانے کی ساری ترکیبیں اور گر بتائے گئے ہیں۔”)
لیکن، انیسویں صدی کی سرسید والی اصلاح، کے برعکس، بیسویں صدی کے اوائل میں، مولانا تھانوی والی اصلاح، مختلف ہے۔ انگرام کے مطابق، (جہاں وہ فرانسس رابنسن، کے حوالے سے، یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ) یہ وہ عہد ہے، جب مسلم علیحدگی پسندی، اپنا عروج اختیار کر رہی ہے۔
مولانا تھانوی کا مخاطب بھی متوسط طبقہ/درجہ ہی ہے، لیکن، ان کا مخاطب علما اور معاشرے پر ان کے کنٹرول کے سوال کو لے کر ہے۔ اس لئے، وہ سنت و بدعت اور شریعت و قرآن کے حوالے زیادہ دیتے ہیں۔ ان کی کتاب، اغلاط العوام، اسی نوعیت کی ہے، اور ان کا مخاطب، وہی مخصوص "مذہبی” متوسط درجہ ہے، جو سر سید کے متوسط درجہ سے کچھ مختلف ہے۔ تھانوی، عوام کی عقل کو تفسیر و تشریح کا اختیار دینا پر خطر مانتے ہیں، وہ یہ اختیار علما تک محدود رکھنا چاہتے ہیں، اور اسی لئے، وہ پرنٹ (اخبارات و رسائل) کے پاور کے تئیں خائف رہتے ہیں۔ انہیں فساد کا جڑ سمجھتے ہیں۔ لہذا مسائل کی بحث کو علما تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی کتاب،اصلاح الرسوم، میں بھی بنیادی طور سے وہ علما سے مخاطب ہیں۔
5۔ مولانا تھانوی، علاقائی رسوم کو "رسوم اختراعیہ” قرار دیتےہوئے، غیر شرعی، کہہ دیتے ہیں، اور ان رسوم کو ترک کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے، مسلمانوں کو غیر مسلم سے مختلف، اور اس طرح متنفر بھی کر دیتے ہیں۔ ان کی تصنیف، حیات المسلمین، میں پوشاک کو بھی شرعی اور غیر شرعی طور پر درجہ بند کر دیا۔ بلکہ جنوری 1917 کے ایک فتوی میں تو، ہندوستانی مسلمانوں کے لئے، انگریزی/مغربی پوشاک کو، انگلینڈ/یوروپ میں جائز، اور ہندوستان میں غیر شرعی قرار دے دیا۔
6۔ سر سید اس رویے کے خلاف تھے۔ انہوں نے ملک میں سماجی مفاہمت کی خاطر، گؤکشی ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ تھانوی نے سر سید کے اس موقف کی مذمت کی۔ (ذاتی طور سے میرا ایک سوال برینن ڈی انگرام سے یہ ہے کہ، ان کا یہ مضمون، اسی دیوبند کے مدنی کی کتاب، متحدہ قومیت، کے پیش نظر، سر سید، اور دیوبند نظریات پر وہ کیا رائے دیں گے؟)
مندرجہ بالا سطور میں سر سید کی ایما پر تخلیق کی جانے والی حالی کی نظم، متوسط طبقہ (1891) ، کا ذکر آیا۔ وہ نظم محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے جلسے میں پڑھی گئ تھی۔ اس سلسلے میں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ ایجوکیشنل کانفرنس نے رہائشی تعلیمی ادارے قائم کرنے کی تحریک میں کیا رول ادا کیا؟ علی گڑھ کے کالج کو یونی ورسٹی بنانا اور گرلز کالج قائم کرنے کے علاوہ کوئ اور کام تو کیا نہیں؟ کیا بمبئ کی انجمن اسلام نے اسکولوں کے قیام کے تعلق سے زیادہ بڑا کام انجام نہیں دیا؟ سر سید اور تھانوی نے ذات (جات) پات اور جنس پر مبنی ناہمواری پر کیسی باتیں کہی تھیں؟
آزادی کے بعد مغربی بھارت، دکن، اور جنوبی بھارت کے مسلمانوں نے تعلیمی میدان میں زیادہ بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں، اس کو سمجھنے کے لئے آزادی سے قبل کی روشوں، نظریوں، اقدام اور تنظیمی تحریکوں پر از سر نو غور کیا جانا چاہئے۔
اس کے لئے، یعنی بہ حیثیت مجموعی، برطانوی عہد کے ہندوستانی مسلمانوں کے تاریخی مطالعے کے حوالے سے، یوں تو، ولفریڈ کینٹ ویل اسمتھ (1916-2000) کی تصنیف، ماڈرن اسلام ان انڈیا: اے سوشل اینالیسیس (1946) کو اولین اور بنیادی درجہ حاصل ہے (جس میں فرقہ واریت کو بھی سمجھنے کی کوشش کی گئ ہے)۔
انیل سیل کی کتاب (1968) ایمرجنس آف انڈین نیشنلزم: کمپیٹیشن اینڈ کولیبوریشن ان لیٹ 19تھ سنچری، کے آخری باب میں مسلم علیحدگی پسند سیاسی رویے کی توضیح، ایک مخصوص نقطہ ء نظر سے کی گئ ہے۔
لیکن تاریخ داں پیٹر ہارڈی (پ 1922) کی کتاب، مسلمس آف برٹش انڈیا (1972) ایک ایسی اہم تصنیف ہے، جس کے گہرے مطالعے کے بغیر، اس موضوع پر کوئ بھی رائے اور موقف نا مکمل ہی رہے گا۔ پیٹر ہارڈی نے اس تعلق سے دینی علما کے رول پر ایک کتابچہ بھی لکھا ہے۔
تاریخ کو ماضی و حال کے درمیان لامتناہی مکالمہ کہا گیا ہے۔ اس تعلق سے، بھارت کے موجودہ سیاسی منظر نامے کی باریک تفہیم کے لئے اس کتاب کا پھر سے مطالعہ کیا جانا چاہئے۔ اہل قلم خواتین و حضرات کو تو خاص طور پر اس کتاب سے رجوع کرنی چاہئے۔
گوپال کرشن (سی۔ایس۔ڈی۔ایس، دہلی) نے ہارڈی کی دونوں کتابوں کا تبصرہ بہت عمدہ کیا تھا۔ اس تبصرے کا کچھ حصہ یہاں شئیر کرنا موزوں ہوگا۔

ولیم ہنٹر (1840-1900) نے اپنی رپورٹ (1871) میں کچھ sweeping generalization کی تھی۔ مثلا، "غدر کے بعد تمام مسلمانوں پر انگریزوں کے مظالم ہوئے”؛ "تمام مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی تھی”؛ "بنگال میں انگریزوں کی پالیسی کے تحت، مسلمانوں کی قیمت پر ہندوؤں کو فائدہ پہنچایا گیا”؛ "مسلمانوں کو ایڈمینیسٹریشن میں مناسب نمائندگی نہیں دی گئ”؛ وغیرہ۔ ایسی عامیانہ باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ “مسلم” نیشنلزم اور علیحدگی پسند سیاست کو منظم کروایا گیا۔
اس پر سوال اٹھایا جانا لازمی تھا۔ ہارڈی نے اس اہم کام کو انجام دیا۔ ہارڈی نے اسے یوں پیش کیا:
” برطانوی حکومت کا نتیجہ یہ ہوا کہ، شمالی ہند کے مسلم خواص کی طرز زندگی پر اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ ان کی livelihood یعنی روزی روٹی ہی کمزور ہو گئ”۔ "سب جج اور ڈپٹی کلکٹر جیسے عہدوں پر تو بنگال میں 19ویں صدی کے نصف تک اور اتر پردیش میں، اس کے ایک نسل بعد تک مسلمانوں ہی کا غلبہ قائم رہا”۔ "غدر کے بعد مسلمانوں ہی کی جائیدادیں ضبط ہوئیں، یا کہ ہندوؤں کی بھی، اس بات پر متعصب رائیں تو ہئں، لیکن وہ حقائق پر مبنی جانکاری کا حصہ نہیں کہی جا سکتیں”۔ ہارڈی نے ایجوکیشن کمیشن 1882 اور دیگر ضلع وار حوالوں سے یہ منکشف کیا کہ زمینوں کی ملکیت میں یہ تبدیلی آئ کہ مغل انتظامیہ سے منسلک منسلک مسلمانوں کی زمینیں اب ان مسلمانوں کے ہاتھوں میں جانے لگیں جن کا مستقبل اب برطانوی انتظامیہ سے منسلک ہونے لگا تھا۔ ہارڈی نے یہ بھی لکھا ہے کہ چند صوبوں کے مخصوص علاقوں کے مسلمانوں کی تعلیمی و اقتصادی پسماندگی کو سامنے رکھ کر، پورے ملک کے مسلم خواص کو مراعات فراہم کئے جا رہے تھے۔ انگریز حکمراں، اعداد و شمار کے اس کھیل کو جانتے ہوئے بھی، قصدا، یہ رعایتیں، عنایتیں اور کرم فرمائیاں کر رہے تھے، تاکہ، ان کو ایک مخصوص سیاسی گروہ بنا کر، مخصوص طریقے سے ایک آلہ ء کار کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔
بنگال کے ایجوکیشن اور ایڈمینیسٹریشن میں مسلمانوں کا under representation تھا، لیکن اس نام پر، مراعات کا فائدہ، پنجاب اور اتر پردیش کے مسلم خواص کو پہنچایا جا رہا تھا۔ ہارڈی نے یہ بھی منکشف کیا ہے کہ 19ویں صدی کی آخری دہائیوں میں جب برطانیہ میں مذہبی شناخت پر مبنی سیاست کو کمزور کیا جا رہا تھا، انہیں دہائیوں میں بھارت کی برطانوی حکومت فرقہ پرستانہ سیاست کی آگ کو بھڑکاتے ہوئے، اس میں گھی بھی مسلسل ڈال رہی تھی۔ 1870 اور 1880 کی دہائیوں میں، اور اس کے بعد، انگریزی حکومت نے اس کام کو بڑے پیمانے پر انجام دیا۔ مسلم خواص کی لیڈرشپ کے لئے مسلم عوامی حمایت کا انتظام خود برطانوی حکومت کر رہی تھی۔ بعد کی دہائیوں میں انڈین نیشنلزم کو کمزور کرنے کے لئے مسلم خواص کا استعمال برطانوی حکومت نے خوب خوب کیا۔

اس اہم کتاب کا آخری پیراگراف بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے، جو، کچھ اس طرح ہے:

“تقسیم ہند اور تقسیم کی پوری سیاسی جدو جہد بھی مسلمانوں کے لئے جدید نیشن اسٹیٹ اور مذہب کے درمیان کوئ مطابقت پیدا نہیں کر سکی۔ ہندوستانی مسلمان ہنوز اسی تذبذب کے شکار ہیں کہ کیا وہ اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہوئے کسی سیکولر ریاست کے وفادار شہری بنے رہ سکتے ہیں یا نہیں۔ آزاد ہندوستان کے مسلمانوں کو، وقت کے ساتھ، یہ حکمت عملی تیار کرنی ہوگی کہ اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے کثیرالمذاہب معاشرے میں جینے کا ڈھنگ کیا ہونا چاہئے۔ آزادی کے 25 برس بعد تک یہ لائحہ عمل تیار نہیں ہو پایا تھا”۔ پیٹر ہارڈی نے یہ بھی لکھا کہ اس clarity تک پہنچنے میں ہندوستانی مسلمانوں کو کافی وقت لگے گا۔

ایسا لکھنے سے قبل، 1971 میں انہوں نے 64 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ، پارٹنرس ان فریڈم اینڈ ٹرو مسلمس، بھی لکھا تھا۔ اس میں مولانا آزاد اور مولانا مدنی کے تصور قومیت پر وضاحت کی تھی۔ ان سیاسی مفکرین نے مسلم نیشنلزم کے بجائے، انڈین نیشنلزم کی بات کی تھی۔ یعنی، پیٹر ہارڈی کی دونوں کتابوں کا مطالعہ ایک ساتھ کرنے سے ایک واضح اشارہ مل جاتا ہے۔
ہارڈی کی اس کتاب سے اتفاق و اختلاف کی طویل گنجائش ہو سکتی ہے۔ اس پر، از سر نو بحث ہونی چاہئے۔
اب ہم خلافت اور تقسیم کی سیاسی تحریک سے متعلق کچھ ایسی باتیں عرض کرنا چاہتے ہیں، جن پر عموماً ہم خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے ہیں۔
انتظار حسین (1923-2016) نے حکیم اجمل خاں (1868-1927) کی بایوگرافی (1999)، اجمل اعظم، میں بہت اہم بات لکھی ہے۔ یہاں ہم اسی کتاب سے اقتباس نقل کرتے ہیں:

“تحریک خلافت نے ایک انتہائ جذباتی رویے کو جنم دیا تھا۔ یا شاید اس انتہائ جذباتی رویے ہی نے تحریک خلافت کو جنم دیا تھا۔۔۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا؟ تحریک خلافت ہی کا آوا بیٹھ گیا۔ اس وقت تو سارا ہندو مسلم اتحاد اسی تحریک کے دم سے تھا۔ تحریک [خلافت ] ٹھنڈی ہوئ تو جوش اتحاد بھی ٹھنڈا ہوتا چلآگیا۔ اور صرف ٹھنڈا ہی نہیں ہوا۔ اس کے نتیجہ میں ایک اور ہی مورچہ گرم ہو گیا۔ اصل میں اس اتحاد نے دو گروہوں کو بہ یک وقت خوف زدہ کیا۔ انگریزوں کو اب اندازہ ہوا کہ ہندو مسلمان متحد ہو جائیں تو کتنی بڑی طاقت بن سکتے ہیں اور ان کے لئے کتنی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ مگر عجب ہوا کہ ہندو خود اس اتحاد سے ڈر گئے۔ ان کے اس نئے ڈر کا ایک تاریخی پس منظر تھا۔ آخر یہ تحریک خلافت کے نام پر چلی تھی۔ جس کا مرکز ترکی میں تھا۔ ساتھ ہی مسلمان رہنماؤں نے یہ منصوبے باندھنے شروع کر دیئے تھے کہ افغانستان اور ترکی کی مدد آزادی کی تحریک کے لئے حاصل کی جائے۔ ان کے ان ارادوں نے ہندوؤں کے اندر سوئے ہوئے اس تاریخی تجربے کو زندہ کر دیا کہ ان علاقوں سے اول العزم جنگجو نکلتے تھے اور ہندوستان پر حملہ آور ہوتے تھے۔ بس اس یاد کے ساتھ ان کے اندر وسوسے اور اندیشے پیدا ہوتے چلے گئے۔ لالہ لاجپت رائے (1865-1928) نے اپنے مذکورہ خط میں سی آر داس کو یہی تو لکھا تھا کہ، "میں ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں سے خوف زدہ نہیں ہوں۔ لیکن اگر ان سات کروڑ کے ساتھ افغانستان، وسطی ایشیا، عرب، عراق اور ترکی کے مسلح لشکر بھی شامل ہو جائیں تو پھر ان کا مقابلہ مشکل ہوگا”۔ قسمت کی خوبی دیکھئے کہ ان اندیشوں میں گھرے ہوئے لالہ لاجپت رائے کا انہیں دنوں ترکی جانا نکل آیا۔ استنبول میں ان کی ملاقات مولانا عبید اللہ سندھی سے ہوئ۔ مولانا نے انہیں وہ منصوبہ ، جس پر وہ بہت کام کر چکے تھے، بتایا۔
آزادی کے لئے افغانستان کے راستے انڈین نیشنل کانگریس کو روسی مدد پہنچائ جائے۔ افغانستان کے نام پر لالہ لاجپت رائے بھڑک اٹھے۔ ظفر حسن ایبک [آپ بیتی] کی روایت کے مطابق مولانا کا قیاس یہ تھا کہ لالہ لاجپت رائے نے ہندوستان جا کر اس کا ذکر مدن موہن مالویہ سے کیا جس سے ہندو مسلم تعلقات میں خرابی پیدا ہوتی چلی گئ۔
اصل میں تحریک خلافت کے قائدین نے اپنی ساری دانائی کے باوجود دو عوامل کو بالکل نظر انداز کیا۔ ایک تو انہوں نے ترکی کے اندرونی معاملات اور مسائل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ نہ تو انہوں نے تاریخی پس منظر میں یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ خلافت کا ادارہ صدیوں کے عمل میں کیا سے کیا بن چکا ہے، نہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ ترکی کے اندر معاملات کی کیا نوعیت ہے، اور نئ سوچ موجودہ خلیفہ اور خود خلافت کے بارے میں کیا ہے۔ تعجب یہ ہے کہ نوجوان ترکوں سے رابطہ کے باوجود انہیں یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ خلافت کے بارے میں ان کی کیا سوچ ہے۔
اندرون ملک مسلمان رہنماؤں نے ایک بڑی حقیقت کو فراموش کیا۔ وہ آزادی کے لئے ترکی اور افغانستان سے امداد حاصل کرنے کے خیالی پلاؤ پکاتے رہے اور ہندوؤں کے نفسیاتی مسئلہ کو انہوں نے سرے سے جانا ہی نہیں۔ ادھر یہ حضرات افغانستان اور ترکی سے امداد کے منصوبے بناتے رہے جس میں ان ملکوں کے ایما کو کم اور ان کی اپنی خوش فہمی کو زیادہ دخل تھا۔ ادھر وسوسے اور اندیشے تقویت پکڑتے چلے گئے جن سے نئے شگوفے پھوٹے۔ شدھی، سنگٹھن اور اس کے جواب میں تبلیغ کی مہم۔ ”
مندرجہ بالا طویل اقتباس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں مقابلہ جاتی فرقہ واریت کس طرح نمودار ہو کر شدت اختیار کرنے لگی۔ [اس کی مزید تفصیل کے لئے، نندینی گوپتو کی کتاب، دی پالیٹکس آف دی اربن پوؤر (2001) اور چارو گپتا کی کتاب (2001)، سیکسوئلیٹی، آ بسینیٹی اینڈ کمیونیٹی: ویمین، مسلمس اینڈ دی ہندو پبلک ان کولونیئل انڈیا، کم از کم اتر پردیش کے حوالے سے بہت اہم ہے۔]
ایسے ہی زہر آلود اور نفرت انگیز ماحول میں 1937 کے صوبائ انتخابات ہوئے، جس میں مسلم لیگ کو بہت بڑی شکست ہوئ۔ کانگریس وزارتوں کی تشکیل کے بعد مسلمانوں کے خلاف امتیازی برتاؤ کے سوال کو لے کر، مسلم لیگ کی سیاست مضبوط ہوتی چلی گئ۔ انگریزی حکومت کی شہہ پر، مسلم لیگ مزید توانا ہوتی چلی گئ۔ بالخصوص، بھارت چھوڑو آندولن کے وقت ، جب کانگریسی رہنما لمبی مدت تک قید کر دیئے گئے ، تب مسلم لیگ اور ساورکر کی ہندو مہاسبھا (و آر ایس ایس بھی) برٹش حکومت کی پشت پناہی پا کر مضبوط ہوتی چلی گئ۔ بنگال اور سندھ میں تو اسی دوران ہندو مہاسبھا اور مسلم لیگ کے اشتراک سے وزارتیں بھی تشکیل دی گئیں۔ اس طرح، اقلیتی حقوق کے نام پر مسلم خواص کے بڑے حصے کی سیاست تو ملک کے تقسیم کی جانب چلی گئ، بجائے اس کے کہ برطانوی سامراجیت کے خلاف جاتی۔ یہ وہی وقت تھا جب جناح کی لیڈرشپ میں پرسنل لا بھی مسلم سیاست کی ترجیحات میں شامل کر دیا گیا۔ (مسلم لیگ اور برطانوی حکومت کی سانٹھ گانٹھ کے تعلق سے دو تحقیقی مضامین خصوصی توجہ کی حامل ہیں۔ ثنا ائیئر کا موڈرن ایشیئن اسٹڈیز، 2008، میں شائع مضمون، “فضل الحق، ریجن اینڈ ریلیجئن ان بنگال: دی فار گا ٹن الٹرنیٹیو آف 1940-1943”، اور دوسرا مضمون 2021 میں شائع ہوا ہے جس کے تین پاکستانی مصنفین ہیں، معراج حسن، آصفہ ظفر، اور کنول نورین۔ گلوبل پولیٹیکل ریویو ،اکادمک جریدہ ، میں شائع یہ مضمون ، نواب اسماعیل خان (1884-1958) اور جناح کے مراسلوں اور ایچ وی ہوڈسن (1906-1999) اور لارڈ لنلتھگو کے مراسلوں کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے کہ جناح نے قصدا منصوبہ ء پاکستان اور اس کے جغرافیہ کو نہایت مبہم رکھا۔ اس مضمون کا ، اردو میں ایک خلاصہ، راقم نے قندیل آن لائن ، بہ تاریخ، یکم فروری، 2022، شائع کیا ہے)۔

اس ضمن میں تقسیم ہند کی تاریخ نویسی پر مفصل تبصرہ ضروری جان پڑتا ہے۔ اس پر راقم کا ایک مضمون (ماہ نامہ معارف، ستمبر 2020؛ مشمولہ، بھگوا سیاست اور مسلم اقلیت)، شائع ہوا تھا۔ اس کا مختصر ذکر کرتے ہوئے ہم یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں ایسی کیا کمزوریاں تھیں جن کی وجہ سے بھارت کے آئین کا جذبہ (spirit) اور اخلاقیات (morality) آج بہت کمزور معلوم ہوتا ہے؟ اقلیتی حقوق کی کوئ تحریک چلی تھی؟ اگر نہیں، تو کیوں؟ بھیم راؤ امبیڈکر نے اس سلسلے میں ، بالخصوص اپنی کتاب، پاکستان یا پارٹیشن آف انڈیا، میں، کیا کچھ کہا ہے؟ جناح کی سیاست نے بھارت کے مسلمانوں کے مستقبل کو کتنا نقصان پہنچایا؟ ایسے متعدد سوالات ہیں، جن پر اہل علم و دانش کی توجہ کی ضرورت ہے۔ تقسیم کی سیاست کی جو مزاحمت مسلمانوں کی جانب سے کی گئ وہ سیاست کیوں اور کیسے کمزور پڑ گئ؟ مثلا، اس طرح کی سیاست، آزادی کے بعد، سیکولرازم، اقلیتی حقوق، حقوق نسواں، سماجی مساوات، جیسے اقدار کو توانائ فراہم کرنے میں کتنی کامیاب یا کمزور رہی، اور کیوں؟ کیا مسلمانوں کی لیڈرشپ کی بڑی تعداد، انڈین سیکولرازم کا مفہوم مسلم فرقہ واریت یا رجعت پسندی کی حمایت کے طور پر ہی سمجھتی رہی؟ کیا مسلم رہنمائ ، آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد ، ترجیحات طے کرنے میں کسی غلط فہمی و کوتاہی کا شکار رہی؟ کیا آج کی اقلیت سوز اکثریت پرست سیاست کا غلبہ کسی طور اس وجہ سے بھی ممکن ہو پایا کہ ماضی میں مسلم رہنمائ کے ایک بڑے حصے نے کچھ غلطیاں سر زد کی تھیں؟ مسلمانوں کے درمیان سے، 1947 کے فسادات کو روکنے کے لئے اخلاقی جراءت رکھنے والے گاندھی اور نہرو جیسی شخصیات کیوں نہیں ابھر سکی تھیں؟
آئین تو جنگ آزادی کے تجربے اور کنسٹی ٹوئنٹ اسمبلی میں مباحثے کا نتیجہ تھا۔ جمہوریت کا آئین تو بنیادی طور سے انفرادی شہریت کے حقوق و اختیارات کے لئے ہوتا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کی ترجیحات صرف جذباتی، مذہبی اجتماعی شناخت پر مرکوز رہیں؛ جنگ آزادی میں شرکت بھی خلافت جیسے موضوع پر زیادہ شدومد سے ہوئ تھی۔ [یاد کیجئے کہ غیر قرآنی فوری طلاق ثلاثہ کو پرسنل لا کے تحفظ کے نام پر ہم نے اِندور (مدھیہ پردیش) کی شاہ بانو (1916-1992) کی زندگی کے ساتھ کیا کیا تھا؟]

تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ جمہوریت اور شہریت کے تصورات و عمل کو توانا بنانے کی ترجیحات کا کیا ہوا؟ یہاں تک کہ مولانا حسین احمد مدنی ( 1879-1957)، جو متحدہ قومیت کے تصور سے برطانوی سامراجیت اور مسلم لیگ کی علیحدگی پسندی والی سیاست کے مخالف رہے، لیکن ان کا بھی ایک خط ملاحظہ کیا جائے۔ مورخہ 23 ستمبر 1951 میں بہلول پور (ضلع مرادآباد، اتر پردیش) کے ایک مسلمان، محمد تصدق حسین عارفی نے ان سے مراسلہ کیا۔ اس نے خود کو غریب اور جاہل کسان بتلایا۔ وہ حکومت اور ہندوؤں سے خود کو کافی پریشان بتا رہا تھا۔ پریشانیوں کا تعلق مذہبی جذبات ہی سے تھا۔ اس نے مولانا مدنی سے شکایت کیا۔ جواب میں مولانا مدنی نے کافی سمجھایا، دلاسا دیا، اور آزاد ہندوستان کے نئے آئین پر بھروسہ رکھنے کی مدلل تلقین کی (مکتوبات شیخ الاسلام، جلد دوئم، صفحات 261 -267)، لیکن ساتھ میں یہ بھی اشارہ دے ڈالا کہ آئین پر چلتے ہوئے اسلام کا غلبہ بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کثیرالمذاہب ملک میں کسی مخصوص مذہب کے غلبہ (کنورزن یعنی تبدیلئ مذہب کے معرفت مسلمان کو اکثریت میں تبدیل کردینے) کا خفیہ مشن کیوں رکھا جائے؟ مولانا مدنی کے اس جوابی خط میں اس غریب، جاہل، کسان مسلمان کو بھی محمود غزنوی اور محمد غوری کی نسل سے تعلق رکھنے کے جھوٹے اور پر فریب فخر پر ہی زور ڈالا گیا ہے۔ ایسی ہی باتیں ہمارے بعض ہندو برادران وطن کو گراں گزرتی ہے۔ کچھ ایسے رویے بھی روادار ہندوؤں کو مسلم مخالف اور بھگوائ ہندوؤں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے۔ کیا ایسی نیت رکھتے ہوئے سیکولرازم مضبوط ہو سکتا ہے؟ کمزور سیکولرازم سے زیادہ نقصان اقلیتوں ہی کا ہوگا، کیا اس سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے؟ مسلمان ، صرف مسلمان ہیں، یا وہ کسان، مزدور، طالب علم، تاجر، تامل، تیلگو، مراٹھی، وغیرہ، بھی ہیں؟ مسلمانوں کے درمیان وہ لوگ جنہیں صرف اکبر اور اورنگ زیب پر فخر ہے انہیں اشوک اور چولا حکمرانوں پر بھی فخر کیوں نہیں ہے؟ ایسے چند مسلمان جنہیں صرف لال قلعہ اور تاج محل پر فخر ہے، انہیں اسلام سے دو ہزار رس قبل کے ہڑپا اور موہن جوداڑو کی نہایت ہی متاثر کن ٹاؤن پلاننگ پر بھی اتنا ہی فخر کیوں نہیں ہے؟

بھارت کے سیکولرازم میں متعدد کمیاں اور کمزوریاں رہی ہیں۔ خاص طور سے فرقہ وارانہ فسادات میں فسادیوں کو سزا نہیں دی گئ ہے۔ ہمارے ملک کا کریمینل جسٹس سسٹم نہایت ہی کمزور رکھا گیا ہے۔ لیکن ان کمزوریوں کے باوجود، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، اور حکومت سے امداد پانے والے اقلیتی تعلیمی اداروں کی ایک بڑی تعداد نے مسلم مڈل کلاس تیار کرنے میں تعاون کیا ہے؛ خدا بخش لائبریری سے تاریخ کو مسخ کرنے والی مسموم تاریخ نویسی کے خلاف سیمینار اور کتابیں شائع ہوئی ہیں، اردو اکیڈمیاں چلتی رہی ہیں، لہذا ایسی متعدد مثالوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے، مسلم آبادی کو چاہئے کہ انڈین نیشن اسٹیٹ سے ان کا جو جو رشتہ ہے اسے کمزور کرنے کے بجائے توانائ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

کچھ ایسی ہی بات پیٹر ہارڈی نے 1972 میں اپنی کتاب کے اختتام میں لکھی تھیں، جس کا اقتباس مذکورہ بالا سطور میں پیش کیا گیا، اور اس کا ایک حصہ پھر سے پیش کیا جاتا ہے:

“ہندوستانی مسلمان ہنوز اسی تذبذب کے شکار ہیں کہ کیا وہ اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہوئے کسی سیکولر ریاست کے وفادار شہری بنے رہ سکتے ہیں یا نہیں۔ آزاد ہندوستان کے مسلمانوں کو، وقت کے ساتھ، یہ حکمت عملی تیار کرنی ہوگی کہ اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے کثیرالمذاہب معاشرے میں جینے کا ڈھنگ کیا ہونا چاہئے۔ آزادی کے 25 برس بعد تک یہ لائحہ عمل تیار نہیں ہو پایا”

یہ تیکھے سوالات ہیں، لہذا شدید طور پر متنازعہ بھی ہیں۔ ایسے سوالوں پر سنجیدہ بحث ممکن ہے یا نہیں؟ خود احتسابی کے یہ سوالات مناسب ہیں یا نہیں؟ ایسے تمام سوالات مناسب جواب کے متقاضی ہیں۔

لب پر ہے تلخئ مے ایام ورنہ فیض
ہم تلخئ کلام پر مائل ذرا نہ تھے

امید ہے، ایسے تبادلۂ خیال، مذاکرے اور مباحثے مناسب حکمت عملی تیار کرنے میں معاون ہوں گے۔